پانچویں اور چھٹی صدی قبل مسیح کا زمانہ اور اس سے پہلے اور بعد کا ایک مخصوص دور یونانِ قدیم میں فن، ادب، فلسفہ اور دیگر فنونِ لطیفہ کی نشاة الثانیہ کا عہدِ زرّیں تھا۔یہی وہ دور تھا جب سقراط، افلاطون اور ارسطو نے فلسفہ حیات و ممات اور زندگی کے اخلاق و آداب کے لیے اچھوتے معیار واضح کیے ۔ ہومر یونانی رزمیہ کا بابائے آدم بن کر سامنے آ گیا۔ شیفو نے جنس کی جبلّت کو اپنی رومانی شاعری کا بنیادی جزو بنایا اور دنیا میں پہلی بار شدتِ جذبات اور لذّتِ ہوس سے بھر پور عشق و محبت کے سانچے میں ڈھلی ہوئی شاعری تخلیق کی۔اسی زمانے میں قلم بند کی گئی ہیروڈوٹس کی تاریخ کو دنیا میں تاریخ کی اولین شیرازہ بندی کا شرف حاصل ہوا اور اس قدیم یونان میں جالینوس نے حکمت کے نئے چراغوں سے عوام کے لیے صحت یابی کے میزان مقرر کیے ۔ اسی زرّیں یونان میں ایسکائی لس،سوفوکلیز اور یوری پیڈیز کے المیہ ڈرامے اور ارسٹوفینیز کے تخلیق کردہ طربیے مکمل ڈرامے کی صنف میں فنی طور پر متعارف ہوئے ۔ یونان کے کلاسیکی ڈراموں کو عام طور پر دیوی دیوتاؤں کے حالات پر مبنی دیو مالا ہی سے اخذ کیا جاتا تھا جنھیں ان فن پاروں میں انسانوں ہی کی طرح جذبات، محسوسات،خیالات اور اقدامات کے ما تحت کام کرنے والے اور زندہ رہنے والوں کی حیثیت حاصل ہے ۔ یہ دیوتا ظالم بھی ہیں اور زانی بھی۔ وہ رحم کرنے والے بھی ہیں اور اپنے دشمنوں کو پتھر سے مجسموں میں تبدیل کرتے وقت وہ کسی انسانی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔
یونانی ڈرامے کی عوام کے سامنے پیش کش کا با قاعدہ آغازاس وقت ہوا جب اسے خمریات کے دیوتا ڈیونی سس یا باکس دیوتا کے اعزاز میں ایک سالانہ مقابلے میں اداکاروں کے ذریعے متعارف کیا گیا۔ یونان کے شہر ایتھنز میں منعقدہ اس مقابلے میں ہر ڈراما نگار تین المیے اور ایک طربیہ پیش کرنے کا پابند تھا اور انعام یافتہ ڈراما نگار کے سر کو زیتون کے پتوں سے آراستہ ایک تاج سے سجایا جاتا تھا۔
ڈرامائی ادب میں المیہ ایتھنز میں لوگوں کے لیے ادوارِ قدیم ہی سے تفریح کا ایک محبوب ذریعہ تھا۔ اگرچہ رزمیہ بھی عوام کے سامنے گا گا کر پیش کیا جاتا تھا لیکن اسے وہ مقبولیت حاصل نہ ہو سکی جو بعد میں المیہ ڈرامے یا ٹریجڈی کے حصے میں آئی۔” الیاڈ“ اور ”اوڈیسی“ کے مصنف ہومر نے کٹہارا نامی ایک تار والے ساز کے ساتھ اپنے یہ دونوں رزمیے گا گا کر دوسروں کو سنائے لیکن اس کی میٹھی آواز اور ترنم بھی سامعین کا دل نہیں لبھا سکے اگرچہ بعد میں زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر یہ دونوں تخلیقات ساری دنیا میں یکتائے زمانہ فن پاروں میں شامل کی گئیں۔
