1992ء میں کسی کو یہ امید نہ تھی کہ جزائر غرب الہند کے ایک نامعروف ادیب و شاعر کو ادب کا نوبل انعام ملے گا ۔ ڈیرک الٹن والکاٹ Derek Alton Walcottغرب الہند کے پہلے ادیب ہیں جنہیں نوبل انعام سے نوازا گیا ۔ یہ وہی ادیب ہیں جنہوں نے اپنی پچیس نظمیں چھپوانے کے لئے اپنی والدہ سے دو سو ڈالر لئے تھے ۔ آج اسی ادیب کی جیب میں نوبل انعام سے حاصل ہونے والی 12ملین ڈالر کی رقم موجود ہے جو انہوں نے خیرات کے لئے وقف کر دی ہے ۔
ڈیرک الٹن والکاٹ 23جنوری 1930ء میں کاٹریں سینٹ لوسیا ( غریب الہند) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام دار دیک تھا جو سرکاری ملازم تھے (غالباً استاد بھی رہے )۔ ان کی والدہ ایلکس اسکول میں استانی تھیں ۔ ڈیرک کا ایک جڑواں بھائی اور بڑی بہن بھی تھی ۔ ڈیرک جب ایک سال کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا تھا ۔ انہوں نے 1954میں موِسٹن سے شادی کی اور 1959ء میں اسے طلاق دے کر مارگریٹ اوتھ میلرڈ سے شادی رچائی ۔ 1992ء میں اس سے بھی طلاق ہوئی۔ ڈیرک نے تیسری شادی اداکارہ اور رقاصہ مارسن میٹی ور سے کی ۔ان کی پہلی بیوی سے ایک بیٹا اور دوسری بیوی سے دو بیٹیاں ہیں ۔
1953ء میں انہوں نے سینٹ میری کالج لولیا سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور پھر یونیورسٹی آف وسیٹ انڈینز کیننن جمیکا میں بھی زیر تعلیم رہے انہو ں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بحیثیت شاعر اور ڈرامہ نگار کیا ۔ سینٹ لولیا کالج کے لڑکوں کے سیکنڈری سکول گرینیڈا ونسٹن کالج جمیکا ، میں استاد کے فرائض بھی انجام دیئے اور ایک جریدے ” ٹرینڈ گارچین “ میں بطور آرٹ کریٹک کے مضامین بھی لکھتے رہے ۔ 1959ء میں انہوں نے پورٹ آف اسپین ٹرینڈلنیل کریب تھیٹر ورکشاپ کی بنیاد بھی رکھی ۔ اور وہاں کے ناظم مقرر ہوئے 1981ء میں کولمبیا یونیورسٹی میں اور 1982میں بوسٹن یونیورسٹی میں تخلیق تحریروں کے وزیٹنگ پروفیسر مقرر ہوئے ۔1985ء میں ڈیرک نے امریکہ کی روتھگر س اور بیل یونیورسٹی میں بھی لیکچر دیئے ۔
اردو میں غرب الہند کی ادبی روایت کو سرے سے متعارف ہی نہیں کروایا گیا کیوں کہ عموماً یہ ہوتا آیا ہے کہ اردو میں وہی شعرو ادب متعارف ہوا جو نصاب میں شامل رہا یا جہاں اردو بولنے والے آباد ہوئے ۔ جزائر غرب الہند میں ہندوستانی نژاد افراد کو موجود ہیں لیکن ان میں اردو ادب اور زبان سے دل چسپی رکھنے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے ۔ ہاں البتہ امریکہ اور کبھی کبھار یورپ میں غرب الہند کے ادیب و شاعر اکادکا آتے جاتے رہتے ہیں اور یہاں کے اخبارات و رسائل میں ان کی چیزیں کم ہی چھپتی ہیں ۔ 1972ء کی بات ہے کہ جب میں امریکہ کی نیگرو شاعری کا مطالعہ کر رہا تھا اسی حوالے سے مجھے جزائر غرب الہند کے شاعری کا مطالعہ کرنے کا بھی موقعہ ملا اور کئی اچھے شعراء کا بھی انکشاف ہوا جو اردو میں ترجمہ نہ ہو سکے یا ہمارے یہاں کے لکھنے پڑھنے والے ان ادیبوں کی ادبی حیثیت کا اندازہ نہ لگا سکے ۔ ان شعراء میں مجھے سب سے زیادہ ڈیرک والکوٹ نے متاثر کیا ان کا نسلی ورثہ انگریزی ولندیزی اور افریقی ہے ۔ لہذا ان کے شعری مزاج میں ایک عجیب قسم کی ثقافتی رنگا رنگی بکھری ہوئی ہے ۔ جس کا اظہار انہوں نے بڑے ہی دلکش انداز میں کیا ہے وہ ایک انوکھی تمدنی احساس محرومی کا شکار ہیں برطانوی تہذیب کے موضوعات ان کے لئے شناسا ہوتے ہوئے بھی اجنبی ہیں ۔ اپنی اولین دور کی ایک نظم میں انہوں نے اپنے افریقی ورثے او ربرطانوی نو آبادیاتی نظام تلے اپنے وجود کو کچلا ہوا محسوس کیا ۔
Where shall i Turn, divided to the vein?
