”قومی زبان“ کا شمارہ دسمبر2007
تبصرہ: محمد بن قاسم
مے کشو ساقی کہاں اب حرفِ ساقی رہ گیا
میکدہ تو لٹ چکا ہے نام باقی رہ گیا
(کیفی حسینی)
انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی کے علم بردار علمی و ادبی ماہنامہ ”قومی زبان“ کا دسمبر 2007 کا شمارہ منظرعام پر آچکاہے۔ اس پرچہ کو 1948 میں بابائے اردو، ڈاکٹر مولوی عبدالحق مرحوم نے جاری کیا تھا۔ اب اس بھاری ذمہ داری کواس کے ادارہ ء تحریر کی محترمہ ادا جعفری اور جناب جمیل الدین عالی نے، اور اس کے عملی مدیر ڈاکٹر ممتاز احمد خاں صاحب نے سنبھالاہواہے۔ زیرِ نظر رسالہ کو قائد اعظم محمدعلی جناح کی خصوصی اور دل چسپ یادوں سے مزیّن کیاگیاہے۔ جاذب نظر نیلے پس منظر میں سرورق پر بابائے قوم کی تصویر شائع کی گئی ہے۔
انجمن ترقی اردوپاکستان(’اتاپ‘) کو گرانقدراہلِ قلم کا تعاون حاصل رہتاہے۔ اس پرچہ کا اپنا ایک مزاج ہے، جو ڈائجسٹ نما اخبارات اور رسالے پڑھنے والے قارئین سے یہ مطالبہ کرتاہے کہ وہ اپنا ذوقِ مطالعہ کام میں لائیں، اور اس کی نسبتاً علمی تحریروں سے اپنی قومی زبان کے امکانات ، خصوصیات، اور قوّتِ اظہار سے آگہی حاصل کریں۔ یہ پرچہ حکومتی تعاون سے شائع ہوتاہے، چنانچہ اس کی قیمت صرف 10روپے ہے، جب کہ اس کا عام ڈاک سے سالانہ زرِ تعاون 110 روپے ہے، جو آپ ’اتاپ‘ کے اس پتہ پر بھیج کراسے گھر بیٹھے وصول کرسکتے ہیں:
ماہنامہ ”قومی زبان“
انجمن ترقی اردو پاکستان،
ڈی۔159بلاک 7،گلشن اقبال کراچی75300
اس شمارہ میں یہ انکشاف قارئین کے لیے باعثِ حیرت ہوگا کہ جناب محمد احمد سبزواری صاحب نے اپنے رہنمائی مضمون’قائدِ اعظم اور اردو‘ میں یہ تحریر کیا ہے کہ قائد اعظم کاٹھیاواڑ میں پیداہوئے تھے۔ اس بارے میں ’اتاپ‘ کو وضاحت کرنی چاہیے، کیونکہ یہ امر عام روایت سے مختلف ہے کہ وہ کھارادر، کراچی میں پیداہوئے تھے۔ دیگر متفرق مضامین میں محترمہ پروفیسر رعنا ہلال کا پاکستان کی ترقی اور اردو ذریعہ ء تعلیم، جناب حافظ صفوان چوہان کا اردو لغت کلاں کے بارے میں تنقیدی مضمون، جناب شوکت صدیقی کی ناول نگاری کا ایک تجزیہ، جو جناب محمد ناصر شمسی نے کیا ہے، بھی شامل ہیں۔ اس پرچہ کو اخراجات کی کٹوتی کی خاطر معمولی اخباری کاغذ پر چھاپا جاتاہے۔ تاہم اگر اس پرچہ کو اردو کا علم بردار، اور ایک مثالی پرچہ مان لیا جائے تو اس میں موجود کتابت، پروف ریڈنگ، اور ہجّوں کی متعدد اغلاط کی بناء پر یہ مطالبہ بجا طور پر کیا جاسکتاہے کہ ’اتاپ‘ اس ضمن میں اپنی کاوشیں بڑھادے، اور اسے کم از کم کمپوزنگ کی اغلاط سے مبرّا رکھنے کی سعی کرے، تاکہ اس سے استفادہ کرنے والے قارئین اس سے الفاظ کی صحت کے بارے میں سند لے سکیں۔