ادب >> عالمی ادب >> بنگالی ادب >> ٹیگور کا ناول ”گاندھی“ __ ایک جائزہ
ادب
جارج لوکاش
ٹیگور کا ناول ”گاندھی“ __ ایک جائزہ
ترجمہ : حبیب اللہ، محمد کاشف گرجاکھی

جرمنی کے’ اعلیٰ‘ روشن خیال طبقے میں ٹیگور کی بلند بانگ تشہیر ان ثقافتی اتہامات scandalsمیں سے ایک ہے جو ہمیشہ پہلے کی نسبت زیادہ شد و مد سے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ یہ تشہیر اس سماجی عدم توازن کی طرف ایک اشارہ ہے جو اس طبقے کو درپیش ہے۔ کیونکہ یہ اس کہنہ صلاحیت کی قطعی موت کی نشان دہی کرتی ہے جو طبع زاد اور بناوٹی تحریر میں امتیاز سکھاتی ہے ۔ ٹیگور تخیلی تخلیق کار اور مفکر کی حیثیت سے ایک قطعی غیر اہم شخصیت ہے۔ اس میں تخلیقانہ صلاحیت نام کو نہیں۔ اس کے کردار پٹے پٹائے stereotypeاور اس کی کہانیاں گھسی پٹی اور غیر دلچسپ ہیں۔ اس کا ادراک لاغر اور ناقابل برداشت ہے۔ وہ اپنی سست رو تحریریوں میں خود اپنی اکتاہٹ سے بچنے کے لئے اپنشیدوں اور بھگوت گیتا کی ردی میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ دور حاضر کے جرمن قاری کی سوجھ بوجھ اس قدر کند ہو چکی ہے کہ وہ متن اور حوالے میں فرق نہیں کر پاتا۔ نتیجتاً ہندوستانی فلسفے کی یہ ناکافی باقیات اس بے وقعت مواد کو نیست و نابود کردیتی ہیں جو خود انہیں تشکیل دیتا ہے۔ اس کے برخلاف یہ مخفی انداز میں اسے تعمق اور فراست کی تھپکی دیتی ہیں۔ یہ حیران کن بات نہیں کہ جرمنی کے تعلیم یافتہ عوام عقلی نکتہ سنجیوں کی طرف بہت راغب ہیں، جب وہ سپینگلر اور کلاسیکی فلسفے اور اسی طرح ایرس Eoress اور ہاف مین Hoffmanیاپو Poeکے مابین تفرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ہندوستان جیسی دور دراز دنیا کے فرق کو سمجھ سکیں۔ ٹیگور وہ ہندوستانی فرنسن Frenssenہے جسے وہ خود اپنی مچرب اکتاہٹ میں ہلکا سا محسوس کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی تخلیقی صلاحیتیں فرنسن سے بھی کم ہیں،تاہم اس کی عظیم کامیابی ہم عصر جرمن ذہنیت کی علامت کی حیثیت سے کچھ معنی رکھتی ہے۔
ٹیگور کی اس بیّن تردید کا ممکنہ رد عمل بین الاقوامی شہرت حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔ ٹیگور کو شہرت عام اور دولت ناتمام (نوبل پرائز) سے نوازنے میں برطانوی بورژوازی کے پاس اپنی وجوہات ہوں گی ۔در حقیقت وہ اپنے علمی ایجنٹ اور کو ہندوستانی عوام کی جدو جہد آزادی کی مخالفت کا انعام دے رہے ہیں۔تاہم برطانیہ کے لئے قدیم ہندوستان کی فرسودہ ذہانت، اجتماعی فرمانبرداری، کمینگی اور تشدد کے نظریات بلاشبہ اس صورت میں ٹھوس اور صریح معنی رکھتے ہیں جب وہ تحریک آزادی کے ساتھ جڑے ہوئے ہوں۔ جتنی ٹیگور کی شہرت اور سند بڑی ہو گی اتنے ہی موثر اسلوب سے اس کا کتابچہ اس کے اپنے ملک میں جد و جہد آزادی کا سامنا کر سکے گا۔
