ادب >> علاقائی ادب >> پشتو ادب >> خوشحال خان خٹک
ادب
خوشحال خان خٹک (1613-1689)

راشد متین
خوشحال خان خٹک نوشہرہ کے نزدیک ۱کوڑہ نامی قصبے میں پیدا ہوئے وہ خٹک قبیلے کے سربراہ تھے۔ اور انہوں نے کچھ عرصہ کے لئے مغلیہ حکمرانوں کے لئے بھی خدمات سرانجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں حربی شاعر کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جنگی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے قلم کو بھی تلوار کی طرح استعمال کیا۔ اور اپنے گردا گرد پھیلی ہوئی دنیا میں اپنے افکار کی جڑیں مضبوط کرتے رہے۔ مغل بادشاہ شاہ جہان نے انہیں اپنے ایک فوجی دستے کا سالار مقرر کیا اور انہوں نے بلخ، بدخشاں اور کانگڑہ کی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بعد ازاں وہ اور نگزیب کے ساتھ منسلک ہو گئے اور لاتعداد مہمات میں شامل رہے ۔خوشحال خان خٹک مروجہ دینی اور دنیاوی تعلیم سے آراستہ تھے ۔ان کی شعری تخلیقات میں ہندو ستان کے عصری تخلیقی ادب کی تمام ترخصوصیات واضح طور پر نظر آتی ہیں ۔
ان کی شعری تخلیقات کو تین ادوا ر میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔ ابتدائی شاعری روحانی تفکرات سے پر ہے۔ قیدی کی حیثیت سے لکھی گئی نظمیں حقیقی زندگی کے مختلف ادوار کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہیں اور اس کے بعد کے دور کی نظمیں صوفیانہ انداز میں مذہبی جذبات کی ترجمانی کرتی ہیں۔ان کی شاعری میں قبائلی روایات وانداز کے ساتھ ساتھ اخلاقی ، فطری اور انسانی حسن کی ترجمانی جا بجا نظر آتی ہے۔ روحانی تجربات اور آزادی پر مبنی موضوعات کو انہوں نے اپنے پرقوت انداز میں اس طرح ادا کیا کہ ان کی شاعری عوام الناس میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرتی نظر آتی ہے۔ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ان کے گیت آج بھی حجروں اور چوپالوں میں اپنی تانیں بکھیر رہے ہیں۔ پشتو جاننے والا ہر شخص اپنے سینے میں خوشحال خان خٹک کی شاعری کا کچھ نہ کچھ حصہ لازمی طور پر سنبھالے بیٹھا ہے۔ خوشحال خان کی شاعری میں عربی الفاظ واصطلاحات محض قرآن کے مطالعہ سے ہی نہیں آئے بلکہ ان کا گہرا مطالعہ ،عربی کے ساتھ ساتھ فارسی زبان کی بے ساختہ شعری تعلیمات کو بھی اپنی شاعری میں لے آیا۔ ان کی شاعری میں زباندانی کے تجربوں کے ساتھ ساتھ سر اور لے میں ہم آہنگی بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے عربی شاعری کی صنف بیت کو زیادہ تر اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ جو کہ نہ صرف پشتو زبان میں بلکہ لا تعداد دوسری زبانوں میں بھی بے پناہ مقبول ہے۔ اگرچہ جنگ وحرب ان کا پیشہ تھا لیکن شاعری جیسے نازک جذبے کو انہوں نے اپنے آپ سے الگ نہیں ہونے دیا۔
اورنگزیب ہی کے زمانے میں شہنشاہ نے یوسف زئی قبائل کو زیادہ ترجیح دینی شروع کر دی اور خوشحال کو گرفتار کر کے جئے پور کے قلعہ میں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ قید و بند کی صعوبتوں کے بعد خوشحال خان خٹک کی تمام تر زندگی مغلوں کے خلاف مہمات میں بسر ہوئی اور انہوں نے پشتون قبائل کو متحد کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کی اس دور کی نظمیں بادشاہی نظام کے خلاف اور قبائل کے اتحاد کے لئے جدوجہد پر مبنی مضامین مشتمل ہیں۔اسی دور کی نظموں میں پشتون تشخص کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقیات، تصوف ، اقدار اور روایات پر مبنی ان کی شاعری آج تک زبان زدِ خاص وعام ہے۔ خوشحال خان خٹک نے جلا وطنی کے عالم میں۱۶۸۹ء میں وفات پائی اور اپنے پسندیدہ گاؤں سرائے ۱ کوڑہ میں دفن کیے گئے۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.