اس سے پیشتر کہ بلوچی ادب کے موجودہ خدوخال اجاگر کیے جائیں، مناسب ہوگا کہ بلوچ قوم کی تاریخی قدامت کا حوالہ دیا جائے۔ محققین نے ابھی تک جتنی تحقیق کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بلوچ قوم نسلاََ آرین ہے۔ پانچ سو سال قبل مسیح اس کا مرز بھوم بحیرہ کیسپین کے جنوب مشرقی ساحل کے آس پاس تھا۔ ان کی معیشت کا دا رومدار زیادہ ترمالداری پر تھا۔ جب اس خطے میں ذریعہٴ گزران میں دِقت ہوئی، وہ مشرقی وسطیٰ کی جانب نقلِ مکانی کر کے پہلے شام کے علاقے حلب میں نوشیروان سے بھی بہت پہلے کوہ البرّ زمیں پھیل گئی جس کی گواہی شاہنا مہ فردوسی نے بھی دی ہے۔ اس نقل مکانی کی ایک جھلک اس نظم میں بھی نظر آتی ہے۔ جسٹس میرخدا بخش بجرانی مری پانی کتاب ” قدیم بلوچی شاعری“ میں لکھتے ہیں:۔
مامریدوں یا علی دین وایمان سیوتیں
حمزہ ءَ اولاد بلوچ انت سہب درگاہ ءَ گورء انت
اچ حلب ءَ پادکاؤں گوں یزیدء جھڈوانت
کلبلابھنپورِ نیام ءَ شہر سیستان منزل !انت ا۔
ترجمہ:
”ہم حضرت علی کے پیروکار ہیں، دین اور ایمان میں کامل ہیں، حمزہ کی اولاد بلوچ کو ہر آن فتح ونصرت ملی ہے۔ ہم حلب سے نقل ِ مکانی کر کے آئے کہ حضرت حسین کی حمایت میں یزیدسے مخالفت تھی۔ کربلا اور بھنپورے کے درمیانی علاقے میں آباد ہو ئے۔“
جسٹس میرخدا بخش بجارانی اس نظم کی تشریح اپنی ایک اور کتاب ” بلوچستان تاریخ کے آئینے میں “ میں اس طرح سے بیان کرتا ہے کہ اس دور کے بعض خانہ بدوش عرب قبیلوں کی طرح بلوچوں کی ایک بڑی شاخ بھی شام حلب کے گردونواح میں مقیم تھی۔ چونکہ وہ سامی النسل تھے، اس لیے ان میں کچھ کرمان میں رہائش پذیر ہو گئے اور ۶۴۳ ء میں عربوں سے ان کی ملاقات ہوئی۔ بلاذری کہتا ہے کہ عربوں سے جنگ اور شکست کے بعد کرمان کے یہ بلوچ یا القفص یا ان کے کچھ ساتھی سیستان اور مکران آگئے تھے۔ غالباََ یہ ان کی پہلی ہجرت تھی۔ حالات کر بلا کے بعد شام سے مشرق کی جانب بلوچوں کی دوسری ہوگی۔ اس نظم کے حوالے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ بلوچوں کی تاریخی قدامت ، معاشرتی، سماجی، معاشی اور ثقافتی ہر طرح کی سرگرمیاں جنگوں ، معاشقوں رسوم وروایات کا مآ خذ قدیم شاعری ہے۔ ادب کی کوئی اور صنف ماسوائے لوک کہانیوں کے اب تک اس دور کے حوالے سے دستیاب نہیں۔ اس لیے بلوچی ادب کے تمام خزائن اسی قدیم شاعری میں پو شیدہ ہیں جسے دورِاول اور دورِثانی کے زمانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دورِاول اپنی ابتدا سے اس عہد تک پھیلاہوا ہے جبکہ مدرسوں سے عربی فارسی کی تحصیل کر کے شعراء نے دوسرے دور کا آغاز کیا۔ چنانچہ پہلے دور میں معلوم شعراء کی صف میں شئے کلاں، شئے عیسیٰ، شئے مرید، بیبرگ رند مکران کے حکمرانوں میں حمل جیند کلمتی ، میرقمبر وغیرہ کے نام آتے ہیں۔ حضرت مست توکلی نے ایک قطعہ میں ہمیں بتایا ہے کہ :۔
آسے کلان ءِ بالتہ
شئے عیسیٰ ءَ دھو دھوکتہ
جام درک ئَپُر پُھو کتہ
ماپہ ہوا اڑاں نشتخوں