ڈراما یونانی زبان میں حرکت کو کہتے ہیں۔ اس کے پیش نظر اس وقت یونان میں یہ دستور تھا کہ ڈراما نویس اپنی تخلیق کوا سٹیج پر پیش کرنے کے عمل میں خود بھی شامل ہوتا تھا۔ اسے حکام کی طرف سے اداکار اور دیگر ساز و سامان فراہم کیا جاتا تھا جس کے لیے سرکار رقومات بھی بہم کرتی تھی مگر ڈرامائی پیش کش کی کامیابی یا ناکامیابی صرف مصنف کی کارکردگی کا ما حصل تصور کی جاتی تھی۔ ان ڈراموں میں کسی عورت کو اداکاری کرنے کی اجازت حاصل نہیں ہوتی تھی کیونکہ ملک کے زعما اور امرا اس خدشے میں مبتلا تھے کہ کہیں ان کی خواتینِ خانہ بھی اس لہو و لعب میں شریک ہو کر ان کی بد نامی کا باعث نہ بن جائیں۔ بعد میں خواتین اداکاراؤں نے ان ڈراموں میں نقاب پہن کر حصہ لینا شروع کیا تاکہ ناظرین انھیں پہچان نہ سکیں۔ بصورتِ دیگر نو جوان اور خوبصورت لڑکے ہی دلکش نسوانی کرداروں کی اداکاری کرتے تھے ۔
یونان کے کلاسیکی ڈرامے کی شاندار عمارت کو جس عدیم المثال زیب و زینت سے ایسکائی لس، سوفو کلیز اور یوری پیڈیز و مزاح اور طنز نگار ، ارسٹو فینیز نے پیراستہ کیا اس کی مثال دنیا کے کسی ڈرامائی ادب میں آج تک نہیں ملتی۔ایسکائی لس (456-525قبل مسیح) جسے یونان کا ”بابائے المیہ“ کہتے ہیں، ایتھنز کے متصل الیوسس کے قصبے میں پیدا ہوا۔ اسے بچپن سے ہی کھیل کود اور مبارزت کا شوق تھا۔ اس نے مرا تھن میں پارسی بادشاہ دارا کی فوجوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا جس کا ذکر اس نے اس قطعہ میں بھی کیا ہے جو اس کے لوحِ مزار پر کندہ ہے ۔
ایسکائی لس جوانی میں انگور کے ایک باغ میں کام کرنے لگا جہاں ایک روز ڈیونی سس نے خواب میں آ کر اسے یہ بشارت دی کہ وہ المیہ کے فن کی طرف اپنی توجہ مبذول کرے اوراس شعبے میں اسے شہرت حاصل ہوگی۔ اس کے بعد ایسکائی لس نے چھبیس سال کی عمر میں اپنا پہلا المیہ ڈراما تحریرکیا۔
ایسکائی لس نے اگرچہ اپنی انہتر سالہ زندگی میں کئی ڈرامے لکھے لیکن اس کے تحریر کردہ صرف سات ڈرامے ہی موجود رہ سکے ۔ باقی ستر سے نوے ڈرامے زمانے کی دست برد کا شکار ہو چکے ہیں۔
ان فن پاروں میں ”اگامیمنان“ سب سے زیادہ مشہور ہے جو اس یونانی سپہ سالار کی المناک کہانی بیان کرتا ہے جس نے اپنے بھائی مینی لاس کے لیے اس لیے ٹرائے کے شہر پر چڑھائی میں حصہ لیا کہ مینی لاس کی بیوی ہیلن کو ٹرائے کے شہزادے پارس نے اغوا کر کے اپنی داشتہ بنا لیا تھا۔
اس دس سالہ جنگ میں ٹرائے کا سارا شہر زمین بوس ہوا اور لا تعداد انسان اپنی جانیں گنوا بیٹھے ۔ اس طویل جنگ کے آخری دنوں کا حال ہومر نے ”الیاڈ“ میں بیان کیا ہے جسے دنیا کی سب سے زیادہ پر اثر رزمیہ داستان کا مرتبہ حاصل ہے ۔
اگامیمنان بعد میں اپنی بے وفا بیوی کلے ٹیم نیسٹرا اور اس کے عاشق ایجستھس کے ہاتھوں بڑی بے رحمی سے قتل ہوا۔
