ادب >> عالمی ادب >> مصری ادب >> شیخ عبدالمحسن الکاظمی
ادب

شیخ عبدالمحسن الکاظمی
(1865-1935)
ابوالمکارم عبدالمحسن بن محمدبن علی بن محسن بن محمدبن صالح بن علی بن ہادی دونوں ملکوں (مصروعراق)کے شاعر ہیں۔ ان کی شاعری عراق میں پروان چڑھی اور مصر میں بام عروج تک پہنچی۔وہ مصر کے صفِ اوّل کے شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری کی بڑی شہرت ہوئی۔ جو خصوصیت ان کو تمام معاصر شعراء میں ممتاز کرتی ہے وہ ان کی بدیہہ گوئی اور ارتجائی قوت ہے۔وہ ایک ہی نشست میں فی البدیہہ اشعار کہتے تھے اور سودو سواشعار کہہ لینا ان کے لیے کوئی مشکل بات نہیں تھی۔ مشہور صحافی لسیم سرکس نے بیان کیا ہے کہ ڈاکٹر ابراہیم شدودی نے محسن کاظمی کی مدح مں ایک قصیدہ کہا ایک ایسی مجلس میں جو کاظمی کے اعزاز میں انعقاد پذیر ہوئی تھی۔ جیسے ہی انہوں نے اپنا قصیدہ ختم کیا، الکاظمی نے فوراََ اسی بحر اور قافیہ میں اپنا جوابی قصیدہ پڑھا جو اسی وقت فی البدیہی طور پر انہوں نے لکھا تھا۔ وہ فی البدیہی شعر کہتے جاتے تھے اور سلیم سرکس اس کو لکھتا جاتا تھا۔ یہ دیکھ کر تمام حاضرین ان کی ارتجالی قوت سے بہت متاثر ہوئے اور سب حیران وششدر رہ گئے۔ غرض کاظمی بڑی بڑی محفلوں میں جہاں کبار شعراء اور علماء کا مجمع ہوتا تھا، برجستہ اشعار کہتے تھے اور ان کی تعداد سو سے اوپر تجاوز کر جاتی تھی اور ان پر کوئی تھکن کے آثار نمودار نہیں ہوتے تھے۔ علماء کا بیان ہے کہ الکاظمی اکثر وبیشتر تہذیبی جلسوں میں فی البدیہی شعر کہتے تھے۔
عبدالمحسن کاظمی 1865ء میں بغداد میں پیدا ہوئے۔ اور بغداد ہی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد تجارت کرتے تھے۔ چنانچہ الکاظمی نے بھی تجارت کا پیشہ اختیار کیا۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے اسے ترک کر کے زراعت کا کام کیا مگر اس کو بھی چھوڑ دیا۔ پھر انہوں نے علمی وادبی زندگی کی راہ اختیار کی اورمطالعہٴ کتب کیا۔ ان کو شعر گوئی کا ملکہ فطرت کی طرف سے عطیہ تھا۔ اس لیے انہوں نے شعر گوئی کی طرف رخ کیا۔ شاعری میں ان کے استاد علامی سید ابراہیم الطباطبائی تھے جن کا تعلق نجف اشرف سے تھا اور جو اپنے وقت کے مسلمہ استاد اور ماہر فن تھے۔ الکاظمی نے انہی کے سامنے زانوئے ادب طے کیا اور انہی کے زیرسایہ شعروسخن کی مشق کی ۔ انہوں نے اپنے استاد کا رنگ اختیار کیا۔ بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے استاد کی زبان میں بول رہے ہیں۔ لیکن بعد میں انہوں نے اپنی انفرادی حیثیت کا لوہا منوایا۔ ان کی شاعری میں بدوی رنگ، براعت اسلوب ، نادر تراکیب اورخوبصورت الفاظ وقوافی ملتے ہیں ۔ وہ عراق کے مشہور ترین شعراء میں سے تھے۔ ان کا کلام جب بلادعربیہ میں پہنچا تو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ وہ اپنے قصائد بدوی انداز میں گا کر پڑھتے تھے۔ اسی چیز کو حافظ ابراہیم نے ان سے لیا۔ الکاظمی نے ۱۹۳۵ء میں مصرمیں انتقال کیا۔ ان کا دیوان، دیوان الکاظمی کے نام سے مشہور ہے۔ قدیم لغت وقوافی اور معانی وبیان کے اعتبار سے وہ قدیم شعرا ء کے پائے کے شاعر تھے۔ عربی ادب پر ان کی گہری نظر تھی اور وہ قدیم عربی شاعری کے دل سے قائل تھے اور اسی کا ان پر اثر تھا۔
مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.