ترجمہ: یعنی شاعری کی آگ شئے کلاں نے سلگائی ، شئے عیسیٰ اس کے دھوئیں کا موردرہا۔ جام درک نے بجھی ہوئی آگ کی راکھ پھونک کر ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم اس کے شعلوں پر ہاتھ تاپ رہے ہیں۔
قدیم شاعری کا حوالہ محض تسلسل برقرار رکھنے کے لئے دیا ہے۔ مکتبہ درخانی اور جدید دور کی ادبی مساعی وکاوشیں ہمارے موضوع سے متعلق ہیں جو بلوچی ادب کے پچاس سالوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ قیام ِپاکستان کے ابتدائی سالوں تک ایسے شاعر بقیدِ حیات تھے جو کہ بلوچی کی بجائے اردووفارسی میں شعر کہتے تھے۔ ان میں سید ہاشمی ، محمد حسین عنقاء عبدالصمد شربازی، میرگل خان نصیر اور کئی نامور بلوچ شعراء تھے۔ میر گل خان نصیر بھی ابتدائی زمانے میں اردو اور براہوی میں سخن سرار ہے۔ براہوی میں ان کی ایک مثنوی” مشہد ناجنگ نامہ “ بہت سے اصحاب کی نظر سے گزری ہے۔ میر گل خان نصیر نے ایک ادبی انٹرویو میں جو انہوں نے ۱۹۸۲ء میں ماہنا مہ زمانہ بلوچی کے مدیر کو دیا تھا، اس تبدیلی کی وجہ ایک سیاسی واقعے کو قرار دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ”پشاور میں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کا ایک جلسہ ہو رہا تھا جس میں ملک کے طول وعرض سے چیدہ چیدہ سیاسی رہنما اور شعرا ء شامل ہوئے۔ جلسہ کے اختتام پر ایک مشاعرہ ترتیب دیا گیا۔ ہر شاعر اپنی علاقائی زبان میں آکر پڑھتا اور خراجِِ تحسین وصول کرتا ہے مجھے بڑی مدامت ہوئی کہ میرے پاس بلوچی کلام نہیں تھا۔، اس روز میں نے تہیہ کر لیا کہ آئندہ بلوچی ہی میں میرااظہار ہوگا۔“ میرگل خان نصیر نے ۱۹۴۰ء کے بعد جو شاعری کی ، وہ ۱۹۵۹ء میں گلبانگ کی زینت بنی۔ یہ بلوچی میں جدید ادب کی ابتداء ہے۔ اس سے پہلے بلوچ ایجو کیشنل سوسائٹی کراچی کے زیر اہتمام مولانا خیر محمد ندوی نے ایک ماہنامہ ” اومان “ جاری کیا تھا۔ جس میں اردو کے ساتھ کچھ نظم ونثر بلوچی میں بھی شائع کرتے ۔ یہ وہ مضامین نظم ونثر تھے جو ریڈیو پاکستان کراچی سے ان کی سرپرستی اور نگرانی میں نشر ہوتے تھے۔ اومان کو بعض مالی دشواریوں نے زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہنے دیا۔ تاہم بلوچی زبان کا ادب کئی سینوں میں مچلتا رہا۔
۱۹۵۶ء میں آزاد جمالد ینی نے کراچی سے ماہنا مہ ”بلوچی “ کا اجراء کیا۔ یہ رسالہ بھی بمشکل ڈیڑھ سال تک جاری رہا۔ مگر اس نے بلوچوں میں ذوق وشوق کو اس طرح مہمیز کر دیا کہ لکھنے والوں کی ایک قابلِ قدر جمعیت پیدا کی۔ ان میں شاعر بھی تھے، افسانہ نگار بھی، ڈرامہ نویس بھی اور دبے لفظوں سے تنقید کرنے والے بھی تھے۔ آزاد جمالدینی میں دو بڑے اوصاف تھے۔ وہ بلوچی زبان کی ترقی اور ترویج کو ایک طرح کی عبادت گردانتے تھے۔ خود اچھے شاعر تھے، نئے لکھنے والوں کی اصلاح اور اُن کی دلجوئی بھی کرتے تھے۔ کراچی میں ان کے علاوہ شعراء میں سعید ہاشمی، مراد ساحرا، اکبر بار کزئی، قاضی عبدالرحیم صابر، قاسم ہوت، احمد زہیر، مرا دو آورانی سخن گوئی کے میدان کے شہسوار بنے۔ جبکہ نثر نگاروں میں عبداللہ جان جمالد ینی، محمد بیگ ، سید ہاشمی، رفیق قادری، اجان اللہ گچکی، میرشیر محمد مری، ملک محمد طوقی، اشرف سربازی، اور ملک محمد سعید نے بلوچی ادب کو نئے نئے مضامین اور موضوعات سے متعارف کرایا۔