قلندر مومند نے پشتو ادب کے فروغ کیلئے کام کیا، مبارک احمد مبارک
پشتو اور اردو کے معروف شاعر، انجینئر مبارک احمد مبارک نے کہا ہے کہ تمام زبانوں میں لکھا جانے والا ادب، زندگی کا ترجمان ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”جرس ادبی جرگہ“ کی جانب سے پشتو زبان کے ممتاز شاعر اور دانشور قلندر مومند کی یاد میں منعقدہ مجلس مذاکرہ کے موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ قلندر مومند کا شمار پشتو زبان کے نمائندہ شعراء میں ہوتا ہے۔ انہوں نے تمام زندگی پشتو زبان و ادب کے فروغ کیلئے کام کیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی روایات کو آگے بڑھایا جائے۔ امین خٹک نے کہا کہ قلندر مومند کی علمی اور ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے بنائے ہوئے راستے پر چلنا بھی ہمارے لئے باعث اعزاز ہے۔ طاہر آفریدی نے کہا کہ قلندر مومند شاعر ہی نہیں، بہترین ادیب اور افسانہ نگار بھی تھے۔ ان کی تحریروں میں ترقی پسندانہ فکر نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے تمام زندگی لکھا۔ ان کی تمام تحریریں پشتو ادب کا گراں قدر سرمایہ ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ ”جرس ادبی جرگہ“ کی طرف سے ہر سال ان کی برسی کے موقع پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا جائے گا جس میں تمام زبانوں کے دانشوروں سے شرکت کی درخواست کی جائے گی۔ نظامت کے فرائض ماخام خٹک نے انجام دیئے۔ ریاض تبسم، سلام رودباری، ماخام خٹک، آفاق آفریدی، وصال مومند، سرور شمال اور عمر گل نے قلندر مومند کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