ناسمجھ ذہن چاہتا ہے چلے
خود کو تاریخ میں تلاش کرے،
راستے کا مگر نہیں ہے پتہ،
حجرے سے صحن میں نکل آیا
وسعتوں، کھیتوں، جنگلوں میں پھرا۔
ٹھوکروں سے اڑی جو دھول گئی
آسمانوں تلک، وہ چیخ اٹھا
سرکو پیڑوں پر اس نے دے مارا۔
روشنی دیکھی دور پر، لپکا
گرد اس کے طواف کرنے لگا،
چاہا بس اس کو قبضے میں کرلے۔
بچے کی طرح اوندھے منہ وہ گرا اور بے سدھ ہے گھاس پر وہ پڑا۔
سب ہے گڈمڈ، پتہ نہیں چلتا
کیا ہے خواب اورہے حقیقت کیا