یہ ناول 2003 میں شائع ہواجو افغانستان کے بارے میں ہے۔
قلعہ جنگی کو ایک استعارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جس میں انسانوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
وہ ایک بڑی طاقت کے ہاتھوں بے بس اور مجبور ہیں اور مکھی مچھروں کی طرح مرتے ہیں۔
یہ طاقت اور فتح کا وحشی پہلو ہے جس میں انسانوں کی کوئی وقعت نہیں۔ قلعہ جنگی میں ایک نہایتی المناک واقعہ ہوا تھا جس میں کئی سو جنگی قیدی مارے گئے تھے۔
جرم یہ تھا کہ کچھ قیدیوں نے بھاگنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ایک جھڑپ شروع ہوگئی جس میں امریکی بھی ہلاک ہو گئے اور اسی وجہ سے قیدیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی اور ان پر فضا سے بمباری کی گئی جس کے باعث بہت سے قیدی ناحق مارے گئے۔