کامیلو جوز سیلاٹرولاک کو 1989ء میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ وہ سپین کے ایسے ادیب گزرے ہیں جنہوں نے ملکی ادب میں ایک نئی روح پھونک دی۔ 11 مئی 1916ء میں پیدا ہونے والے سیلانے 1942ء میں صرف 26 برس کی عمر میں لکھے اپنے اولین ناول "The family of pascual Duarte" سے پورے یورپ میں شہرت حاصل کر لی۔ شارٹ سٹوریز، ناول اور کئی سفرنامے ضبط تحریر میں لائے ، اور ناقدین نے بھی ان کے منفرد انداز تحریر کی تعریف کی۔ سیلا نے میڈرڈ کی یونیورسٹی سے خانہ جنگی (1936-39) سے قبل اور مابعد تعلیم حاصل کی۔ جس کے دوران لاء کی ڈگری حاصل کرنے کی ناکام کوشش بھی کی۔ جنگ کے دوران آرمی میں خدمات انجام دیں اور گرینیڈ لگنے سے زخمی ہوئے ۔ 1951 میں دوسرا ناول "The Hive" لکھا۔ 300 سے زائد کرداروں پر مشتمل اس ناول میں جنگ کے بعد کے میڈرڈ کا نقشہ پیش کیا۔ سپین کے دیہات اور لاطینی امریکہ کے ممالک کی سیر کو اپنے سفر ناموں میں خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ ان میں "Journey to the Alcassia" ، "From the Mino to the Bidasoa" اورJews" Mors and Christians قابل ذکر ہیں شارٹ سٹوریز میں The Passing Clouds ، the windmill اور کئی دوسری شامل ہیں۔ سیلانے کئی یادداشتیں، مضامین بھی لکھے اور شاعری بھی کی۔ عمر کے آخری حصے میں ٹی وی پر کافی آئے ۔ سیلا کے والدین انگریز تھے ۔ 1944ء میں روزاریو سے شادی کی۔ 1957ء میں سپین کی ادبی اکیڈیمی کے رکن بنے ۔ بادشاہ جوان کارلولس نے "مارکوس آف ایریا فلاویا" کا خطاب دیا۔ سینیٹر کے عہدے پر بھی رہے ۔ 85 برس کی عمر میں 17 جنوری 2002ء میں سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں انتقال کر گئے ۔