ماہنامہ بلوچی بھی مالی مسائل میں مبتلاہو کر ۱۹۵۸ء بند ہو گیا اور ریڈیو پاکستان کراچی کوبلوچی پروگرام ۱۹۵۹ء میں کوئٹہ منتقل ہوا۔ ریڈیو پاکستان کوئٹہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس ادارے نے علاقائی زبان کی ترقی اور ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ایک ایک چراغ سے کئی چراغ روشن ہوئے۔ اس پر مستز ادیہ کہ خوشی قسمتی سے ۱۹۶۱ء میں محکمہ ٹرائیبل پبلسٹی نے بلوچی اور پشتو کی ضرورتوں کے تابع ”اُلس“ کے رسائل جاری کیے۔ بلوچی اُلس کی ادارت امان اللہ گچکی کوتفویض ہوئی۔ انہوں نے پبلسٹی کے ساتھ ساتھ اس میں ادبی رنگ آمیزی کی۔ اسی دوران بلوچی اکیڈمی کا قیام بھی عمل میں آیا۔ یہ تین ادارے ایک دوسرے کی معاونت سے بلوچی ادب اور ترویج و اشاعت میں ہمہ تن مشغول رہے۔ ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے جو کچھ نشر ہوتا، وہ اُلس کا مواد بنتا اور پھر بلوچی اکیڈمی سے کتابی صورت میں ادب کے سرمائے میں اضافے کا باعث بنتا ۔
بلوچی زبان کے ادباء امان اللہ گچکی ، بشیر احمد بلوچی ، عطا شاد، کریم دشتی، صورت خان مری ، پیر محمد زبیر انی، ملک محمد طوقی، میرز اطاہر محمد خان ، ملک محمد پنا، میر محمد سردار خان ، غوث بخش صابر، میرگلز ارمری، عزیز محمد بگٹی، محمد خان مری، غنی پروز، میرمٹھا خان مری اور بیسیوں دوسرے لکھنے والوں نے نہایت محنت اور ذوق وشوق سے اتنا کچھ لکھا کہ کئی سالوں تک ان اداروں کومواد کی کمی کا شکوہ نہ رہا۔ بلوچی زبان میں نظم ونثر کے ساتھ ساتھ اردو، انگریزی میں بلوچی ثقافت، تاریخ بودوباش اور قدیم شاعری کے متعارف کرانے میں تحقیق وترویج میں ڈاکٹر انعام الحق کو ثر، انور رومان ، کامل القادری کے نام نمایاں ہیں۔ یہاں ایک بار پھر بلوچی زبان کے محسن ِ اعظم آزاد جمال د ینی کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ ان کی معاونت سے جناب عبدالکریم شورش نے ”نوکیں دور“ کا اجراء کیا۔ یہ ہفتہ روزہ اخبار کم، میگزین زیادہ تھا۔ اسے مختلف اوقات میں بلوچی لکھنے والوں کا تعاون حاصل رہا۔ آزاد جمال دینی کے علاوہ کامل القادری، عطاشاد، صورت خان مری، اور غوث بخش صابر کی اس ہفتہ روزہ سے وابستگی رہی، جن لوگوں نے نوکیں دور کے خاص نمبر خصوصاََ ”مکران نمبر“ دیکھا ہوگا، وہ تصدیق کر یں گے کہ اس ہفت روزہ کا ایک علمی مقام تھا۔
سید فصیح اقبال کو بلوچی زبان سے بڑی محبت ہے۔ اس کا اظہار انہوں نے متعدد مرتبہ اپنے عملی طور پر بھی کیاہے۔۱۹۷۰ء کی دہائی میں کراچی سے ”زمانہ بلوچی “ پندرہ روزہ کی شکل میں منظرِ عام پر آیا تو فصیح اقبال صاحب کی زبان دوستی پر مہر تصدیق ثبت ہوئی۔ زمانہ بلوچی کی ادارت جناب صدیق آزاد، ظفر علی ظفر کے ذمے رہی۔ اس پندرہ روزہ کی تاریخی خدمات کو ہر گز بھلا یا نہیں جا سکتا ۔ کراچی سے کوئٹہ منتقل ہونے پر اس کی ادارت اثیر عبدالقادر شاہوانی کرتے رہے۔ ۱۹۸۲ ء میں زمانہ بلوچی عبدالقیوم بلوچ کی صدارت اور سرپرستی میں کئی سالوں تک زبان وادب کی خدمت کرتا رہا۔ بلوچی رسائل وجرائد کے زمرے میں مولانا خیر محمد ندوی کے ”سوغات “ مولانا نور احمد فریدی اور چاکر خان بلوچ کے ”بلوچی دنیا“ ممتاز یوسف کے” آساب “ غلام فاروق کے” بلوچی لبز انک “ زند مان ، چراگ اور چاگردنے قابلِ لحاظ ادبی مواد فراہم کیا۔ جب بھی بلوچی زبان وادب کی تاریخ رقم ہوگی، ان باوقار رسائل اور جرائد کے حوالوں کے بغیر مکمل نہ ہوگی۔
