ادب

ارسطو
( 384۔322ق م )
ارسطو ان عظیم ہستیوں میں سے ایک ہے جس کا نام رہتی دنیا تک زندہ رہے گا ۔ ارسطو حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے 384سال پہلے ایتھنز سے دو سو میل دور شمال میں اسٹاگیرا کے مقام پر پیدا ہوا ۔ اس کا باپ ایک متمول شخص تھا اورمقدونیا کے بادشاہ ایمن ٹاس کا طبیب خاص تھا ۔ باپ کی خواہش کے مطابق ارسطو نے بچپن میں طب کی تعلیم حاصل کی اور ادویات کے تجربات میں باپ کے ساتھ شریک رہا ۔ اسی وجہ سے تحقیق و تفتیش شروع ہی سے اس کی گھٹی میں پڑ گئی ۔ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ ایتھنز آیا اور افلاطون سے فلسفے کی تعلیم حاصل کرتا رہا ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ آٹھ سال تک جاری رہا اور بعض کتابوں میں آیا ہے کہ وہ بیس سال تک افلاطون سے تعلیم حاصل کرتا رہا ۔وہ اس قدرذہین تھا کہ افلاطون اسے ذہانت مجسم کہتا تھا ۔کتابیں پڑھنے اور جمع کرنے کے شوق میں یہ عالم تھا کہ اس زمانے میں جب چھاپہ خانہ نہیں تھا اس نے اتنی کثیر تعداد میں کتابیں جمع کیں کہ شاید ہی ایتھنز میں کسی کے پاس اتنا بڑا ذخیرہ ہو ۔ افلاطون اس کے گھر کو ” پڑھنے والے کا گھر “ کہتا تھا ۔ جب اسکندر اعظم تیرہ سال کا ہوا توا س کے باپ مقدونیا کے بادشا فلپ نے اپنے بیٹے کی تعلیم کے لیے ارسطو کو اتالیق مقرر کیا۔ باپ کے مرنے کے بعد جب اسکندر تخت سلطنت پر بیٹھا اور اپنی فتوحات سے دنیا کی تاریخ پر اَنمٹ نقوش ثبت کیے تو اپنے استاد ارسطو کو بھی نوزا ۔ ارسطو نے 53سال کی عمرمیں لائی سی یمLyceum کے نام سے ایک اسکول قائم کیا بنیادی طور پر یہ ایک سائنسی ادارہ تھا جہاں نیچر ل سائنس اور حیاتیات وغیرہ پر تحقیقات کی جاتی تھیں اور طلبہ کو سائنس اور علم و ادب کی تعلیم بھی دی جاتی تھی 323ق م اسکندر اعظم عالم جوانی میں مر گیا اس کے مرنے کے بعد بغاوت کا ایک سیلاب اٹھا اور ایتھنز خود مختار ہو گیا۔ حالات ایسے بگڑے کہ ارسطو ایتھنز چھوڑ کر چلا گیا اور ایک سال بعد 322ق م میں وفات پا گیا ۔ اسی سال ڈیمو ستھینز نے بھی زہر پی کر خودکشی کر لی ۔
ارسطو سے سینکڑوں کتابیں اور رسالے منسوب کیے جاتے ہیں جن میں سے بیشتر ضائع ہو گئے۔ کچھ قدیم مصنفین نے ارسطو کی تصانیف کی تعداد چار سو بتائی ہے اور کچھ نے ان کی تعداد ایک ہزار تک بتائی ہے ۔بہر حال اس بات سے یہ ضرور پتا چلا کہ ارسطو نے جو کچھ لکھا وہ سب کا سب ہم تک نہیں پہنچا ۔ لیکن منظق ، سائنس ، فلسفہ ، اخلاق ، و سیاست کے بارے میں کئی اہم تصانیف کے علاوہ فن خطابت اور بطیقا ہم تک پہنچی ہیں ارسطو کی یہ ساری تصانیف ذہن انسانی کے لیے آج بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہیں ارسطو کی ایک بنیادی اہمیت یہ ہے کہ اس نے سائنس، فلسفہ و منطق وغیرہ کی ایسی لا تعداد اصطلاحات وضع کیں کہ دو ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود ہم آج بھی انہی اصطلاحات کی مدد سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں ۔
بوطیقا 335۔322ق م ارسطو کی وہ تصنیف ہے جس کا اثر آج تک جاری و ساری ہے یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ آیا موجودہ صورت میں بوطیقا ارسطو کی اپنی تصنیف ہے یا یہ ارسطو کی اصل تصنیف کا خلاصہ ہے جسے کسی اور نے کیا یا پھر یہ وہ اشارات ہیں جنہیں ارسطو کے لیکچر کے دوران کسی شاگرد نے اپنی یاداشت کے لیے قلمبند کر لیا ۔1498میں جیور جیوولا نے عربی سے اس کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا لیکن یونانی زبان کا اصل متن پہلی بار 1508ء میں شائع ہوا ۔ اس وقت ارسطو کی وفات کو تقریباً ایک ہزار آٹھ سو سال کا عرصہ گزر چکا تھا ۔ یہ بات واضح رہے کہ یورپ یونانی تصانیف سے عربوں کے توسط ہی سے متعارف ہوا ورنہ تقریباً پونے دو ہزار سال تک یورپ یونانی تصانیف سے عربوں کے توسط ہی سے متعارف ہوا ورنہ تقریباً پونے دو ہزار سال تک یورپ یونانی تصانیف کی اہمیت سے لاعلم تھا ۔ ”بوطیقا“ کا پہلا باقاعدہ تنقیدی ایڈیشن ” روبورٹیلی “ نے 1548ء میں مرتب و شائع کیا ۔ ” بوطیقا “ میں اظہار کی وہ وحدت نہیں ملتی جو ارسطو کی دوسری تصانیف کا طرہ امتیاز ہے لیکن اس میں فن شاعری کا ایک مکمل و مربوط نظریہ موجود ہے ۔ بعض نقادوں کا خیال یہ ہے کہ ارسطو نے ” بوطیقا “ میں اپنے استاد افلاطون کا نام لیے بغیر نہ صرف فن شاعری کا جواز پیش کیا ہے بلکہ افلاطون کے اس دعوے کو بھی باطل قرار دیا ہے جس کی وجہ سے اس نے شاعروں کو اپنی مثالی جمہوریہ سے نکال باہر کیا تھا ایٹکنز نے لکھا ہے کہ افلاطون نے ڈرامے کے اثرات پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ڈراما ذہن انسانی کو مضمحل اور کمزور کر دیتا ہے اور انتشار کا اثر پیدا کرتا ہے ۔ ارسط نے کہا کہ یہ اثرات دراصل ذہنی صحت کے لیے نہایت شفابخش ہیں ۔ ڈراما اور شاعری دراصل ذہن انسانی کا کتھارسیس کرتے ہیں ۔ کتھارسیس کی بوطیقا میں وضاحت کی گئی ہے اور آج تک بات ہر قابل وقعت ادب کے سلسلے میں ایک مسلمہ اصول کی حیثیت رکھتی ہے ٹریجیڈی کا مقصد روح کا تزکیہ ہے ۔ ٹریجیڈی کے واقعات روح کو برانگیختہ کرکے دہشت اور ترس کے جذبات کو ایسے مقام پر لے آتے ہیں کہ وہ نہ صرف تھک کر ختم ہو جاتے ہیں بلکہ امید وہمت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں ۔ یہی کتھار سیس ہے ۔ اسی لیے شاعری کی ہمیشہ ضرورت رہے گی ۔ لیکن اس کے باوجود بوطیقا کوئی جوابی تصنیف نہیں ہے اس میں جو ادھورے پن کا احساس ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پوری تصنیف ہم تک نہیں پہنچی اور خصوصیت کے ساتھ وہ حصہ جس میں کامیڈی کے بارے میں ارسطو نے اظہار خیال کیا تھا ۔ خود بوطیقا کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ ارسطو نے صرف ٹریجیڈی کے بارے میں ہی میں نہیں بلکہ کامیڈی پر بھی اظہار خیال کیا تھا۔ بوطیقا میں ایک جگہ اس نے لکھا ہے کہ ” کامیڈی کے بارے میں میں بعد میں بات کروں گا “ ۔ بوطیقا کے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ شعرو ادب کے بارے میں اس نے کچھ اور بھی لکھا تھا بوطیقا میں” ٹریجیڈی کے کردار “ کے ذیل میں اس نے کہا ہے کہ ” بہرحال میری تصانیف میں ان امور کے بارے میں بہت کچھ کہا جا چکاہے “
بوطیقا میں ارسطو نے نقل ، نیچر ، شاعری کی اصل شاعری کی اقسام ٹریجیڈی کے اصول وغیرہ پر بحث کی ہے اور شاعری کا ایک آفاقی نظریہ پیش کیا ہے ” نقل “ فن جمالیات کیا ایک بنیادی اصطلاح ہے ۔ ارسطو اس لفظ کا اطلاق شاعری پر کرتا ہے ۔ پروفیسر بوچر کے الفاظ میں ارسطو کے ہاں نقل کا مطلب ہے حقیقی خیال کے مطابق پیدا کرنا تخلیق کرنا اور خیال کے معنی ہیں اشیاء کی اصل جو عالم مثال میں موجود ہے جس کی ناقص نقلیں اس دنیا میں نظرآتی ہیں ۔ عالم حواس کی ہر شے عالم مثال کی نقل ہے ۔ ارسطو کے نزدیک انسان حواس کے ذریعہ کسی شے کا ادراک کرتا ہے ہر شے کے اندر ایک مثالی ہیت موجود ہے ۔ لیکن خود اس شے سے اس ہیت کا ادھورا اور نامکمل اظہار ہوتا ہے ۔یہ ہیئت فنکار کے ذہن پرحسی شکل میں اثر انداز ہوتی ہے اور وہ اس کے بھرپور اظہار کی کوشش کرتا ہے اور اس طرح اس عالم مثال کو سامنے لاتا ہے جودنیا ئے رنگ وبو میں نامکملطور پر ظاہر ہوا ہے ۔ حواس کے ذریعہ جس دنیا کو محسوس کیا جاتا ہے وہ ” اصل حقیقت “ کے نامکمل اور ادھورے مظاہر ہیں ۔ طبعی دنیا کی مختلف شکلیں جدائی اور مثالی شکلوں کی نقلیں تھیں جنہیں اس مادی دنیا میں سونے والے حادثات نے مسخ کر دیا ہے فلسفی کاکام یہ ہے کہ وہ ان اتفاقی اور مسخ شدہ شکلوں کے اندر ” اصل حقیقت “ کو دریافت کرے اور ان قوتوں کو تلاش کرے جو ساری ہستی کا سبب ہیں اور اسے حرکت میں لاتے ہیں ۔ یہی کام شاعر کا ہے ۔ ارسطو کے اس ” شاعرانہ نقل “ کے نظریہ نے شاعر کو فلسفہ کے اعلی منصب میں ایک اہم مقام عطا کر دیا ۔ اس نظریہ کے مطابق نقل تخلیقی عمل ہے ۔
پیچھے مرکزی صفحہ
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.