| ادب
|
ہومر
تحقیق ہومر کی زندگی اور حالات پر محض مفروضے ہی پیش کرتی ہے ۔ ہومر کب اور کہاں پیدا ہوا ، اس کے روز و شب کا معمول کیاتھا۔ کہاں اس نے زندگی گزاری اس نے کہاں اور کب وفات پائی اس کی تصنیفات کون کون سی ہیں ۔ ان تمام تر سوالات کا صحیح اور یقینی جواب کسی کے پاس نہیں یہاں تک کہ عالمی کلاسیک کے دولافانی تخلیقی شاہکار ” ایلیڈ “ اور ” اوڈیسی “ جن کے فکر وفن کا ہم آئندہ صفحات میں تجزیہ کریں گے ، خود ہومر ہی ان کا تخلیق کار ہے اس کا بھی کوئی مستند حوالہ نہیں ملتا ہومرنامی کوئی رزمیہ شاعر تھا ؟ اس سارے پس منظر میں دیکھا جائے تو ہومر بذات خود ایک افسانوی یاداستانی کردار محسوس ہوتاہے بہر کیف اندازوں ، مفروضات اور مختلف آراء کے ذریعے ہم ہومر کوجاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
شخصیت اورمتفرق حالات و واقعات :
ہومر 800 ق م کے لگ بھگ پیدا ہوا اکثر محققین یہی قیاس کرتے ہیں جیسا کہ محمد سلیم الرحمن ” مشاہیرادب “ میں لکھتے ہیں کہ 800ق م کے لگ بھگ شاعر ہومر کے بارے میں قطعی طور پر کچھ معلوم نہیں ۔ اس طرح قدیم تواریخ بھی بیان کی جاتی ہیں ”مائیکل ہارٹ “ ” سو عظیم آدمی “ میں ایلیڈ ‘ کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ جس ہومر نے یہ ادبی شہ پارہ تخلیق کیا وہ غالباً آٹھویں صدی قبل مسیح میں موجود تھا حالانکہ اس حوالے سے متعدد دیگر تواریخ جو عموماً قدیم ہیں تجویز کی گئی ہیں ۔ ہومر کا زمانہ متعین کرنے کیلئے ایک دلیل نہ صرف خاصی محکم ہے بلکہ سائنسی طور پر بھی وزنی ہے ہومری رزمیوں میں ملاح ستاروں سے رہ نمائی حاصل کرتے ہیں وہ قطب تارے سے ناواقف ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ انہیں نظر نہ آتا ہوگا لہذا وہ دب اکبر نامی مجموعہ نجوم کو راہ نمامان کر جہاز چلاتے ہیں ۔ دب اکبر ایک جگہ ساکت نہیں رہتا لیکن بقول ہومر ” سمندر میں کبھی نہاتا نہیں “ یعنی کبھی غروب نہیں ہوتا نویں صدی قبل مسیح کے دوران دب اکبر غروب ہونے لگا اس حساب سے یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ ہومر کم از کم 900ق م کے لگ بھگ گزرا ہوگا لیکن یہ بھی اس صورت میں ہے جب ہم ہو مر کی شاعری میں موجود مواد پر یقینی اکتفا کریں ۔
مزید برآں خیوس نامی جزیرے کو ہومر کی زاد ہومر کی زاد بوم خیال کیا جاتا تھا سب سے پہلے یہ کہ ہومر و سمرنا کے شہر یا خیوس کے جزیرے سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور تھا بلکہ خیوس میں تو ایسے پیشہ ورسخن سراؤں کا ایک خاندان بھی آباد تھا جو خود کو ہومر بنسی کہتے تھے انہیں یہ دعویٰ بھی تھا کہ ہومر کے رزموں ایلیڈ اوڈ یسی کا مستند متن صرف ان کے پاس ہے اور کلام باطنی معنویت بھی ان کی دسترس میں ہے یہ لوگ خود کو ہومر کی اولاد کہتے بلکہ ہومر سے منسوب حمدوں میں سے اپولو کی حمد میں ایک شخص نے یہاں تک کہا ہے کہ :
” اگر تم سے کوئی پوچھے کہ سب سے شیریں نغمہ سراکون ہے اور تمہیں سب سے زیادہ لطف کس کا کلام سن کر حاصل ہوتا ہے تو یک زبان ہو کر کہہ دینا کہ وہ ایک آدمی ہے نابینا جو سنگلاخ خیوس میں رہتا ہے اور آج بھی اور آئندہ بھی اسی کے گیت سب سے عمدہ کہلائیں گے “