I who have cursed
The drunken of ficer of British rule,
how choose
Between this Africa and the English
tongue I love?
وہ نو آبادیاتی سامراجی نظام کا شکار ہو کر کربین میں کہیں روپوش ہو جاتے ہیں یہ روپوشی مذہبی جلا وطنی ہے اور نہ ہی انہیں فراری کہا جا سکتا ہے کیوں کہ وہ جس خطہ زمین سے تعلق رکھتے ہیں وہاں کی دنیا چند سو میل دور کی دنیا (امریکہ ) سے یکسر مختلف ہے ۔ وہ اپنے تصورات یا خوابوں میں اپنے کربین کے ماحول کو اٹھا کر امریکہ لے جاتے ہیں اور کبھی امریکی فضا کو اپنے آبائی وطن میں لے آتے ہیں کئی فنکارانہ مغالطے ان کی شاعرشی میں نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں مثلاً ان کی مشہور نظم ۔
A Farcry From Africa From in green nightکو پڑھ کر اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنا جذباتی تعلق افریقہ کے خطے سے جوڑنا چاہتے ہیں وہ اپنے پس کرییہ (نوسٹلجیا) سے جہاں انبساط حاصل کرتے ہیں تو انہیں دوسری طرف ایک انجانا سا خوف بھی ہے ۔ جہاں انہیں پاش پاش کیا گیا لیکن اس خطے میں جہاں برطانوی افسر شراب پی کر لوگوں پر حکومت کرتا ہے وہاں شاعری کی ترجیحات تذبذب کا شکارہو جاتی ہیں اور وہ یہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ وہ افریقی تہذیب کو اپنائیں یا انگریزی تمدن کو جس سے وہ بہت محبت کرتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ وہ اتنے ” سیاہ “ نہیں کہ اپنے سیاہ فام ہونے پر فخر کر سکیں اور نہ ہی ا تنے سفید (گورے)ہیں کہ انہیں اپنے سفید فام ہونے پر ناز ہو ۔ نسلی آمیزش نے ایک ادھوری رجائیت اور ادھوری قنوطیت کی فضا پیدا کر دی ہے ۔ وہ اپنی نظم The schooner flightمیں احساس دلواتے ہیں کہ انہیں تاریخ سے معذرت کر لینی چاہیے کہ وہ نو آبادیاتی تعلیم( نظام) کی آواز ہیں ” میں دلندیزی “ نیگرو ( سیاہ فام ) ہوں اور مجھ میں ایک انگریز بیٹھا ہوا ہے نہ ہی میرا کوئی بدن ہے اور نہ ہی قوم ‘ … گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ ڈیرک نے اپنی سیاہ فام محرومی پر اتنے آنسو نہیں بہائے جتنا انہوں نے گورے پن سے اپنے شعری احساس کی تزئین کی ۔ انہوں نے کریبین جزائر کی اسطور ، لوک کہانیوں ، پریوں ، شہزادوں کے قصے ، زبانی فن ، لطائف اور روایتی گیتوں کے تھیم کو مغربی علوم کے مطالعے کے بعد ایک ذاتی اسلوب اور تجربے کو اپنی تحریروں میں دریافت کیا وہ معاشی معاشرتی یا سیاسی تبدیلی صرف اپنی شناخت کی حد تک ہی چاہتے ہیں کیوں کہ ان کا اصل بحران ان کی ذات کی گم شدگی ہے جس نے ان کے اظہار کو کہیں کہیں اتنا پیچیدہ بنا دیا ہے کہ ابہام کے بادل مشکل ہی سے چھٹتے ہیں ۔ لیکن شاعر کا فرد نہایت ہی حساس ہے ۔ جب نو آبادیاتی نشہ اور نسلی ورثے کی وضعداری ، انگریزی زبان کی بلاغت کے بعد اثر انگیز ہوجاتی ہے تو وہ اپنے ہاتھوں سے انگریزی تمدن اور مقامی کریبین ورثے ایک دوسرے سے باہم کر دیتے ہیں اور نہایت فنکاری سے انہیں ایک دوسرے سے جدا بھی کر دیتے ہیں جس طرح وہ بین الثقافتی تجربے کو اپنی شاعری میں پیش کرتے ہیں اسی طرح وہ سایسی معاملات کو بھی اپنی شاعری میں مختلف رنگوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ ان کی شاعری کا سیاسی حصہ خاصا ” انقلابی “ ہے ۔ ان کی شاعری کی کتاب The star Apple Kingdomمیں انہوں نے دو بڑی عالمی طاقتوں کی کشمکش میں ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک کی صورت حال کی تصویر کھینچی ہے خاص طور پر ان کی نظم Egypt Tobagoمیں ” بیردیک تعطل “ کے احساس کو بیان کیا ہے کس طرح کی استحصالی قوتیں غیر متحرک ہو جاتی ہیں جب ان پر خود اپنے کھوکھلے ہو جانے کا انکشاف ہوتا ہے ۔ یہ نظم دنیا کے تیزی سے تغیر پذیر حالات کی طرف اشارہ کرتی ہے ڈیرک کی نظمیں اپنی گہری معاشرتی معنویت کا خود ہی جواز پیدا کرتی ہیں وہ نہ زیادہ تجسس پیدا کرتے ہیں نہ قاری کو تحیر کے عمل سے گزارتے ہیں اور نہ ہی ان کی شاعری میں سکوت و جمود کی پریشان کن فضا قائم ہوتی ہے ۔
ڈیرک نے شاعری کے علاوہ ڈرامے بھی لکھے ان کے ڈراموں کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے ڈراموں میں لسانی جبر کی موجودگی کا اپنے قارئین ناظرین کو شدت سے احساس دلواتے ہیں ۔ انہوں نے کبھی بھی لایعنی ڈرامے سے اپنی وابستگی کا اظہار نہیں کیا ۔ وہ خیالات کو الفاظ پر فوقیت دیتے ہیں اور وہ خیال کو حرکات و سکنات کے ذریعہ پیش کرتے ہیں اداکاروں کی ڈرامائی حرکات نے مکالمے کو خود بخود راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کیا ۔ ان کے یہاں خیال اور اس کے اظہار میں فطری سادگی ملتی ہے وہ جتنے بھی الفاظ مکالمے میں استعمال کرتے ہیں وہ خیال کے ساتھ پورا انصاف کرتے ہیں ۔ماضی ان کا مسئلہ ہے لیکن امروز میں بھی وہ دلچسپی لیت ہیں ۔ا ن کے ڈراموں میں کردار کہانی کو پیش کرتا ہے کہانی کردار کو پیش نہیں کرتی مراد یہ کہ کردار اور لفظ کی ان کے یہاں ثانوی حیثیت ہوتی ہے وہ اپنے کھیلوں میں لوک روایت ، لطیفے اور لوک کہانیوں کو تمثیلوں کی شکل میں پیش کرتے ہیں جو مکمل طور پر ”لوک ڈراموں “ کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس میں ماہی گیر قیدی جھینگر ، مینڈک اور پرندے ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں ۔ شیطان بھی اسٹیج پر آکر عجیب و غریب آوازیں نکالتا ہے جن میں مقامی مسائل کی باز گشت سنائی دیتی ہے ۔ ان ڈراموں میں شیطان کا کردار کسی اہم کردار سے کسی طور پر کم نہیں ہوتا ۔ ڈیرک کا مشہور ڈرامہ Dream on Monkey Mountain(1971)بھی کریبین لوک کہانیوں سے متاثر ہو کر لکھا گیا جس میں ضعیف الاعتقادی اور نو آبادیاتی حقائق تفادت سے پیدا ہونے والے خوف اور وسوسوں کو اس طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ جہاں ماضی ہمیشہ زندہ رہتا ہے ۔ لوک روایت کے خواب بھی نو آبادیاتی دنیا میں آزادی کے عنصر خیال کو زندہ رکھتے ہیں ۔ نقادوں نے ان کے ڈراموں کے متعلق لکھا ہے کہ ان کے بہت سے ڈرامے شاعرانہ ہیں کیوں کہ انہوں نے شاعرانہ موضوعات کو نئی وسعت ددیتے ہوئے اپنے ثقافتی تحیر کو ریڈیکل تشویش اور سفاکی کی زبان عطا کی لیکن یہ ڈرامہ جتنا دلچسپ ہے اتنا ہی پیچدہ بھی ہے جس میں کریبین جزائر کے سیاہ فام لوگوں کے رسوم و رواج معاشرتی پہلوؤں اور ان سے پیدا ہونے والے عمرانیاتی مظاہر کی گہرائیوں میں اترا گیا ہے ۔