اپنے تھکا دینے والے اور دلچسپی سے خالی اسلوب کے باوجود ٹیگور کا کا م(ناول) ایک کتابچہ ہی ہے جس میں ہجو کے تمام تر گھٹیا ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ہیں۔ یہ ہجویات بے لاگ قاری کو بہت شاک گذرتی ہیں۔ جتنی یہ ہجویات مچرب ذہانت میں بھیگتی جاتی ہیں اتنی ہی عیاری سے ٹیگور ہندوستانی حریت پسندوں کے خلاف اپنی حقارت کو عالمگیری انسانیت کے عمیق فلسفے کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔
ناول کا تعقلی تصادم تشدد کے استعمال کے مسئلے پر مبنی ہے۔ مصنف تحریک آزادی کے آغاز کا منظر نامہ پیش کرتا ہے۔ جس میں برطانوی اشیا کے بائیکاٹ ، ان کی ہندوستانی منڈی سے بے دخلی اور ان کی جگہ مقامی اشیا کے استعمال کی جد و جہد کو بیان کیا ہے۔ پھر ٹیگور پر یہ” گراں قدر“ بحث چھیڑتاہے کہ اس جدو جہد میں تشدد کے استعمال کا کیا جواز ہے۔سوال یہ ہے کہ آیا ہندوستان ایک مغلوب و محکوم ملک ہے؟ پھر بھی ٹیگور کو اس سوال میں کوئی دلچسپی نہیں۔ آخر ٹیگور ایک فلسفی ہے! وہ ایک معلم اخلاق ہے جس کا تعلق صرف ’داخلی حقائق‘ سے ہے! تشدد کے استعمال سے برطانیہ والوں کی روحوں کو پہنچنے والے آزار کا مداوا خود برطانوی جن شرائط اور جس انداز میں چاہیں کر لیں۔ ٹیگور کا منصب یہ ہے کہ وہ ہندوستانیوں کی روحانیت کے تحفظ کے ساتھ انہیں ان خطرات سے بھی بچائے جو اس تشدد اور دھوکہ دہی کی وجہ سے ان پر مسلط ہیں جن کے ذریعے وہ جد و جہد آزادی کو تازہ خون مہیا کرتے ہیں۔ وہ لکھتا ہے:
” وہ لوگ بقائے دوام حاصل پاتے ہیں جو سچائی کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ، اور اگر تمام لوگ سچائی کے لئے جان دیں تو وہ تاریخ کے صفحات میں حیات جاوید پائیں گے۔“
یہ فقرہ ہندوستان کی کلی غلامی کے نظریے کی کچھ کم ترجمانی نہیں کرتا۔ لیکن ٹیگور کا رویہ اپنی پوری شوریدہ سری کے ساتھ اس انداز میں اظہار پاتا ہے جس کے ذریعے اس نے ناول کے عمل اور کرداروں میں اپنے مطالبے کو ڈھالا ہے۔ جس تحریک کی مرقع کشی اس نے کی ہے وہ روشن خیالوں کے لئے رومانوی تحریک ہے۔ اگر ہم مشابہت پر زیادہ غور نہ کریں تو یہ ہمیں اٹلی میں کاربوناری Carbonariاور حقیقتاً بعض پہلووٴں (خاص کر نفسیاتی پہلووٴں ) سے روس میں نارودنکیوں Narodinksکی تحریکوں کی یاد دلاتی ہے، اگرچہ ان تحریکوں کے سماج کلیتاً مختلف تھے ۔ رومانوی تخیل پرستی، نظریاتی مبالغہ آرائی اور جہادی جوش ان تحریکوں کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ لیکن یہ تو ٹیگور کے ہجویہ کتابچے کا نقطہٴ آغاز ہے۔ اس کا میلان طبع اس جہادی رومانیت کی طرف ہے جس کے نمائندے بلا شبہ وہ لوگ تھے جنہیں خالص اصول پرستی اور خود نثاری کے جذبے نے متحرک کیا ہے۔