ایسکائی لس کے ڈراموں کی خاصیت یہ ہے کہ ان میں ڈراما نگار کے فنِ کمال کی نزاکت اور تخیل کی بلندی ڈراما دیکھنے والوں یا پڑھنے والوں کے دل و دماغ کو مسحور کر دیتی ہے ۔ اس فنکا رانہ جذبات میں ایسکائی لس نے اپنے دو ہم عصروں سوفوکلیز اور یوری پیڈیز پر خاص سبقت حاصل کر لی ہے ۔
ایسکائی لس کے ڈراموں میں مذہب اور اخلاقیات کی قدروں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے جن کے ذریعے اس نے دیوی دیوتا?ں کے تئیں توقیر و تحسین کا اظہار کیا ہے اور گناہوں کی پاداش میں انھی کے ہاتھوں سزا پانے کے فلسفہ کو نمایاں طور پر پیش کیا ہے ۔ ایسکائی لس کو ڈرامائی مقابلوں میں کئی بار اولین اعزاز سے نواز گیا۔
سوفوکلینر (406-495ق م) یونان کا دوسرا ممتاز ڈراما نگار ہے جو ایتھنز کے قرب میں کولونس کے مقام پر پیدا ہوا۔ اس طرح سے وہ ایسکائی لس نے عمرمیں تیس سال چھوٹا اور یوری پیڈیز سے پندرہ سال بڑا تھا۔ سوفو کلینر کا باپ ایک متمول اور بار سوخ شہری تھا جس نے اپنے اس بیٹے کو شاعری اور موسیقی کے فن میں تربیت دلانے کی غرض سے شاندار انتظام کیا۔ اسی تربیت کے نتیجے کے طور پر سوفوکلینر نے رقص و نغمہ کی اس تقریب کی رہنمائی کی جو سلاس میں اس کے وطن کی فتح کے جشن کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ جوانی میں سوفوکلیز شراب اور عورتوں کا رسیا تھا۔اس بات کا اظہار اس نے اپنے ہی ایک مکالمے میں کیا ہے جسے افلاطون نے درج کیا ہے ۔ سوفوکلیز کہتا ہے ۔ ”میں اپنی پیرانہ سالی کا شکرگزار ہوں کہ اس نے مجھے خواہشات کے عذاب سے آزاد کر لیا۔“ سوفو کلیز کے بھی صرف سات ڈرامے حوادثِ زمانہ سے محفوظ رہ سکے ہیں جن میں موضوعاتی طور پر ایک دوسرے سے منسلک تین المیہ ڈراموں پر مشتمل ”ایڈیپس ریکس“ اس کا لافانی شاہکار ہے ۔ ایڈیپس بادشاہ، ایڈیپس کولونس میں اور انٹی گنی نام کے اس مسلسل ڈرامے میں سوفوکلیز نے ایک ایسے بد قسمت بادشاہ کی غم ناک کہانی بیان کی جس نے تقدیر کے ہاتھوں آلہ کاربن کر اپنے باپ کو قتل کیا اور بے خبری میں اپنی ہی ماں کے ساتھ شادی کر لی۔ جب اس کی ماں کو اس ہولناک عمل کا علم ہوا تو اس نے خود کشی کر لی اور ایڈیپس کو بھی اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا پڑا۔ سوفوکلیز پر اغلام بازی کا بھی الزام ہے ۔ پلوٹارک نے اپنی ”پیرا کلیز کے سوانح“ نامی کتاب میں اس واقعے کا ذکر کیا ہے کہ ایک سمندری مہم جوئی کے دوران سوفوکلیز ایک نوجوان رنگروٹ کی اسی طرح بے تحاشا تعریفیں کرتا رہا جس طرح ایک عاشق اپنی محبوبہ کی تعریفوں کے پل باندھتا ہے ۔ اس پر پیرا کلیز نے اسے زبردست تنبیہہ کی اور اسے خبردار کیا کہ ”ایک فوجی افسر کو نہ صرف اپنے ہاتھ پاک و صاف رکھنے چاہیئیں بلکہ اسے اپنی آنکھوں پر بھی قابو رکھنا چاہیے ۔“ ارسطو نے سوفوکلیز کے ایڈیپس کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ ایک مکمل المیہ ہے جس میں اس نے ایک ایسا اعلیٰ ترین معیار قائم کر لیا ہے جس کی بدولت اس کے بعد کے یونان میں بھی اسے عزت و احترام حاصل رہا ۔ سوفوکلیز عمرِ دراز پاکر 406ق م میں وفات پا گیا۔
