اردو کے ممتاز ناول نگار: شوکت صدیقی
(1923-2006ء)
شوکت صدیقی چار افسانوی مجموعوں اور چار ناولوں کے خالق تھے ۔ ان کے ناول ’خدا کی بستی‘ کو انتہائی مقبولیت حاصل ہوئی اور اس کا کئی زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیا۔اس ناول کے لیے انہیں انیس سو ساٹھ میں آدم جی ادبی انعام بھی دیا گیا۔ انیس سو ستانوے میں انہیں ’پرائیڈ آف پرفارمنس‘ اور دو ہزار چار میں اکادمی ادبیات پاکستان کے ’کمالِ فن‘ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔
ان کے ناول ’خدا کی بستی‘ کی چھیالیس ایڈیشن شائع ہوئے اور یہ اردو کا واحد ناول ہے جس کا چوسٹھ دیگر زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا
شوکت صدیقی بیس مارچ 1923 کو لکھنوٴ میں پیدا ہوئے اور انیس سو چھیالیس میں سیاسیات میں ایم اے کرنے کے بعد انیس سو پچاس میں کراچی آگئے ۔ کراچی میں انیس سو باون میں ثریا بیگم سے شادی ہوئی۔ ناولوں اور متعدد کہانیوں کے مجموں کے خالق کے علاوہ علاوہ وہ اردو کے ایک ممتاز صحافی بھی تسلیم کئے جاتے تھے اور متعدد نامور صحافی ان سے صحافت سیکھنے کا اعتراف کرتے ہیں۔ وہ کئی ہفت روزہ اور روزنامہ اخبارات سے وابستہ رہے ۔ تاہم عملی زندگی کا آغاز انیس سو چوالیس میں ماہنامہ ’ترکش‘ سے کیا۔ وہ روزنامہ ’مساوات‘ کراچی کے بانی ایڈیٹر اور روزنامہ ’مساوات‘ لاہور اور روزنامہ ’انجام‘ کے چیف ایڈیٹر بھی رہے ۔ ایک عرصہ تک وہ ہفت روزہ ’الفتح‘ کراچی کے سربراہ بھی رہے جس اخبار میں کئی ادبی صحافیوں نے کام کیا جنہیں آج پاکستان کے بڑے صحافیوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔
شوکت صدیقی کے افسانوی مجموعوں میں ’تیسرا آدمی‘1952، ’اندھیرا اور اندھیرا‘1955، ’راتوں کا شہر56ء، ’کیمیا گر‘84ء جبکہ ناولوں میں ’کمیں گاہ‘ 1956، ’خدا کی بستی‘1958ء، ’جانگلوس‘1988ء اور ’چار دیواری‘1990 میں شائع ہوئے ۔
’جانگلوس‘ ان کا ایک طویل ناول ہے جس کے اب تک کئی ضخیم حصے شائع ہو چکے ہیں جسے پنجاب کی الف لیلیٰ بھی کہا جاتا ہے ۔ ان کے ناول ’خدا کی بستی‘ کی چھیالیس ایڈیشن شائع ہوئے اور یہ اردو کا واحد ناول ہے جس کا بیالیس دیگر زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