| ادب
|
ادب لطیف،دنیازاد ،ادبی دنیا،پنچم اورمعاصرشاعری کے تازہ شمارے
ظفر اقبال:
ممتاز ماہنامے “ادب لطیف لاہور” کی اشاعت کو70 سال سے اوپر ہوچکے ہیں جوچوہدری برکت علی مرحوم نے جاری کیاتھا اوراب صدیقہ بیگم کی ادارت میں باقاعدگی سے شائع ہورہاہے حال ہی میں اس کاشمارہ اپریل منظر عام پرآیاہے جسے حسب معمول معروف لکھنے والوں کاتعاون حاصل ہے اورجن میں احمدفراز سے لے کرڈاکٹر ضیاء الحسن تک شامل ہیں دیگرمضامین نظم ونثر کے علاوہ محمدفیصل مقبول عجزکامضمون اردوزبان۔ جدید دور کاوسیلہ اظہار منیراحمد فردوسی کامضمون “حاصل گھاٹ،ایک دانش کدہ اوررضوان عظیم کاسفرنامہ راوی چین لکھتاہے “خاصے کی چیزیں ہیں ۔
کتابی سلسلہ “دنیازاد” جسے ڈاکٹر آصف فرخی کراچی سے نکالتے ہیں کاانیسواں شمارہ بھی شائع ہوگیا ہے جس کے لکھنے والوں میں انتظار حسین،شمس الرحمن فاروقی، فہمیدہ ریاض،شہریار ،کشورناہید ،محمدعمر میمن اورمحمد عاصم بٹ شامل ہیں اپنی روایتی آب وتاب کے ساتھ شائع ہوکرمارکیٹ میں آگیاہے معمول کے مطابق اس میں تراجم کاحصہ بھی زوردار ہے جس میں اسماعیل کادرے ،اورمان پاٹک، امین معلوف ،الیاس خوری،دیبی ایلیٹ،فریدرک ولم خاں ایدرک، حلیم بروہی،عاطف ابوسیف اورحاتم قاسم زلزلاکاتعارف اورتراجم شامل ہیں ۔
کراچی کے ماہنامہ”ادبی دنیا” جس کی مجلس مشاورت میں اظہر عباس ہاشمی، صابر ظفر، صبا اکرام اورافضال صدیقی شامل ہیں عبدالحسیب خان کی سرپرستی میں شمارہ فروری،مارچ2007ء شائع ہواہے جس کے مدیران عارف شفیق اورافضل منگلوری ہیں اسے بھی معروف لکھنے والوں کاتعاون حاصل ہے جن میں شمس الرحمن فاروقی، پروفیسر سحرانصاری، شاکر علی،ڈاکٹر نجیب جمال ،ڈاکٹر روبینہ ترین اوردوسرے شامل ہیں جبکہ منوررانا نے “مشاعرے میں لیے پھرتے ہیں جسے شاعر” میں بھارت میں ہونے والے مشاعروں سے متعلق ایک چشم کشارپورٹ پیش کی ہے جبکہ”روشن خیالی یامحض حکمت عملی” کے عنوان سے عابدحسن منٹوکامضمون خاصے کی چیز ہے ۔دیگر مضامین بھی اہمیت کے لحاظ سے کم نہیں ہیں ۔
مہینہ وارپنجابی رسالہ”پنچم” جسے مقصود ثاقب لاہور سے شائع کرتے ہیں اس کاتازہ شمارہ بھی حال ہی میں شائع ہواہے اور جوپنجابی جریدوں کی صف اول میں نہ صرف شامل ہے بلکہ اپنے معیار کے حوالے سے اپناکوئی ثانی بھی نہیں رکھتا۔ اس کے قلمی معاونین میں نجم حسین سید، عابدعمیق، پروفیسر کشن سنگھ، مشتاق صوفی، دیوندرستیارتھی، افضل توصیف اورزاہد حسن شامل ہیں حسب معمول نہایت اعلیٰ ٹائٹل اوراپنے روایتی اوریگانہ ویکتا سلیقے میں شائع ہوا ہے مکھ بولی کے عنوان کے تحت مقصود ثاقب کا ابتدائی مضمون”ماں بولی دی بنت گھڑے : حق جاں دھکا”پنجابی زبان کے حوالے سے ایک ٹھوس اورجاندارتحریر ہے اس شمارے میں “اک دروازہ ” کے عنوان سے شائع ہونے والی افضل راجپوت کی یہ نظم دیکھیں :
اک دروازے کولوں لنگھدیاں
اج وی قدم کھلو رہندے نیں
دل اندر ای ہس پینداے