یوری پیڈیز(406-480ق م) میں سالا مِس کے جزیرے میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ اگرچہ ایک با وسیلہ اور باعزت شہری تھا لیکن اس کی ماں کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ نچلے درجے کے ایک گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور جڑی بوٹیاں بیچنے کا کام کرتی تھی۔ اسی تناظر میں اس کا حریف کامیڈی نگار ارسٹوفینیز اپنے ”مینڈک“ نام کے ڈرامے میں کہتا ہے کہ ”یوری پیڈیز خود پست ذات کا فرد تھا جس کی ماں سڑکوں پر میوے ، پھول اور جڑی بوٹیاں بیچتی تھی۔ یونانی دیو مالا میں یہ حکایت درج ہے کہ یوری پیڈیز کے باپ کو ایک غیبی آواز نے یہ مڑدہ سنایا کہ اس کے ایک بیٹا ہوگا جس کی ہر فردِ بشر عزت کرے گا اور جو شہرت اور مقبولیت کا پیکر ہوگا۔ یوری پیڈیز ایک بسیار نگار ڈراما نویس تھا۔ اس کے تخلیق کردہ ڈراموں کی تعداد پچھتر سے لے کربیانوے تک بتائی جاتی ہے جن میں صرف انیس ڈرامے محفوظ رہ سکے ہیں جو آج بھی ہمارے جذبات میں جولانیاں پیدا کرتے ہیں۔ اس نے اپنی زندگی میں ڈرامائی مقابلوں میں چار بار پہلا انعام حاصل کیا اور بعد از مرگ بھی اسے ایک بار اس اعزاز سے نوازا گیا۔ یوری پیڈیز کی زندگی کے آخری سال میگنیشیا اور مقدونیہ میں بسر ہوئے ۔ اس نے اپنی پہلی بیوی ملیسٹو کو بد چلنی کی بنا پر طلاق دی۔اس نے دوسری شادی چایر نام کی خاتون سے کی لیکن اس کے بعد بھی وہ بد نصیبی کے عالم میں مبتلا رہا۔ یوری پیڈیز 406ق م میں اس وقت زخمی ہو کر فوت ہوا جب اس کے دشمنوں نے اس پر خونخوار کتّے چھوڑ دیے جو اسے لہو لہان کر کے اس کی حادثاتی موت کا باعث بن گئے ۔ یوری پیڈیز کو اگرچہ وطن سے دور پہیلا کے مقام پر سپردِ خاک کیا گیا لیکن اس کے آبائی شہر ایتھنز میں بھی اس کی یادمیں ایک یادگار تعمیر کی گئی۔ یوری پیڈیز کے زمانے تک یونا نی ڈراما کمالِ فن کی رفعتوں کو چھو چکا تھا جس کی آبیاری یکے بعد دیگرے ایسکائی لس سفوکلیز اور ارسٹوفینز نے کی تھی۔ یوری پیڈیز کے ڈراموں میں ”میڈیا“ سب سے چونکا دینے والا جذباتی ڈراما ہے ۔ اس کی کہانی ایک جادوئی حسینہ میڈیا کے نا قابل تسخیر عزم کے ارد گرد گھومتی ہے جو اپنی سوتن کے ساتھ ساتھ اپنے دو بچوں کو بھی بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیتی ہے کیونکہ اس کے خاوند جیسن نے ایک دوسری عورت سے بھی شادی کی تھی۔ اس ڈرامے کاوہ آخری حصہ پڑھتے وقت رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جس میں میڈیا اپنی سوتن کو اپنے بچوں کے ہاتھوں زہرمیں ڈوبا ہوا ایک نیا لباس تحفہ کے طور پر بھیجتی ہے جسے پہنتے ہی یہ عورت تڑپ تڑپ کر مر جاتی ہے اور اس خوف کے مارے کہ اب اس کے بچوں کو بھی اس جرم کی پاداش میں قتل کر دیا جائے گا وہ خود ہی انھیں موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے ۔ یونانی المیہ نگار عام طور پر اپنے ڈراموں کے درد بھرے انجام کو دیوتا?ں کی کار کردگی سے ہی تعبیر کرتے تھے ۔ میڈیا کے اختتام پر بھی یوری پیڈیز کہتا ہے
دیوتا کئی صورتوں میں اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں کئی باتیں عجیب و غریب طریقے سے اختتام کو پہنچتی ہیں جو ہم چاہتے ہیں کہ ہو جائے ، وہ ہوتا نہیں اور جن باتوں کی ذرہ بھر بھی توقع نہیں ہوتی انھیں دیوتا خود ہی سر انجام دیتے ہیں اوراس کہانی میں بھی کچھ ایسا ہی پیش آیا ہے ۔
یوری پیڈیزکے ڈراموں میں ہزاروں ایسے مکالمے موجود ہیں جو آج بھی یادگار مقولوں کی طرح استعمال ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ”جب نیک سیرت لوگ مر جاتے ہیں تو ان کی نیکی خاک میں نہیں ملتی بلکہ وہ ان کی نظروں سے دور ہونے کے باوجود باقی رہ جاتی ہے ۔ جہاں تک برے لوگوں کا تعلق ہے ان کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ سب ختم ہو کر انھی کے ساتھ دفن ہو جاتا ہے ۔“ ارسٹوفینز (388-444ق م) یونانی ڈراما نویسوں کی آخری معتبر کڑی ہے جو طربیہ ڈرامے اور طنزیہ نظمیں لکھتا تھا۔ اگرچہ اس کی پیدائش کا پسِ منظر اور حالات زندگی دستاویزی اور تاریخی شواہد کے ساتھ موجود نہیں لیکن عام طور پر ایتھنز ہی کو اس کی جائے پیدائش مانا جاتا ہے ۔ اسی طرح اس کے سالِ پیدائش اور تاریخِ وفات میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ارسٹوفینز کے بھی ایک درجن بھر ڈرامے موجود ہیں جن میں اس نے اپنے ہم عصروں کے فن اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مذاق اڑایا ہے ۔ ارسٹوفینز کے طربیہ ڈراموں میں اس وقت کے یونان میں معاشرتی بے راہ روی، مرد عورت کے آزادانہ جنسی اختلاط کا والہانہ پن اور سرکاری ایوانوں میں رشوت ستانی، بے ایمانی اور حسد و افتراق کی نشان دہی بار بار کی گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے عہد میں ہی ایک ممتاز طنز نگار اور نقاد کی صورت میں خاص و عام میں مشہور ہوا۔ والٹیر کا کہنا ہے کہ ”طربیہ وہ ہے جو معاشرہ کی بدکاریوں اور بد حرکتوں کی بولتی تصویر ہو۔“ اس لحاظ سے ارسٹو فینز کے طربیہ ڈراموں کو بہترین طربیہ کا درجہ دیا جا سکتا ہے ۔