ٹی ایس ایلیٹ
(1888ء ۔1928ء)
ٹی ایس ایلیٹ 1888ء میں مسوری ( امریکہ ) کے صنعتی شہرسینٹ لوئی میں پیدا ہوئی ۔ یہاں اس کے والد تجارتی حلقوں میں ایک ممتاز حیثیت کے مالک تھے ۔ اس نے اپنی خاندانی روایت کے مطابق بارورڈ میں تعلیم پائی اور چار سال تک فلسفے کی تعلیم حاصل کرتا رہا ۔ 1910ء میں سورین یونیورسٹی (پیرس ) میں ادب و فلسفہ کی تعلیم کے لیے چلا گیا اور وہاں سے واپس آکر اعلی تعلیم کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی آگیا ۔ 1914ء میں امریکہ سے انگلستان چلا آیا اور 1915ء سے یہاں مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ 1917ء میں اسے وہاں کی شہریت بھی مل گئی ۔ ایلیٹ نے اپنی زندگی کا آغاایک ٹیچر کی حیثیت سے کیا ۔ کچھ عرصے تک وہ ایک بنک میں کلرک کی حیثیت سے بھی کام کرتا رہا ۔ 1917ء سے 1919ء تک وہ امیجسٹ تحریک کے رسالے ” ایگواسٹ ‘ کے نائب مدیر کے فرائض بھی انجام دیتا رہا ۔ 1922ء میں ” کرائی ٹیرئین “ کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا جو 1939ء تک پابندی سے نکلتا رہا ۔ اس رسالے کا اثر ان نئے لکھنے والوں پر گہرا پڑا جو آج مشہور ادیب و شاعر کی حیثیت سے انگریزی ادب کا نام روشن کر رہے ہیں ۔ 1917ء میں اس کا پہلا مجموعہ کلام Prufrock and other Observationsاور 1919ء میں Poemsشائع ہوا ۔ لیکن اس کی اصل شہرت کا آغاز اس کی طویل نظم ” دی ویسٹ لینڈ “ سے ہوا ۔ یہی وہ نظم ہے جس کا مسودہ ایلیٹ نے ایزرا پاؤنڈ کو پیرس میں دیا تھا اور پاؤنڈ نے کاٹ چھانٹ کر نہ صرف اس کو آدھا کر دیا تھا بلکہ اس کی ہیت بھی مقرر کر دی تھی ۔ یہ نظم 1922ء میں شائع ہوئی ۔ اس عرصے میں اس کے کئی مجموعے شائع ہوئے Collected Poems کے نام سے جو مجموعہ 1936ء میں شائع ہوا اس سے وہ نظمیں بھی شامل تھیں جو 1925ء میں ” پوئمس “ کے نام سے شائع ہوئی تھیں اور ان کے علاوہ 1909ء ۔1935ء تک لکھی جانے والی ساری منتخب نظمیں بھی ۔ 1943ء میں اس کی طویل نظم The Four Quarterنیو یارک سے شائع ہوئی ۔ 1932ء میں اس نے منظوم ڈراموں کو انگریزی ادب میں پھر سے مروج کرنے کا آغاز کیا اور 1985ء تک چھ منظوم ڈرامے لکھے ۔
لیکن جہاں ایلیٹ اپنے دور کا بڑا شاعر ہے وہاں نقاد کی حیثیت سے بھی جدید ادب پر اس کا اثر گہرا ہے ۔ بعض نقادوں نے اسے بیسویں صدی کا میتھیو آرنلڈ کہا ہے ۔ تنقید میں اس کی کئی قابل ذکر تصانیف ہیں ۔ 1948ء میں اسے ادب کا نوبل پرائز اور انگلستان کا سب سے بڑا اعزاز ” آرڈر اوف میرٹ “ ملا ۔ 1965ء میں اس نے وفات پائی ۔
بحیثیت نقاد ایلیٹ کی ممتاز خصوصیت یہ ہے کہ مختلف علوم و فنون کے دائرے میں داخل ہونے کے باوجود اس کا مرکز فکر ادب رہتا ہے ۔ کروچے ، جس کا ذکر پہلے آچکا ہے تنقید کو فلسفے کی ایک شاخ بنا دیتا ہے ۔ لیکن ایلیٹ کی تنقید بنیادی طور پر ادبی رہتی ہے ۔ وہ کروچے کی طرح کوئی نظریہ پیش نہیں کرتا بلکہ وہ تو تنقید کو اپنے کارخانہ شاعری کی ایک ذیلی پیداوار سمجھتا ہے ۔ ایلیٹ ورڈ سورتھ اور کولرج کی طرح نئی شاعری کا موجد ہے اور اس کی تنقید بھی اس جدت ی وضاحت اور اس کا اظہار ہے ایک طرف ممتاز خصوصیت یہ ہے کہ اس کی تنقید میں ایکمنفرد انداز فکر و نظر کا احساس ہوتا ہے ایک طرف وہ نئی شاعری کا ممتاز نمائندہ ہے اور دوسری طرف وہ روایت کا بھی سختی سے پابند ہے اور بار بار اپنے کلاسیکی ہونے کا اظہار کرتا ہے ۔ ” روایت اور انفرادی صلاحیت “ ایلیٹ کا نمائندہ مضمون ہے ۔ روایت کے تعلق سے جب وہ شاعر کی انفرادی صلاحیت پر غور کرتا ہے تو کہتا ہے کہ اگر ہم تعصب کے بغیر کسی شاعر کا مطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آئے گی کہ اس کی شاعری کے بہترین اور منفرد حصوں میں مرحوم شعراء کی آواز سنائی دے رہی ہے ۔ وہ شعراء جو اس سے پہلے گزرے ہیں جواس کے اسلاف ہیں اور جن کے روایت کو نظر انداز کرکے وہ اس زبان میں شاعری نہیں کر سکتا تھا روایت کے سلسلے میں وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ سونے چاندی اور جائیداد کی طرح روایت میراث میں نہیں ملتی بلکہ اگر کوئی اسے حاصل بھی کرنا چاہے تو اس کے لیے بڑے ریاض کی ضرورت پڑتی ہے ۔ ساتھ ساتھ تاریخی شعور کی ضرورت بھی پڑتی ہے تا کہ جب ادیب لکھے تو اسے نہ صرف اپنی نسل کا احساس رہے بلکہ یہ احساس رہے بلکہ یہ احساس بھی رہے کہ یورپ کا سارا ادب ہومر سے لے کر اب تک اور خود اس کے اپنے ملک کا سارا ادب ایک ساتھ زندہ ہے اور ایک ہی نظام میں مربوط ہے ۔ کوئی فن کارتن تنہا اپنی کوئی الگ مکمل حیثیت نہیں رکھتا ۔ اس کی اہمیت اور بڑائی اسی میں مضمر ہے کہ پچھلے شعرا اور فن کاروں سے اس کا کیا رشتہ ہے ؟ جس طرح ماضی حال کو متعین کرتا ہے اسی طرح حال ماضی کو بھی بدلتا رہتا ہے
اسی مضمون میں جس کا ترجمہ آپ آئندہ صفحات میں پڑھیں گے ایلیٹ شاعری اور جذبات کے سلسلے میں بھی بڑی اہم بحث اٹھاتا ہے اور لکھتا ہے کہ شاعر کا کام نئے جذبات کی تلاش کرنا نہیں ہے بلکہ معمولی جذبات کا استعمال کرنا ہے اور پھر انہیں شاعری میں برتتے وقت اسے احساسات کا اظہار کرتا ہے جو متداول جذبات میں بالکل نہیں پائے جاتے ۔ شاعری میں ” معنی خیز “ جذبات کا اظہار بھی ہوتا ہے ۔ یہ ایسے جذبات ہوتے ہیں جن کی زندگی شاعر کے سوانح حیات میں نہیں ملتی بلکہ خود نظم کے اندر ملتی ہے ۔ اسی لیے وہ رومانی نقادوں کے برخلاف شاعر سے ہٹ کر خود ” نظم “ کے مطالعے ، اس کی فارم اور تکنیک پر زور دیتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ رومانی تنقید کا مخصوص لفظ ” تخیل “ (Imagination)استعمال کرنے کے بجائے ادراک (Sensibility)کا لفظ استعمال کرتا ہے ۔ یہ بات آپ کو یقیناً یاد ہو گی کہ کولرج نے لفظ تخیل کو نئے معنی دے کر اسے رومانی تنقید کا بنیادی لفظ بنا دیا تھا ۔ ایلیٹ کسی فن پارہ کو کوئیا یسی الہامی چیز تسلیم نہیں کرتا جو شدت جذبات کے ساتھ ایک خاص شکل اور ایک خاص لمحے میں خود بخود وجود میں آگیا ہو ۔ وہ فن پارے کو ایک شے کی طرح سمجھتا ہے جسے سوچ سمجھ کر ناپ تول کر سلیقے اور محنت سے تعمیر کیا جاتا ہے اور جس کا مقصد ایک مخصوص اثر پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ یہ اثر فن کار کے سامنے پہلے سے موجود ہوتا ہے ۔ فن کی شکل میں جذبات کے اظہار کا واحد طریقہ یہ ہے ۔ کہ معروضی تلازمات (Objectove Correlatives)تلاش کیے جائیں یعنی اشیاء کو اس طرح ترتیب دیا جائے موقع و محل اور واقعات کے سلسلوں کو اس طور پر جمایا جائے کہ جب خارجی واقعات حسی تجربوں کے ذریعے ظاہر ہوں تو وہ مخصوص جذبات ابھر آئیں جو نظم لکھنے سے پہلے شاعر کے پیش نظر تھے ۔ اس تخلیق عمل کو ایلیٹ معروضی تلازمات کا نام دیتا ہے جسے اس نے ہیملٹ والے مضمون میں بیان کیاہے ۔
ایلیٹ رومانیت کے خلاف ہے اور مابعد الطبیعیاتی ادراک کو اصل شاعری کہتا ہے ڈون اور اس کے مکتبہ فکر کے دوسرے شعراء اسی لیے اصل شاعرانہ ادراک کے حامل ہیں جسے ملٹن اور ڈرائیڈن نے خراب کر دیا ہے اور دو سو برس تک انگریزی شاعری نراجیت کا شکار رہی ۔
ایلیٹ کا ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ شاعری میں اخلاقی اور سماجی اثر ممکن ہے مگر شاعری اپنی جگہ اس نوع کے سب اثرات سے بالا تر ہے شاعری بھی ایک قسم کی مذہبی رسم ہے اور اس کا اثر بھی وہی ہونا چاہئے جومذہبی رسم کا ہوتا ہے یعنی وہ عقائدو اخلاق کو درست کرے اور ایک اعلی آگاہی پیدا کرے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اس کی تنقیدی فکر کا میدان محدود ہونے لگتا ہے وہ عوام سے انکار کرتا ہے نشاة الثانیہ کے کلچر سے انکار کرتا ہے ۔ تمام رومانیت کو رد کرتا ہہے قدیم مذہب اور اس سے پیدا ہونے والے کلچر کا ایک نظر یہ پیش کرتا ہے اور اس اسکول کا وقیع نمائندہ بن جاتا ہے جسے ” فورملسٹ “ (Formalist) کہا جاتا ہے ۔
ویسے تو ایلیٹ کے مضامین میں ” شاعری اور ڈراما “ کلاسیک کیا ہے ” تنقید کا منصب “ مذہب اور ادب ” شاعری کی تین آوازیں “ کئی مضامین نہایت وقیع اور قابل توجہ ہیں لیکن یہاں میں نے اس کے دو مضامین ” روایت اور انفرادی صلاحت “ اور ” شاعری کا سماجی منصب “ شامل کیے ہیں جن سے اس کی فکر کے چند بنیادی پہلومکمل طور پر سامنے آجاتے ہیں ۔ اب آپ ان مضامین کو پڑھیئے اور خود دیکھیے کہ وہ ہم سے کیا کہتے ہیں ؟” نصابی تنقید “ کے زہریلے اثرات نے ہماری فکر کو کند اور ہمارے احساس و ادراک کو محدود کر دیا ہے ۔ ان ترجموں کے مطالعے سے یقیناً آپ اس حصار کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے ” نصابی تنقید “ کے اثرات کے سلسلے میں میں نے لکھا تھا کہ :
” اس تنقید کا ایک زہر یلا اثر تو یہ ہوا ہے کہ آج کا طالب علم اور قاری کسی اور یجنل تصنیف کے بارے میں اپنا کوئی تجربہ نہیں رکھتا ۔ اسے ادب پاروں سے کوئی گہری دلچسپی نہیں ہے بلکہ نصابی نقادوں کی رائیں ادب پاروں کا بدل بن گئی ہیں ۔ اس زہریلے اثر نے سوچنے کی صلاحیت کو مردہ کردیا ہے اور ادب پاروں کے ساتھ ذہنی سفر کو ایک بے معنی چیز بنا دیا ہے ۔ نصابی نقادوں کی آراء کی بیساکھیوں نوجوانوں کے پاس ہیں اور ادبی فیصلوں کے کیپسول ان کے ذہن کے خانوں میں رکھے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی ساری ضروریات پوری کر لیتے ہیں ۔ جعلی دستاویزیں نقلی مہروں کے ساتھ اصل کی جگہ لے رہی ہیں “۔