راولپنڈی سے نظم کے معروف شاعر علی محمد فرشی کی زیرادارت رسالہ ’سمبل‘ کا تیسرا شمارہ پچھلے دنوں شائع ہوا ہے ۔ 432 صفحات پر مشتمل اس شمارے کی تمام تحریروں پر تو اظہارخیال ممکن نہیں، لیکن ان میں سے چند دلچسپ چیزوں کی نشان دہی ضرور کی جا سکتی ہے ۔
محمد کاظم نے ، جو عربی کے کلاسیکی اور جدید ادب کے بارے میں اپنے مضامین اور اپنے جرمنی کے منفرد سفرنامے کی بدولت جانے جاتے ہیں، عربی زبان کے جید عالم اور ہمہ گیر ادبی شخصیت ابوالخیر مودودی کے بارے میں اپنی یادوں میں پڑھنے والوں کو شریک کیا ہے ۔ ابوالخیر مودودی اپنے زیادہ مشہور برادر خورد ابوالاعلیٰ مودودی سے کئی اعتبار سے مختلف تھے ۔ وہ داڑھی سے عمر بھراسی طرح بے نیاز رہے جیسے اپنے چھوٹے بھائی کی جماعت اسلامی سے ۔ انہوں نے محمد کاظم کی تحریروں کی حوصلہ افزائی کی تھی اور جب ’ عربی ادب میں مطالعے ‘ کے نام سے ان کے مضامین کا مجموعہ شائع ہوا تو اس کا انتساب ’ مولانا ابوالخیر مودودی کے نام‘ تھا۔ انہوں نے دھیمے سے مسکرا کر محمد کاظم سے کہا، ’ آپ نے مجھے بھی مولانا بنا دیا۔‘ کاظم صاحب کا جواب تھا، ’ مجھے خیال آیا کہ یہ لقب کبھی تو صحیح جگہ استعمال ہونا چاہیے ۔‘
اس شمارے میں محمد حمید شاہد کی تجرباتی کہانی ’ چٹاکا شاخِ اشتہا کا‘ بھی شامل ہے جس میں مصنف نے اپنی کہانی کے کرداروں کا قصہ سنانے کے ساتھ ساتھ لاطینی امریکی ادیب گارسیا مارکیز کے تازہ ترین ناول کے اردو ترجمے پر تبصرہ کرنا بھی جاری رکھا ہے ۔ (محمد عمر میمن کا کیا ہوا یہ ترجمہ پچھلے دنوں ’اپنی سوگوار بیسواوٴں کی یادیں‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے ۔)
محمد حمید شاہد کا یہ تجربہ بہت کامیاب تو نہیں ہو پایا، لیکن اس سے کہانی کہنے کے نت نئے طریقے تلاش کرنے کی لگن کا ضرور پتا ملتا ہے جو ہمارے اکا دکا نئے افسانہ نگاروں میں دکھائی دینے لگی ہے ۔