اور انہیں چالبازی اور جرم کی زندگی دان کی تھی۔ اس کا ہیرو ایک معمولی نواب ہے جو رائج نظریے کی وکالت کرتا ہے۔ اسے ایک وطن پرست مجرم گروہ اپنے حریصانہ مظالم کا شکار بنا کر داخلی اور خارجی سطح پر بتاہ و برباد کر دیتا ہے۔ اس کا گھر تباہ ہو جاتا ہے۔ وہ ایک ایسی لڑائی میں گھر جاتا ہے جسے وطن پرستوں نے ہوا دی تھی۔ ٹیگور کے مطابق وہ بذات خود قومی تحریک کا مخالف نہیں۔ اس کے برخلاف وہ قومی صنعت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ وہ مقامی اشیا پر تجربات کرتا ہے۔ اگرچہ اسے ان کا کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ وہ وطن پرستوں کے رہنما کو پناہ دیتا ہے (جو گاندھی کی تحقیر اور خندہ آور چربہ ہے۔) لیکن جب معاملا ت اس کی برداشت سے باہر ہو جاتے ہیں تو وہ وطن پرستوں کے تشدد سے متاثرہ ہر شخص کی حفاظت کرتا ہے اور اس ضمن میں وہ اپنے ہتھیاروں کے ساتھ برطانوی پولیس سے بھی مدد لیتا ہے۔
یہ پراپیگنڈے سے بھرپور اور ورغلانے والا یک طرفہ ’جملہ‘ ناول کو فنکارانہ زاویہ نگاہ سے قطعی طور پر بے وقعت بنا دیتا ہے۔ ہیرو کا مد مقابل حقیقی حریف نہیں بلکہ ایک گھٹیا چالباز ہے۔ مثال کے طور پر جب وہ ہیرو کی بیوی کو پھسلا کر اس سے قومی مفادات مے نام پر بہت سے روپے بٹور لیتا ہے اور اسے چوری پر اکساتا ہے تو وہ یہ روپے تحریک آزادی کی نذر نہیں کرتا بلکہ سونے کے چمکتے ہوئے ٹکڑے پا کر جشن مناتا ہے۔ یہ حیران کن بات نہیں کہ وہ مرد اور عورتیں جنہیں وہ بھٹکا رہا تھا اس وقت حقارت سے اس کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں جب انہیں اس کی اصلیت معلوم ہوتی ہے۔
ٹیگور کی تخلیقی صلاحیت ایک معقول کتابچے کے تقاضے بھی پورے نہیں کر پائی۔ اس کے پاس اتنا تخیل بھی نہیں کہ وہ اس طرح کی موثر تہمت گوئی کر سکے جو’دستویفسکی‘ اپنے انقلاب مخالف ناول The Possessedمیں کرنے میں قدرے کامیاب ہوا ۔ کہانی کا ’روحانی ‘ پہلو گھٹیا قسم کا ایسا بوسیدہ تانا ہے جسے ہندوستانی حکمت کے نوادرات سے لیا گیا ہے۔ انجام کار یہ (روحانیت گھر کے سربراہ کی استقامت کے مسئلے تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایسا اچھا اور ایماندار سربراہ جس کی بیوی ایک رومانوی چالباز کے بہکاوے میں آ جاتی ہے لیکن اس کا اصل چہرہ بے نقاب ہو جانے پر وہ پشیمانی میں اپنے خاوند کے پاس لوٹ آتی ہے۔
