ایزرا پاؤنڈ (1885ء ۔1972) کا وطن امریکہ تھا لیکن دوسری جنگ عظیم میں خود امریکہ والوں نے اسے ننگ وطن قرار دے کر سولی پر چڑھانے کا سارا انتظام کر لیا تھا لیکن خدا بھلا کرے ان ڈاکٹروں کا جنھوں نے اسے پاگل کہہ کر جان بچالی اور یہ تجویز پیش کی کہ اسے دماغی امراض کے ہسپتال میں رکھا جائے ۔ ایزرا پاؤنڈ تیرہ سال واشنگٹن کے پاگل خانے میں رہا اور 1985ء میں رابرٹ فراسٹ کی درخواست پر جس میں لکھا گیا تھا کہ ہم اس ذلت کو برداشت نہیں کر سکتے کہ ایزرا پاؤنڈ اس جگہ مرے جہاں وہ اس وقت ہے اسے رہا کر دیا گیا رہائی سے پہلے ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ لا علاج ضرور ہے لیکن خطرناک نہیں ہے ۔
یہ سب اس لیے ہوا کہ وہ جنگ سے نفرت کرتا تھا ۔ جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو ایزرا پاؤنڈ اٹلی میں تھا امریکہ کو جنگ سے باز رکھنے کے لیے وہ اٹلی سے واشنگٹن گیا لیکن ناکام لوٹا ۔ یہ جنگ اس کے لیے سود خوروں کی جنگ تھی ۔ جو زر و دولت کے لیے حسن و صداقت کو تباہ کرنے کے در پے تھے ۔ جنگ کے دوران وہ امریکہ کے خلاف ریڈیو روم سے باقاعدہ پروگرام نشر کرتا رہا ۔ جنگ ختم ہوئی تو وہ روم سے اپنی بیٹی کے پاس میرا نو آگیا اور 1945ء میں امریکی فوجوں نے اسے گرفتار کر کے لوہے کے ایک پنجرے میں جس میں گوریلا رکھا جاتا ہے پیسا کے قریب قید کر دیا جوتے کے فیتے اور کمر کی پیٹی فوجیوں نے اس سے اس خیال سے لے لی کہ وہ کہیں خود کشی نہ کر لے اور پنجرے کے چاروں طرف کانٹے دار تاروں کا ایک جال بن دیا رفع حاجت کے لیے ایک ڈبا ، بارش اور دھوپ سے بچنے کے لیے ایک موٹا سا کاغذ اسے دے دیا گیا پنجرے پر چاروں طرف سے تیز روشنیاں اس طرح ڈالی گئیں کہ وہ چین سے نہ بیٹھ سکے ۔ دن رات پہرہ دار اس کے نگرانی کرتے ۔ اس وقت پاؤنڈ کی عمر ساٹھ سال تھی ۔ اس پنجرے میں اس نے گرمیاں گزاریں اور ” پیسن کینٹوز “ لکھے ۔ نومبر 1945ء میں اسے واشنگٹن لایا گیا اور تہتر سال کی عمر تک وہ پاگل خانے میں رہا ۔ 1949ء میں جب ”پیسن کینٹور “ پر اسے شاعری کا سب سے بڑا انعام دیا گیا تو سارے امریکہ میں کہرام مچ گیا اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا کسی تصنیف کو مصنف کی عملی زندگی کے حوالے سے دیکھنا چاہیے یا اسے مصنف کی ذات سے الگ کرکے دیکھنا چاہیے ! یہ بحث سارے امریکہ کے اخباروں اور رسالوں میں چلتی ری اور ننگ وطن پاؤنڈ پاگل خانے میں اپنی زندگی کے دن کا ٹتا رہا ۔ اس نے لکھا
WHAT THOU LOVEST WELL
REMAINS
THE REST IS DROSS