غالباً انہیں الفاظ کی بدولت اس روایت کو فروغ ملا کہ ہو مراندھا تھا ہومر کے جو سوانح پرانے وقتوں میں قلمبند کئے گئے وہ بالکل غیر معتبر ہیں اسی طرح یونانی زبان میں ہومر پر آٹھ سوانح عمریاں گئیں جن میں یہ راویت کہ وہ اندھا گویا تھا اور پیٹ پالنے کیلئے ٹھوکریں کھاتھا پھرتا تھا رومان تراشی کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا ہے کہ ہومر اندھا ہو مگر ” اوڈیسی “ اور ایلیڈ “ میں موجود حیران کن بصری تخیلات اور حالات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ سے یا چھوٹی عمر سے نابینا نہیں تھا لیکن ممکن ہے ایک خاص عمر میں ایسا ہوا ہو یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ’ ہو مر ‘ کے لفظ کے بارے میں کہا گیاہے کہ اصل ” ہو مروس “ ہے یونانی زبان میں جس کے معنی اندھے کے ہیں ہو سکتا ہے کہ اسی سبب سے اسے اندھا سمجھ لیا گیا ۔
ہم نے اوپر شہر ناکاذکر کیا دراصل ہومر کی کچھ سوانح عمریاں یہ بتاتی ہیں کہ وہ دریائے میلس کا بیٹا تھا کیونکہ اس نے اسی دریا کے کنارے جنم لیا تھا جو سمر نا شہر کی نچلی سطح پر بہتا تھا اور ہومر کی ماں کا نام کر یتھائس بتایا جاتا ہے ۔ ہومر کی نظموں کی زبان سے یہ بھی گمان ہوتا ہے کہ ہومر کا تعلق ایونیا سے تھا یہ ایجین سمندر کے مشرقی ساحل پر واقعہ ہے چونکہ دونوں رزمیوں ، ایلیڈ ، اور اویسی ‘ کی زبان پرایونیائی بولی کا غلبہ ہے اور یہ ہومر کے ایونیائی ہونے کے حق میں قاطع دلیل مانی جاتی ہے اس لئے ہومر کو ایونیا یعنی اشیائے کوچک کے جنوب مغربی حصے کا رہنے والا بھی بتایا جاتا ہے ۔
فیمیوس کی ہومر کا معلم بتایا جاتا ہے جو شاعر اور موسیقار بھی تھا اس نے دریائے میلس کے کنارے ایک مدرسہ قائم کر رکھا تھا اسی مدرسے میں ہومر نے ایک قابل استاد کے زیر سایہ تعلیم حاصل کی اور جہالت کے قدیم دور میں اپنی بصیرت سے روشنی پھیلائی لہذا ہومر کا زمانہ کوئی سا بھی ہوا ہے یہ ضرور محسوس ہوتا ہوگا کہ وہا یک تاریک اور پر آشوب دور کے کنارے کھڑا ہے اور سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی شعری روایت کی وساطت سے پرانے جاہ و جلال کی کھچ جھلکیاں اس تک پہنچی ہیں تاریخ کا کوئی جدا گانہ تصور اس وقت موجود نہ تھا شاعری ہی تاریخ تھی ہومر کے سامنے صدیوں پر محیط جنگوں ، محاصروں ، سورماؤں ، کہانیوں ، روایتوں اور راسطوروں سے بھرا ہوا ماضی تھا جس کا اس نے اپنی نظموں میں عطر کھینچ لیا بہر کیف ہومر کے فیمیوس نے نزع کے وقت ہومر کو اپنا جانشین قرار دیا اور اس نے اپنے استاد کی وفات کے بعد اس کے قائم کردہ مدرسے کو بڑی خوش اسلوبی سے چلایا اس کی شہرت دور دور تک پھیلنے لگی ۔ اس دوران مینس نامی متمول سیاح سے ہومر کی ملاقات ہوئی مینس نے اس کی متاثرکن شخصیت کے سبب اسے اپنے ساتھ لیجانے کا اصرار کیا مینس نے سفر کے فوائد سے ہومر کو آگاہ کیا اور کہا کہ اس سے تمہارے شاعر انہ ذوق کو اور تقویت ملے گی ہومر بالآخر اس سیاح کے ساتھ چل دیا اور گھات گھات کا پانی پیا ۔