یہ مختصر جائزہ اس ’عظیم انسان ‘ کی عظمت کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے جسے جرمن روشن خیال’ پیغمبر ‘کا درجہ دیتے ہیں۔ اس کلی طور پر تردیدی تنقید کا جواب دینے کے لئے اس کے مداح یقینا اس کی دیگر ’زیادہ آفاقی‘ تصانیف کا حوالہ دیں گے۔ تاہم، ہماری رائے میں ایک عقلی رجحان کے معنی اس بات سے بعینہ آشکارہوتے ہیں کہ وہ ہم عصر اہم مسائل کے متعلق کیا کہتا ہے۔ کیا اس سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ الجھاوٴ کے دور میں کوئی راستہ دکھا پائے گا؟ بلاشبہ کسی نظریے یا نقطہٴ نظر ( یا وہ لوگ جو اس کا دعویٰ کرتے ہیں) کی وقعت یا بے وقعتی اس بات سے آشکارہو تی ہے کہ وہ اس دور کے لوگوں کو ان کے مسائل اور تگ و دو کے متعلق کیا مشورہ دیتا ہے۔ ذہانت کو نرے نظریے کے غبارے (اور خوش نما کمرے کی دیواروں ) میں پرکھنا مشکل ہے۔ یہ اسی لمحے اپنے آپ کو ظاہر کردیتی ہے جب یہ انسانوں کے رہبر کا مرتبہ حاصل کرتی ہے۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ اس (ٹیگور) کی ذہانت ، برطانوی پولیس کی عقلی خدمت بجا لائی ہے اس لیے اس کی باقیات پر توجہ صرف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
جارج لوکاش کا یہ مضمون مضامین کے مجموعے Reviews and Articles
سے لیا گیا ہے جسے Merlin Press, Londonنے1983میں شائع کیا۔
جارج لوکاش، George Lukac's جدید مارکسی فکر میں اہم نام ہے جس نے مارکس پر ہیگل کے اثر کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا۔اس نے بتایا کہ مارکس ہیگل کا پیرو کار بھی تھا اور بے رحم نقاد بھی،اس نے ہیگل سے کیا لیا اور کیا رد کیا۔ اس نے ہیگل کے فلسفے میں جدلیاتی عنصر اور عینیتی اثرات کو علیحدہ کرکے دکھایا۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ ہیگل کو جانے اور سمجھے بغیر مارکس کو سمجھنا ناممکن ہے۔
لوکاش نے یک رخے میکانکی اور ڈارونزم کے رویوں کی مخالفت کی اور مارکسی فلسفے کے جدلیاتی خدو خال بیان کئے ۔ لوکاش کا ایک اور بڑا کارنامہ ’غیر عقلی ‘فلسفے کا مدلل جواب ہے۔
لوکاش کی تمام تحریریں گہرا فلسفیانہ رنگ لئے ہوئے ہیں۔ مختصراً وہ ہیگل _مارکس کی لڑی کا دانش ور ہے۔ مارکسی ادب، تنقید اور جمالیات کی روایت میں اس کا بہت بڑا مقام ہے۔ اور اس نے ادب میں رومانوی اور غیر عقلی رجحانات کا منہ توڑ جواب دیا۔

اس کی لکھی ہوئی کتابیں یہ ہیں۔
1. Soul and Form
2. Theory of Novel
3. The Rise of Histrical Novel
4. The Meaning of Contemporary Realism
5. Essays on Thomas Mann
6. Goethe and His Age
7. Write and Critic
8. History and Class-Consciousness
9. Studies in European Realism
10. Solzhenitsyn
11. The Young Hegel
12. Destruction of Reason
13. Ontology of Social Being, Hegel
14. Ontology of Social Being, Marx.
15. Specificity of Aesthetics (English Translation, not available)
اس کے علاوہ اس نے بے شمار مضامین اور تبصرے لکھے جو مختلف رسالوں میں چھپتے رہے۔نمبر ایک سے چودہ تک کی تمام کتابیں Merlin Press Londonنے شائع کی ہیں۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.