ڈیرک کے فن پر کئی لوگوں نے لکھا جس کی تفصیل اوپر آچکی ہے اس مضمون کو لکھنے کے لئے متفرق مضامین اور اییک مصاحیے سے بھی مدد لی گئی ہے چند اہم ماخذات کی فہرست دی جاتی ہے جو یقیناً اردو تحقیق اور تنقید میں بہتر حوالہ جاتی فہرست ہو گی ڈیومیسنDavid Masonنے Derek Walcott: Poet of the New Worldکے عنوان سے ایک مضمون لکھا جو لٹریری ریویو 1986ء اسپرنگ میں شائع ہوا ۔ ارسکن پیٹرز Erskine Petersنے اپنے مقالے The Theme of Madness in the Plays of Derek Welcottمیں ڈیرک کے افریقی امریکی تجربے کے ڈرامائی دیوانہ کو واضح کیا گیا ہے ۔ یہ مضمون کالج ایسوسی ایشن جرنل دسمبر 1988ء میں چھپا ۔
American Mimicry, Derek Walcottکے عنوان سے رائی ٹریرڈا Raiteradaنے مقالہ لکھا یہ ڈی سی ٹیشن ایبسٹریکٹ انٹر نیشنل اکتوبر 1990ء میں شائع ہوا ۔ دی امریکن پوئیٹری ریویو نے مئی ، جون 1978ء کی اشاعت میں ویلر ی ٹروبلڈ Valerie Truebloodکا مضمون بعنوان Derek Walcottشائع کیا ۔ اس مضمون میں ویلری نے ا ن کے شاعرانہ اسلوب اور لسانی تشکیلات پر نہایت ہی دلچسپ باتیں کی ہیں ۔ ڈیرک کے کریبین ثقافتی ورثے کے تعلق سے جے ائے ریمسرن نے New World Mediterean Poet Derek Walcottکے عنوان سے مضمون لکھا اور ان کے تاریخی شعور کو دریافت کرنے کی کوشش کی ۔ یہ مضمون ورلڈ لٹیچریٹن ان انگلش V21(1)اسپرنگ 1982ء میں شائع ہو چکا ہے ڈیرک کی شاعری کا ایک عام تاثر لئے ہوئے ایک مضمون Walcoott's Voice: A study of poetry Histtory of Derekبھی ملتا ہے جو ” لڑیری ہاف ایرلی “ جنوری 1983ء میں شائع ہوا ۔ اس مضمون کو ہنا ایچ ایچ گودا ۔
Anniah H.H Gowdaنے لکھا ڈیرک نے خود اپنے فن پر The poet in the theatre کے عنوان سے لکھا جو امریکہ کے جریدے پویٹری ریویو ونٹر 1990-91کی اشاعت میں شامل ہے ڈیرک یوں تو انٹرویو کم ہی دیتے ہیں لیکن ان کا ایک مصاحبہ پرشین ریویو اسپرنگ 1990ء میں An Interview with Derek Walcottکی سرخیوں سے شائع ہوا ۔ انٹرویو لینے والے ڈیوڈ مونٹی گیرے David Montegre تھے ۔ یہ انٹرویو اس لئے اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں ڈیرک نے اپنے فن اور اس کے پس منظر پر بڑی تفصیل سے باتیں کی ہیں کنیئمپرری آتھرز نارویجن سیریز نمبر 26میں صفحہ 445تا 448میں ڈیرک پر بڑا معلوماتی مضمون شامل ہے اس کے علاوہ پچاس سے زیادہ مقالات اور مضامین ان کے فن و شخصیت پر شائع ہوچکے ہیں جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں ۔
ڈیرک والکوٹ پر نہ صرف غرب الہند کے رسائل و جرائد میں مضامین شائع ہوئے بلکہ یورپ اور بالخصوص امریکہ میں ان کی شاعری اور فن ڈرامہ پر بھی علمی و ادبی سطح پر کئی اہم تنقیدی مضامین شائع ہوئے ہیں ۔ امریکہ کے اخبارات نے بھی صحافیانہ رنگ میں ڈیرک کی فن کا رانہ شناخت کو ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا ۔