خواجہ غلام فرید (1901۔1844)
پنجاب میں صوفیانہ مسلک چشتیہ کے احیاء کا سرا خواجہ نور محمد مہاردی کے سر ہے ۔ یہاں مٹھن کوٹ کے مرکز کے نگران خواجہ محمد عاقل تھے جو خواجہ نور محمد مہاروی کے خلفیہ اور خواجہ غلام فرید کے جد امجد تھے ۔ خواجہ فرید 1844ء میں یہیں پیدا ہوئے ۔ خواجہ فرید کے والد کو سجادہ نشینی کے بعد بہاول پور کے نواب سکھوں کے عہد حکومت میں مٹھن کوٹ سے اپنی ریاست میں لے آئے اور انہوں نے چاچران نامی گاؤں میں رہائش اختیار کر لی ۔ خواجہ غلام فرید کے بڑے بھائی خواجہ غلام فخر الدین نے ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی اہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی علوم سے بھی بہرہ ور کیا ۔ خواجہ فرید اپنے انہی برادر بزرگ کے مرید ہوئے اور عبادات اور ریاضتوں میں غرق ہو گئے ۔ اٹھائیس برس کی عمر میں برادر و مرشد کے انتقال کے بعد صاحب سجادہ ہوئے مگر سجادگی کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے گوشہ نشینی اختیار کرنے کو ترجیح دی ، نامی صحراو بیابان کا رخ کیا اور کم و بیش اٹھارہ برس تک بیابانوں کو آباد کرتے رہے ۔
وہ اپنی شاعری میں روہی کو ہی اپنا گرادنتے ہیں ۔ ان کا کلام عشق مجازی تجربے کی دلالت کرتا ہے ۔ ان کی کافیوں میں انسانی حوالوں کے ساتھ عشق کی درماندگیاں ، ہجر کا سوز ، وصال کی آرزو ، انتظار کا کرب ، محبوب کی جفا ء بے نیازی اور ستم پسندی کے تذکرے جا بجا ملتے ہیں ۔ لیکن اگر ان کے کلام کو بغور پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا عشق محض عشق مجاز نہ تھا بلکہ اس نے اطلاق کا رنگ بھی اختیار کر لیا تھا ۔ پوری کائنات میں سمٹ آتی تھی اور اس نے ان کے حوالہ جاتی نظام کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا تھا ۔
عشق مجازی عشق حقیقی تک سفرانہوں نے وحدت الوجود کی مدد سے طے کیا تھا۔ محبوب کی جستجو اور دوئی کو ختم کرنے کا شدید جذبہ اس فلسفے کے بنیادی اوصاف ہیں وہ اس فلسفہ کی بنیاد پر سطامی ، حلاج اور ابن عربی کے بے حد مداح تھے لیکن انہوں نے انسانی خودی کی نفی کو روحانی معراج قرار نہیں دیا ۔ ان کے ہاں فرد کی آزادی اور خود اعتمادی برقرار رہتی ہے ان کے نزدیک یہ آدرش اس وقت حاصل ہوتا ہے جب خودی استحکام حاصل کرتی ہے اور اپنی تکمیل کرتی ہے ۔
بے معنویت کے احساس بھی خواجہ فرید کو دنیا کی بے ثباتی ، انسانی وجود کی لغویت اور موت کی بالادستی قبول کرنے پر مجبو رکرتی ہے لہذا وہ باہو اور بھٹائی کی طرح رہبانیت پسند نہ ہوتے ہوئے بھی یہ درس دیتے ہیں کہ زندگی عاضی ہے اس کے حاصلات بے معنی ہیں کایابیاں غیر اہم ہیں اور موت ہر شے کو مٹا دیتی ہے خواجہ غلام فرید کی وفات 1901ء میں ہوئی ۔
شاعری کا اردو ترجمہ
کیا دل کا حال سناؤں
کوئی محرم راز نہ پاؤں
صحراؤں کی مٹی چھانی
سب نام اور ننگ گنوایا
کوئی پوچھنے پھر بھی نہ آیا
الٹا جگ سارا ہنستا ہے
ہے بوجھ فراق کا بھاری
ہوئی شہر بہ شہر خواری
روتے ساری عمر گزاری
نہ پتہ چلا منزل کا
دل تڑپے یار کی خاطر
اور تڑپ تڑپ غم کھائے
دکھ پائے رنج اٹھائے
ہے طور یہی اب دل کا
کئی وید حکیم بلائے
سو وارو گھول پلائے
پر دل کا بھید نہ پائے
ہوا فرق نہیں اک تل کا
’
” پنوں “ ہوت نے بات نہ پوچھی
مجھے چھوڑ کے کیچ سدھایا
سب جانتے مجھے رولایا
میں نے اونگھ کا عذر نبھایا