حافظ ابراہیم
(1871-1932)
پورا نام محمد حافظ بن ابراہیم فہمی ہے۔ لیکن عرف عام میں حافظ ابراہیم کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ مصر کے دیروط نامی ایک قصبے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں ان کے والد ماجد کا انتقال ہو گیا ۔ ابتدائی وثانوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد قلیل مدت تک طنطنا میں قیام کیا اور اسی جگہ شاعری اور مطالعہ کا شوق ہوا۔ پھر فوجی اسکول میں تربیت حاصل کی اور مصری فوج کے افسرمقرر ہوئے۔ بعد میں فوجی ملازمت سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اسی زمانہ سے ان کی تمام ترتوجہ شعروشاعری کی طرف ہو گئی۔ ملک کے مشہورومعروف شعراء اور ادیبوں سے ملاقات ہوئی اور ان سے استفادہ کیا۔ اسی دوران ان کے تعلقات شیخ محمد عبدہ سے ہو گئے، ان کے علم وفن سے فائدہ اٹھایا۔ 1911میں دار الکتب المصریہ کے شعبہٴ ادب کے صدر متعین ہوئے اورآسودہ زندگی بسر کی۔ وہ انتہائی نرم دل اوررقیق القلب انسان تھے۔ ان کی طبیعت میں درد مندی تھی۔ ان کے دل میں جذبہٴ خدمت موجزن تھا۔ وہ تلخی ایام سے بھی دوچار ہوئے مگر طبیعت میں زندہ دلی تھی۔ مبداء فیاض نے بہترین ذہن اور اعلیٰ دماغ عطا کیا تھا۔ عربی ثقافت اورزبان وادب کا گہرا مطالعہ رکھتے تھے۔ ان کے کلام میں سوزوگداز اور موسیقیت ہے۔ وہ قوم کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے تھے۔ اسی لیے ان کے کلام میں قوم کے رنج ومحن کی عکاسی ملتی ہے۔ وہ قومی مسائل کی موٴثر انداز میں ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں تاثریت ہے۔ اسلوب نگارش سادہ مگردلکش ہے۔ ان کو الفاظ پردستگاہ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فنی اعتبار سے بلند درجہ رکھتے ہیں۔
حافظ کو اگر قومی شاعر کہا جائے توبے جانہ ہو گا۔ کیونکہ سماجی اور قومی مسائل پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ عوام میں جا کر ان کے مصائب میں شریک ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں سوسائٹی کے اسقام وامراض کی نشاندہی کی ہے اور عربی زبان کی پامالی اور قومی زوال پر نوحہ خوانی کی ہے۔ وہ نوجوانوں کو برائیوں اور خرابیوں سے بچنے کی ترغیت دیتے ہیں اور معاشرے کی تشکیل نوکی دعوت دیتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے جابجا باہمی نفاق، جھوٹ، انتشار ، اقوام غیر یا انگریزی کے غلبے سے متنبہ کرتے ہوئے عربی زبان وثقافت کی ابتری پر آنسو بہائے ہیں اور قومی جذبات کو اُبھارا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں تابناک مستقبل اور نوید صبح کا پیام دیا ہے۔