چھ فٹ لمبا قد اچھی شکل و صورت ، چمکتی ہوئی گہری سبز آنکھیں سرخ بال جیسے مہندی لگی ہو ۔ جھگڑا لو ، جھکی ، خود پسند ، ہر چیز میں نئے پن کا متلاشی ، دوستوں کا دوست ، آڑے وقت میں کام آنے والا ، نئے ذہنوں کا راہنما ایلیٹ نے کہا کہ مسٹر پاؤنڈ ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے بیسویں صدی کی شاعری میں انقلاب برپا کر دیا ۔ جیمس جوئس نے لکھا کہ اس سے زیادہ سچی بات کوئی اور نہیں ہو سکتی کہ ہم سب اس کے ممنون احسان ہیں اور خاص طور پر میں تو اس کا انتہائی ممنون ہوں ۔ تقریباً بیس سال ہوئے جب اس نے میری حمایت میں ایک زبردست مہم شروع کی اور اگر پاؤنڈ مجھے دریافت نہ کرتا تو شاید میں آج بھی گوشہ گمنامی میں پڑا ہوتا ۔پاؤنڈ ہی کی کوششوں سے میرا ناول ” یولی سس “ شائع ہو سکا ۔ آڈن نے کہا کہ چند ہی ایسے معاصر شعرا ہوں گے جو یہ کہہ سکیں کہ اگر مسٹر پاؤنڈ نہ ہوتے تو ان کی تخلیقات ویسی ہی ہوتیں جیسی کہ وہ آج ہیں۔ ہیمنگوئے نے پاؤنڈ کی راہنمائی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اپنے دوستوں کو ہر سطح پر آگے بڑھانے کی کوشش کرتا ہے وہ ان کی حمایت کرتا ہے ، ان کی تخلیقات کو رسالوں میں شائع کراتا ہے ، انہیں جیل سے نکلواتا ہے روپیہ ادھار دیتا ہے ۔ ان کی تصویریں فروخت کرتا ہے ۔ ان کے کنسرٹ کا انتظام کرتا ہے ۔ ان کے بارے میں مضامین لکھتا ہے ۔ دولت مند عورتوں سے ان کو متعارف کراتا ہے ۔ ناشروں کو تلاش کرتا ہے ۔ جب وہ مرتے ہیں تو ساری رات ان کے سرہانے بیٹھا رہتا ہے اور ان کی وصیت کی گواہی دیتا ہے ۔ ان کی بیماری کے اخراجات برداشت کرتا ہے انہیں خود کشی سے روکتا ہے اور دلچسپ بات یہ کہ آخر میں بہت کم دوست ایسے نکلتے ہیں جو موقع ملتے ہی خود پاؤنڈ کو زخمی کرنے سے نہ چوکتے ہوں ۔ ایلیٹ نے کہا کہ 1922ء میں پریس میں اس نے ایک لمبی چوڑی بے تکی سی نظم پاؤنڈ کو دکھائی ۔ پاؤنڈ نیا سے توجہ سے پڑھا اسے کاٹا ، بدلا آدھا کیا اور اس شکل میں لے آیا جس شکل میں وہ آج نظر آتی ہے آج ” دی ویسٹ لینڈ “ بیسویں صدی کی مشہور ترین نظم ہے ۔
پاؤنڈ نے ییٹس (Yeats) کے بہترین تخلیقی دور میں اسے جدید تیکنیک اور روایت سے روشناس کیا جسے یٹیس نے اپنی شاعری میں جذب کرکے وہ کار نامے انجام دیئے جس کے لیے وہ شہرت دوام رکھتا ہے پاؤنڈ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے انگریزی ادب کو عہد کی وہ شکل نہ ہوتی جو آج نظر آتی ہے اور یہ کوئی ایسی معمولی بات نہیں ہے جسے یوں ہی نظر انداز کر دیا جائے ۔ ہاں جب اس سے نفرت کرنے والے مرجائیں گے اور اس کی شاعری اور کارناموں کو اس دور کے پس منظر میں رکھ کر دیکھا جائے گا تو اس وقت پاؤنڈ کی صحیح اہمیت سامنے آئے گی اس کے سیاسی و فسطائی خیالات نے ” یہود دشمنی ‘ نے جنگ دوم کے زمانے میں اپنے وطن امریکہ کے خلاف نشریات نے ایک ایسی فضا پیدا کردی ہے کہ اس کی شخصیت کا یہ پہلو اس کی شاعری اور کارناموں کو چاٹ جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1908ء میں جب وہ امریکہ سے یورپ آیا تو اس کے بعد وہ صرف تین مرتبہ امریکہ گیا پہلی بار ایک بااثر مشہور نوجوان شاعر کی حیثیت سے دوسری بار دوسری جنگ عظیم کو روکنے کے لیے اور آخری بار ایک پاگل او غدار کی حیثیت سے ۔ جب 1988 ء میں وہ پاگل خانہ سے رہا ہوا تو کچھ دن امریکہ میں رہ کر وہ اٹلی چلا آیا ۔ جہاں فلورنس کے ایک ہسپتال میں وہ یکم نومبر 1972کو 87سال کی عمر میں مر گیا ۔ وہ 30اکتوبر کو پیدا ہوا تھا اور یکم نومبر کو مر گیا ۔
امریکی اسے امریکی کہتے ہوئے جھنپتے ہیں لیکن ساری عمر امریکہ میں رہنے کے باوجود وہ اندر اور باہر سے امریکی تھا ۔ اگر پاؤنڈ امریکی نہ ہوتا تو وہ جدیدیت اور اس کی روایت کی تلاش کے سلسلے میں وہ کام ہرگز انجام نہیں دے سکتا تھا جس کی وجہ سے وہ اس صدی کا سب سے زیادہ بااثر دانشور شاعر سمجھا جاتا ہے۔
پاؤنڈ کے ” کام “ کو سمجھنے کے لیے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انیسویں صدی کے آخر تک امریکہ والے انگریزی روایت کے مقلد تھے ۔ امریکی کلچر اور امریکی ادب دونوں ذیلی حیثیت رکھتے تھے ۔ لونگ فیلو اور دوسرے معاصر شعر او اویب رومانی اور عہدوکٹوریہ کے ادب تقلید میں اپنی تخلیقی صلاحیتیں صرف کر رہے تھے لیکن ندر سے ہر امریکی کی یہی خواہش تھی کہ اس کا اپنا ممتاز کلچر اور ادب ہو جسے وہ امریکی کلچر اور ادب کہہ سکے ۔ دھٹ مین امریکہ کا پہلا شاعر ہے جس کے ہاں یہ احساس شدت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی کلچر اور شاعری کو انگلستان کے کلچر اور شاعری سے مختلف ہونا چاہیے۔ دھٹ مین کی ” لیوز اوف گراس “ پڑھیے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ امریکی ہونا چاہتا ہے اور اسی خواہش کے ساتھ ایک ایسی نئی شاعری وجود میں آرہی ہے جسے پرانی شاعری سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے ۔ یہ شاعری ویسی ہی اور یجنل ہے جیسے جنگل میں اڑتی ہوئی کسی چڑیا کی سریلی آواز ، جوذرا دیر کو آپ کا دل موہ لیتی ہے ۔ دھٹ مین کی شاعری کو دیکھ کر یہ خیال آتا ہے ۔ کہ یہ خودرو شاعری ہے ۔ اس کا تعلق روایت سے نہیں ہے اور یہ اس وقت تک عظمت کو نہیں چھو سکتی جب تک اسے کسی کلچر کے نظام سے پیوستہ نہ کر دیا جائے ۔
دھٹ مین نے جو کچھ کیا وہ الگ ضرور ہے لیکن ” روایت “ سے یکسر الگ ہونے کی وجہ سے اس پر آگے کوئی عمارت تعمیر نہیں کی جا سکتی ۔ یہاں سے امریکی ذہن میں یہ شعور پیدا ہوا کہ وہ اپنے منفرد کلچر کی تشکیل کے لیے ” نئی روایت “ کی تلاش و جستجو کرے ۔ اس شعور کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے امریکی ادیب یورپ آنے لگے ۔ یورپ والے اب تک امریکہ والوں کو ” معلوم “ سمجھتے تھے ۔ مارک ٹوئین کے ناول ” ان نوسینٹ ایب روڈ “ میں سی احساس کی ترجمانی ملتی ہے ۔ گالزوردی کے میں مسٹرول موٹ کا کردار اور اس کے ڈرامے ، ” دی لٹل مین “ میں جو امریکی کردار نظر آتے ہیں ۔ ان سے یہی تاثر سامنے آتا ہے ۔ امریکی ذہن تیز وطباع ضرور ہے لیکن یورپ کی تہذیب کی پیچیدگی سمجھنے سے قاصر ہے ۔ امریکہ اور یورپ کے اس فرق کو ولیم جیمس نے زیادہ گہرائی کے ساتھ اپنے ناولوں میں پیش کیا ہے ۔ اس کے پہلے دور کے ناولوں میں ” پورٹریٹ اوف اے لیڈی “ میں ایک ذہن و متجسس امریکی لڑکی آخر میں ایک بوڑھے یورپین آرٹسٹ کے دام محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے ۔ اسی طرح اس کے آخری دور کے ناول ” ایمبسیڈر “ میں پچاس سالہ ” اسٹریچر “ یورپ آتا ہے تو دیکھتا ہے کہ ایک جوان امریکی لڑکا ایک سن رسیدہ فرانسیسی عورت کے دام فریب میں گرفتار ہے ۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یورپ کی تہذیب بوڑھی ہو چکی ہے مگر نوجوان امریکی اس میں ایسی کشش محسوس کرتا ہے کہ اس کے دام الفت میں گرفتار ہو جاتا ہے ۔ اس انداز فکر سے ہمیں ایک نئے رحجان کا احساس ہوتا ہے۔ یہ وہی رحجان ہے جو دھٹ مین کے ہاں اپنی شکل بناتا ہے اور امریکی فکر و شعور کا حصہ بن جاتا ہے یعنی ایک ممتاز و منفرد امریکی کلچر کی پیدائش ۔
اس رجحان سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ خود امریکہ والوں کو بھی اس کا احساس ہے کہ ان کے پاس اپنا کوئی کلچر نہیں ہے جس کی جڑیں گہری ہوں ۔ امریکہ میں تو ہر چیز نئی تھی اور نئی سے نئی کی تلاش امریکی فکر کا حصہ تھی لیکن نئی نسل تہذیب کی جڑوں اور آب حیات کی تلاش میں بے چین تھی ۔ ولیم جیمس اور اس کے بعد ایزرا پاؤ نڈ اور پھر ایلیٹ وغیرہ اسی روایت کی تلاش میں یورپ آتے ہیں ۔ ایلیٹ اسی روایت کی تلاش میں کیتھولک ہو گیا اور مذہبی ادارے جن میں کلیسا بھی شامل تھا ، اس کے لیے آب حیات بن گئے ۔ ایزراپاؤنڈ نے بھی یورپ کی ساری تہذیب کو کھنگالا ۔ وہ ملک ملک گھومتا پھرا ۔ ہومر اور یونان میں اس نے گہری دلچسپی لی ۔ اٹلی اور اس کی قدیم روایت کا مطالعہ کیا فرانس کے جدید ادب سے وہ متاثر ہوا ۔ لایبئر کو اس نے اپنی ” محبوبہ “ کہا اور اسی کے ساتھ ساتھ اس نے شیکسپیئر اور ملٹن پر پتھر برسائے ۔ پاؤنڈ کی یہی کوشش تھی کہ تہذیب کے مخرج سے امریکی فکر کو اس طور پر ملا دے کہ ایک نئی امریکی روایت وجود میں آجائے جس میں عالمی روایت بننے کی پوری صلاحیت موجود ہو ۔ کنفوشیس اور چینی نظموں کے تراجم بھی پاؤنڈ کے اسی سفر کی داستان سناتے ہیں ۔ وہ ساری عمر اسی نئی روایت کی تلاش میں پھرتا رہا اور ایسے سانچوں اور تکنیک کی تلاش میں سرگرداں رہا جن میں قدیم روایت کونئی بنا کر صحیح طور پر بٹھایا جا سکے ۔ اسی تلاش میں اس کی کامیابی اور ناکامی دونوں پوشیدہ ہیں ۔