بلوچی زبان اور ادب کی خدمت کے ضمن میں کوئٹہ سے ”بلوچی “ کے دور ثانی اور دور ثالث کی خصوصی اہمیت ہے۔ ۱۹۷۸ء میں آزاد جمالد ینی نے ” ماہنامہ بلوچی “ کے باردوم کا اجراء کیا۔ پیرانہ سالی اور وسائل کے فقدان کے صبر آزما مراحل میں بھی آزاد جمالد ینی نے ہتھیار نہیں ڈالے اور اسی رسالے کی زندگی اور بقاء کے لئے اپنی زندگی وقف رکھی۔ آزاد کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ان کے ہم فام قوم پر ست اور زبان دوست عبدالوحد بند یگ نے ” بلوچی “ کو جاری رکھا۔ اور گذشتہ چودہ سالوں سے زبان وادب کی خدمت میں یہ واحد رسالہ ہے جو سرفروشانہ میدان عمل میں موجود ہے۔ بلوچی زبان وادب کی ترویج واشاعت میں بلوچستان میں صوبہ سندھ کے کراچی سے متعدد ادبی اداروں نے اپنی بساط بھر خدمت کی ہے۔ اس کی ابتدا بلوچی اکیڈمی کراچی سے ہوئی۔ کراچی کی ادبی شخصیات میں اکبر بار کزئی ، مراد ساحر، شیر محمد مری، محمد زہیر، محمد بیگ کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ اہل حکم کی جبین کی شکنوں کو خاطر میں نہ لا کر ان زبان دوستوں نے اس ادارے کی جانب سے بلوچی میں کتابیں چھاپیں، گیت لکھے، میدان ادب میں لکھنے والوں کو موقع دیتے رہے۔ وسائل کی عدم دستیابی بلوچی زبان وادب کا ہمیشہ سے مقدر رہی۔ اسی فقدان نے بلوچی اکیڈمی کراچی کو ایک اور جنم لینے پر مجبور کیا۔ ۱۹۶۱ء میں بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کا قیام عمل میں آیا۔ بلوچستان کی اس وقت کی حکومت نے ایک حقیرسی رقم سالانہ منظور کی مگر بلوچی زبان و ادب کے سپاہیوں نے اس محاذ پر پسپا ہونا نہیں سیکھا تھا۔ محمد سردار خان گشکوری، حاجی عبدالقیوم بلوچ، بشیر احمد بلوچ، طاہر محمد بلوچ، صورت خان مری، عزیز بگٹی، عطا شاد، ملک محمد پناہ، پیر محمد زبیرانی، محمد مری، میرگلزار خان، حاجی محمود مومن بزدار، غوث بہادر اور کئی دوسرے اہلِ قلم نے اس ادارے سے وابستہ رہ کر بلوچی زبان وادب کے ذخیرے میں شایانِ شان اضافہ کیا۔ ہر موضوع پر کتابیں تصنیف وتالیف کیں۔ بلوچی زبان ادب ثقافت اور تاریخ پر لامتناہی تحقیق وتسوید کا سلسلہ جا ری ہے۔ اب اس ادارے کے فنڈ میں حکومت بلوچستان نے اضافہ بھی کیا اور اس ادارے سے دو سو سے اوپر کتابیں چھپ چکی ہیں۔ بلوچی زبان کی ڈکشنری بھی سائنٹیفک طریقے سے چھاپی جا رہی ہے۔