کہا جاتا ہے کہ ہومر کی نظرپیدائشی طور پر ہی کمزور تھی یا کثرت مطالعہ کے باعث ہومر کی نظر کافی حد تک کمزور ہو چکی تھی پھر یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ اتھیکا نامی شہرمیں اس کی بینائی بالکل نہ رہی اور اسی شہر میں اس نے یولیس کی داستان سنی جسے اس نے ” اودیسی “ کی بنیاد رکھی بعدازاں سمر نا شہر میں اس نے فن شعر گوئی پر کامل دھیان دیا ہومر جب کیومی رہر میں رہائش پذیر تھا اس وقت بینائی سے محرومی نے معاش کا مسئلہ پیدا کر دیا البتہ ہومر شہر کی خاص و عام مجلسوں میں رومیہ نظمیں سنا کر د ادوتحسین کے ساتھ ساتھ کچھ نقد انعام بھی حاصل کر یتا محقیقن بتاتے ہیں کہ کیومی شہر کی شہری کونسل میں شہر کے امراء نے درخواست پیش کی ہومر کا مستقل وظیفہ لگا دیا جائے تا کہ وہ مسئلہ معاش سے سکبدوش ہواور توجہ سے قابل قدر شاعری جاری رکھے مگر کونسل کے صدر نے وظیفہ دینے سے معذوری ظاہر کی جس سے ہومر بہت مایوس ہوا اسی عالم میں فوکیبا نامی شہر چلا گیا وہاں شہرت کا مارا ہوا ایک شخص تھسٹور ائڈٹس ہومر سے ملا ۔ اس شخص نے ہومر کے گزر بسر کی ذمہ داری اٹھائی مگر اس شرط کہ ہومر جو کچھ بھی تخلیق کرے گا نام تھسٹور ائڈٹس کا ہی ہوگا مجبوری کا نام شکریہ مگر پھر جب اس شخص کے پاس ہومر کا لکھاہوا اچھا خاصا ذخیرہ ہو گیا اس نے ہومر کو بے یارو مدد گارچھوڑ دیا چنانچہ ہومر فوکیبا سے بھی روانہ ہو گیا ۔
۔ اکثر تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ ہومر فوکیبا سے اریتھری پہنچا وہاں اسے ایک گلہ بان ملا ۔ گلہ بان اسے اپنے مالک کے پاس لے گیا مالک نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے ایک معلم کی اشد ضرورت کے تحت ہومر کو یہ کام سونپ دیا ہومر کی قابلیت اور لیاقت سے وہ مالک کافی متاثر تھا یوں ہومر نے استاد کی حیثیت سے شہرت کمائی بتایا جاتا ہے اسی شہر میں ہومر نے شادی کی دو بیٹیوں کا باپ بنا ، بہر کیف ہومر دربدر ٹھوکریں کھاتا رہا اور شاہکار ” ایلیڈ “ اور اوڈیسی ‘ پایہ تکمیل کو پہنچتی رہیں ۔
وفات :
تذکروں میں نہ اس کی عمر کا کوئی قصہ ہے نہ اس کا سن وفات ملتا ہے البتہ عوام الناس میں اس بات کا چرپا تھا کہ ہومر اریتھری سے ایتھنز روانہ ہوا اب اس کی شہرت چاروں اوٹ پھیل چکی تھی کہا جاتا ہے کہ جب وہ ایتھنز روانہ ہوا تو راستے میں جزیرہ ساموس آیا وہاں کے لوگوں نے ہومر کو بڑی عزت بخشی اور اسے تحفے تحائف دیئے ابھی وہ ایتھنز نہیں پہنچا تھا کہ راستے میں موجود جزیرہ یوس میں سخت بیمار ہوا اسی بیماری نے جان کا قیمتی سرمایہ چھین لیا اور ہومر جیسا عظیم شاعر اس دنیائے فانی میں اپنا دائمی نقش چھوڑ کر رخصت ہوگیا ۔
ایک مشہور واقعہ جو ہومر سے متعلق سنا جاتا ہے ہم اسے یہاں بیان کرتے چلیں ہومر کے بارے میں ایک کتاب ارسطو سے منسوب کی جاتی ہے اس کتاب میں ایک روایت موجود ہے جس میں بیان ہے کہ ہومر سیرو سیاحت کے دوران آرکیڈ یا کے سمندر کے ساحلی علاقے میں ماہی گیروں کی ایک بستی میں جا پہنچا اس نے ماہی گیروں سے سوال کیا کہ ۔
” اے آرکیڈیا کے ماہی گیرو ! تم اپنے پاس کیا کچھ رکھتے ہو ؟
انہوں نے جواب میں ایک پہلی ہومر کو سنائی کہ :
” جو کچھ ہم نے پکڑا تھا سو پیچھے چھوٹ گیا ، جو ہم نے نہیں پکڑا وہی ہمارے پاس ہے “
کہتے ہیں کہ ہومرکی سمجھ میں یہ پہیلی نہ آسکی اور کچھ ایسا نفسیاتی المیہ ہوا کہ اسی عالم میں اس کی موت واقع ہوگئی۔
|
|