نین اندر ای رو پیندے نیں
اک دروازے اتے پاٹیاں
ہوئیں دو تصویراں نیں
اک دروازے اتے رْسیاں
ہوئیاں دو تقدیراں نیں
اک دروازے اتے لمکیاں ہوئیاں
دو زنجیراں نیں
زنجیراں دے حلقے سانوں
اپنے وچ کھبو لیندے نیں
اک دروازے کولوں ل لنگھدیاں
اک دروازے پچھے کوئی جادوگرنی رہندی سی
چپ کر کے موہ لیندی جگ نوں
موہوں حرف نہ کہندی سی
اسماناں دیاں سیلاں کرکے آن دلاں تے لہندی سی
اویدیاں یاداں آلے گجرے
سنجے ہتھ پرو لیندے نیں
اک دروازے کولوں لنگھدیاں
اک دروازے آلیاں جھیتاں
جنت آلی باری نیں
اک دروازے اتوں ساڈیاں
جاناں صدقے واری نیں
اک دروازے دے صدقے ای
ساڈیاں ساہواں جاری نیں
خواب دے پنچھی پیاسیاں چنجھاں
لہودے وچ ڈبو لیندے نیں
اک دروازے کولوں لنگھدیاں
کتابی سلسلہ “معاصرشاعری” کادوسرا شمارہ زیرنظرہے اس پرچے کی خصوصیت بلکہ خوبی یہ ہے کہ اس میں یاتوشاعری شائع کی جاتی ہے یاشاعری کے حوالے سے مضامین۔ ایک خاص طبقہ قارئین کوایسے رسالے کی بے حدضرورت تھی جوصرف شاعری میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اس کے مدیران سعیداحمداورتابش کمال خودبھی شاعر ہیں ۔اس کی ابتدا میں سعیداحمد نے رلکے کی ایک نظم”صرف ایک نظم کی تلاش میں ” کوانگریزی سے ترجمہ کیاہے جبکہ تنقید میں ڈاکٹر نجیب عارف کامضمون”ان۔ م راشد کے ازل گیروابدتاب خواب” ایک عمدہ تحریر ہے جوراشد کی شاعری کی تفہیم میں مدد دیتاہے جبکہ عالمی ادب کے عنوان سے راشد سلیم نے لڈیاویانوکے مضمون کاترجمہ پیش کیاہے ۔بے شمار اورعمدہ نظمیں غزلیں اس کاطرہ امتیاز ہیں ۔اس میں شامل نئے شعراء کی غزلوں میں سے منتخب اشعار:۔
میں سرِبازار لے آیا ہوں دست بے ہنر
باز کو تصویر کرنا تھا کبوتر بن گیا
(منورعزیز)
ہزار طرح کے روگ اس کے ساتھ آتے ہیں
یہ عشق بے سروسامان تھوڑی ہوتاہے
(حسن عباس رضا)
بے جان پڑادیکھتا رہتا تھا میں اس کو
اک روز مجھے اس نے اشارے سے اٹھایا
(انجم سلیمی)
ایک ہی عشق میں سب خاک ہوئی عمر مری
ایک ہی جست مقررتھی شرارے کیلئے
(لیاقت علی عاصم)
پھر اس کے بعد سمندر ہے پھر سمندر ہے
کوئی بھنور میں رہے یا کوئی عبور کرے
(افضال نوید)
خاک کردے گا ہمیں تیری زمینوں کا طلسم
شوق پرواز بھی ہے ،پاوٴں اکھڑتے بھی نہیں
(علی افتخار جعفری)
بھربھرے جسم کی مٹی نے بہت خوارکیا
اپنے ہونے پہ جب اصرار کیاہے میں نے
(افضل گوہر)
اٹھ گیاہے مراپانی سے بھروسہ شاہد
کھیل دریا نے وہ کھیلاہے مری پیاس کے ساتھ
(شاہدذکی)
دل سے گزر رہاہے کوئی ماتمی جلوس
اوراس کے راستے کو کھلا کر رہے ہیں ہم
اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا
لیکن اک ایسے شہرمیں کیا کر رہے ہیں ہم
کب سے کھڑے ہوئے ہیں کسی گھرکے سامنے
کب سے اک اور گھر کا پتا کر رہے ہیں ہم
(ذوالفقار عادل)
سہ ماہی ادبیات ماہنامہ بیاض اور”ادب دوست” کے تازہ شمارے بھی شائع ہوگئے ہیں جن کاذکر پھرکبھی سہی۔
|
|