کراچی میں قائم ادبی اداروں کی فہرست بھی حوصلہ افزا ہے جہاں سید ہاشمی اکیڈمی، فاضل اکیڈمی، بلوچی ادبی بورڈ، آزاد جمالد ینی اکیڈمی اور بلوچی ادبی پٹ پولی انجمن کئی اور ادارے مصروفِ عمل ہیں جبکہ بلوچستان میں خضدار کے مقام پر رابعہ خضداری اکیڈمی مکران میں تربت فاضل اکیڈمی، بلوچستان اکیڈمی لبز انکی سرچمگ اور پنجگور میں عزت اکیڈمی زبان وادب کی ترویج واشاعت میں سرگرم عمل ہیں۔ اداروں کے ذکر میں دو تین لکھنے والوں کی کاوشوں کا ذکرنا گریز ہے۔ اگر چہ وہ تنہا افراد تھے اور ہیں مگر انہوں نے اداروں سے بھی بڑھ کر کام کیے اور بلوچی زبان وادب کی کسی جہت کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ بلوچی زبان وادب ، سید ہاشمی، میر گل خان نصیر، میر مٹھا خان مری، غوث بخش صابر کی خاموش خدامت سے گراں بار ہے۔ سید ظہور شاہ ہاشمی جب تک وطن میں رہے، بلوچی زبان وادب کے ایک گھنے درخت کی مانند تھے۔ اپنی صحت، اپنی زندگی، اپنے گھروالوں کا خیال کیے بغیر جس قدر اثاثہ پایا، ادب کی خدمت میں لٹایا۔ کیا شاعری ، کیا نثر ، کیا نصاب ہر طرح سے بلوچی ادب کو مالا مال کیا، ان کی تصانیف وتالیفات اور ان سب پر مستزاد ’‘ سید گنج “ لغات کہ اس گنجینہٴ ادب کے منظر عام پر آنے کے لئے اہلِ نظر منتظر تھے، اب وہ مارکیٹ میں آچکی ہیں۔ میر گل خان نصیر ایک اور نابغہٴ روزگار تھے کہ تاریخ، سیاست ، ثقافت، اشعار، ادب، فکروفن کے شعبہ کو تشنہ نہیں رہنے دیا۔سید ہاشمی تپ دق کے موذی مرض سے نبرد آزما رہے۔ میر گل خان نصیر زندان کی صعوبتوں کا شکار ، مگر تخلیق و تخقیق دونوں کا شعار، ابھی نہ جانے اور کتنے گنج ہائے گراں مایہ میر گل خان نصیر کے خزینے میں منتظر اشاعت ہیں۔ یہی حال میر میٹھا خان مری کا ہے کہ انہوں نے خرابہ ہستی کا سینہ کرید کر مست تو کلی، رحم علی، اقبال اور رفتگان شعرو ادب کو بلوچی اور اردو میں روشناس کرایا۔ غوث بخش صابر نے اب تک ۳۷کتابیں بلوچی زبان وادب کے ذخیرے کو بخشی ہیں۔ عطا شاد، صورت خان مری ، بشیر احمد بلوچ، آغا نصیر ، میر شیر محمد مری، ملک طوقی، پیر محمد زبیر انی، حاجی عبدالقیوم بلوچ ، الفت نسیم، مبارک قاضی، حاجی عنایت اللہ قومی، بشیر بیدار، پروفیسر صباد شتیاری، غنی پرواز ، غوث بہر، فقیر محمد عنبر ، فضلِ خالق غرض کہ سینکڑوں قابل ِ احترام نام ہیں جن کے روشن کیے ہوئے چراغ بلوچی ادب کے مستقبل کی راہ روشن کیے ہوئے ہیں۔ ان میں خواتین کا نام نہ لینا نا انصافی ہوگی۔ گوہر ملک، بلوچی افسانہ نگاری طنزومزاح اور تراجم میں کام کر چکی ہیں۔بانل دشتیارینے کالم نویسی، انشائیہ اور طنز مزاح پر مضامین لکھے ہیں اور خود شاعرہ بھی تھیں۔ بلوچی تحقیق میں خواتین میں پہلی بلوچی ایم اے ، ایم فل ، اور PhD کا اعزاز بھی مجھے(زینت ثناء) حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ط روحی بخاری ترجمہ کرتی ہیں۔ ذکیہ سردار کی کتاب سرمست بلوچستان ، بشری قیوم طاہرہ بلوچ، راشدہ بلوچ، صبیحہ مینگل ، ماجبین بلوچی شاری کے علاوہ مضامین بھی لکھتی رہتی ہیں۔ عین عین دشتی کو افسانہ نگاری پر دسترس تھی۔ لیکن ایک اہم بات یہ بھی بتانا چاہوں گی کہ قیام ِپاکستان کے بعد کچھ بلوچ مرد خواتین کے لیے موئنث ناموں سے بھی لکھتے تھے۔
ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے آنے سے ڈرامائی ادب کو جوداستانوں کی وجہ سے پہلے بھی ایک صنف کے طور پر سینوں میں جاگزین تھا،مزید تقویت ملی، اس صنف کو عطا شاد، عبدالحکیم بلوچ، امان اللہ گچکی، عبدالخالق بلوچ، منیر احمد بادینی نے چار چاند لگائے ۔ الیکٹرانک میڈیا بھی بلوچی زبان وادب کی ترقی وترویج میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ خصوصاََ حال ہی میں ۱۴۔اگست سے پی ٹی وی بولان کے نام سے چینل کا افتتاح وزیر اعظم پاکستان نے کیا ہے۔ اس میں ڈراموں کے ساتھ ساتھ ادبی بحث ومباحثے اور دوسرے موضوعات پر مبنی گفتگو بھی شامل ہے۔ جس سے یقیناََ مستقبل میں مثبت تبدیلی کے امکانات روشن ہوں گے۔ جبکہ ڈاکٹر نعمت اللہ گچکی ، غوث بہار، غنی پرواز، منیر احمد بادینی، منیر عیسیٰ صورت خاں مری، میر عبداللہ جمالد ینی نے افسانوی ادب کی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ بلوچی ادب اپنے پچاس سال پورے کر چکا ہے۔ جناب میر عاقل خان مینگل کی تحقیق وتنقید ، کریم دشتی کے جواہر ریزے وادبز دار، غنی پہوال، عابد آسکانی ، محمد بیگ بلوچ کے تنقیدی مضامین اور دوسرے نقادوں کی رہنمائی بلوچی ادب کے حق میں نہایت نفع بخش ثابت ہو رہی ہے۔ مزیدار اکیڈمک حوالے سے بلوچی زبان وادب کو C.S.S میں ایک امتحانی پر چے کی حیثیت حاصل ہے۔ بلوچستان بورڈ میں سکولوں میں دوپرچے مڈل کے امتحان میں اور نویں اور دسویں کلاس میں تقریباََ دو سو نمبروں کے پر چوں کا اجراء زبان وادب کی ترقی کا باعث بنا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچی فاضل ادیب اور عالم کے امتحانات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ زبان کی ترقی میں ان امتحانوں کا ہونا بہت اہم ہے۔ بلوچی فاضل پاس کرنے والے کو B.A صرف انگلش اور پاک سٹڈیز کا پرچہ پاس کرنے پر گریجوایشن کی ڈگری دی جاتی ہے۔ B.A میں مزید بلوچی آپشنل کا پرچہ ڈویژن کو بہتر بنانے کے لیے بھی رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کالجوں میں B.A Elective میں دو سو نمبر کے دو بلوچی پر چے B.A ہیں۔ 1996ء میں سابقہ گورنر بلوچستان نواب محمد خان بگٹی کے دور میں پرائمری کی سطح پر بلوچی زبان میں پڑھانے کا رواج ہوا جو کہ تقریباََ دو سال تک جاری رہا لیکن بعد میں اسے بند کر دیا گیا کیونکہ یہ سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اگر اِس وقت تک یہ جاری رہتا تو تقریباََ مڈل پاس سٹوڈنٹ آگے کی تعلیم کو بہتر طریقے سے حاصل کر سکتے تھے۔ بہر حال یہ ہمارے صوبے کی بد قسمتی ہے یا ہمیں سیاست دان ایسے ملتے رہے ہیں جن کی وجہ سے ہم عوام کے لئے تعلیم پر خرچ کی مقدار یہاں آٹے میں نمک کے برابر رہی ہے اور زبانوں سے ہمیشہ نفرت ان کے دلوں میں جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔ اس لیے تو خان قلات کے دربار اور دفتر کے کھاتوں کی زبان فارسی تھی۔ قیام ِپاکستان کے بعد ان پچاس سالوں میں جتنا کام بلوچی زبان وادب میں ہوچکا ہے، خانی دور میں ان تین سو سالوں میں اگر فارسی کی بجائے بلوچی زبان کو درباری اہمیت دی جاتی تو اس زبان کی شناخت شاید صوبائی کی بجائے قومی اور انٹر نیشنل ہوتی۔