ایلیٹ نے پاؤنڈ کی منختب نظموں پر مقدمہ لکھتے ہوئے شاعروں کو تین درجوں میں تقسیم کیا ہے ۔ کیا وہ شاعر جو کسی تیکنیک کو آگے بڑھاتے اور پھیلاتے ہیں ایک وہ شاعر جو کسی تیکنک کی صرف پیروی کرتے ہیں اور ایک وہ شاعر جو تیکنک ایجاد کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ” ایجاد کی بات اس لیے غلط ہے کہ یہ ناممکن ہے ایک ایسی نظم جو بالکل ” اور ریجنل “ ہوتی ہے یقیناً ایک خراب نظم ہوتی ہے یہ ( خراب معنی میں ) اتنی ” داخلی “ ہو جاتی ہے کہ اس کا کوئی تعلق اس دنیا سے نہیں ہوتا جس کے لیے وہ لکھی گئی ہے ۔ اور یجنلٹی کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آسمان سے اتار کر ایک ایسی بالکل نئی چیز لائی جائے جس کا تعلق اپنے ماضی سے نہ ہو ۔ تخلیقی سطح پر حقیقی اور یجنلٹی صرف ایک ارتقاء کا عمل ہے اور اگر یہ ارتقا صحیح معنوں میں ارتقاء ہے تو اس کا نتیجہ آخر میں یہ نکلے گا کہ ہم ایسے شاعر کے بارے میں یہ کہنے لگیں گے کہ وہ سرے سے اوریجنل ہی نہیں ہے اس نے تو صرف یہ کیا ہے کہ ایک قدم کے بعد وسرا قدم اٹھایا ہے ۔ حالانکہ حقیقی اور یجنلٹی اسی کا نام ہے آسمان سے اتار کر نئی چیز یش کرنے والی اور یجنلٹی کھوٹی اور جعلی چیز ہوتی ہے ۔ پاؤنڈ کی اور یجنلٹی قدیم شاعری کا منطقی ارتقاء ہے ۔ دھٹ مین کی اور یجنلٹی ” کھری “ اور یجنلٹی تو ہے لیکن ساتھ ساتھ جعلی بھی ہے کھری ان معنی میں کہ وہ انگریزی نثر کا منطقی ارتقاء ہے اور جعلی ان معنی میں کہ دھٹ مین اس زبردستی نظم کی ایک صورت کہتا ہے ایلیٹ اسی لیے دھٹ مین کو عظیم نثر نگار کہتا ہے۔
اب آپ دیکھیے کہ اگر پاؤنڈ تہذیب اور مزاج کے اعتبار سے امریکی نہ ہوتا تو اسے نئی حقیقی روایت کی تلاش میں یورپ اور مشرق کی قدیم و جدید تہذیبوں کی تلاش کی ضرورت محسوس نہ ہوتی اسی تلاش و جستجو نے اسے جدیدیت کی تحریک کا بانی میانی بنا دیا ۔ اس کی شاعری کے بارے میں دورائے ہو سکتی ہیں لیکن اس کی تاریخی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ بیسویں صدی کے ادب کا اندازہ پاؤنڈ کے بغیر نہیں لگایا جا سکتا۔ اس وقت انگریزی و امریکی ادب ایک تناور درخت کی طرح ہے جس میں لاتعداد شاخیں، پھل اور پھول ہیں مگر اس کی جڑیں اس بیج سے پھوٹی ہیں جس کو ہم ننگ وطن پاگل ایزر اپاؤنڈ کے نام سے پکارتے ہیں۔ عمر بھر اس کا نصب العین یہ رہا کہ ہر شخص کو ایک نئی ابتدا کرنی ہے اور کیونکہ دنیا میں کوئی چیزنئی نہیں ہے اس لیے ہر فرد اپنی نظر اور اپنے فن سے موجود ہ چیز ، خیال ، فکر ، روایت کی نوعیت بدل کر اسے نیا بنا سکتا ہے فن کا ر کا کام یہی ہے۔کہ وہ ماضی سے آئی ہوئی چیزوں کو اس طرح نیا بنا تا رہے کہ ان میں زندگی باقی رہے اور اس طرح وہ آئندہ بھی باقی رہنے کی ضمانت دے ۔ مرتے دم تک وہ روایت کی تلاش کرتا رہا اور اس کے بنائے ہوئے خاکوں کی مدد سے اس کا اثر قبول کرنے والے شعرا وفن کا ر عظمت کے راستے پر چلتے رہے ۔ روایت کی تلاش ہی اس کا اصل کام ہے ۔