| ادب
|
چے گویَرا کی ڈائری : تب وتابِ جاودانہ
تحریر: فیڈل کاسترو
گوریلا زندگی کے دنوں میں چی کی عادت تھی کہ روز مرہ کے واقعات وتجربات اپنی ذاتی ڈائری میں لکھ لیتا۔ دشوار گذار راستوں میں طویل مارچ کے دوران جب گوریلا سپاہیوں کی قطاریں اپنے سازو سامان اور اسلحہ کے بوجھ تلے دبی دم لینے کے لئے جنگلات میں رکتیں یا جب دن بھر مارچ کرنے بعد سپاہیوں کو رکنے اور کیمپ لگانے کا حکم ملتا تو چی (جسے کیوبا کے رفیق پیار سے اس نام سے پکارتے تھے) جیب سے اپنی نوٹ نکالتا اور باریک ناقابلشناخت حروف میں اپنی یاداشت لکھنے لگتا۔ان یاداشتوں سے جو بھی محفوظ رہ جاتیں انہیں وہ کیوبا کی انقلابی جنگ کے معرکتہ الآرا تذکرے میں استعمال کرتا جو انقلابی، تعلیمی اور انسانی قدروں کا حامل تھا۔
چی کی اس پختہ عادت کی بدولت کہ وہ ہر روز کے خاص واقعات لکھ لیتا۔ آج ہمیں بولیویامیں اس کی زندگی کے آخری ایام کی بالکل صحیح، بے بہاا اور تفصیلی اطلاعات میسر ہوئیں ۔
یہ یاداشتیں چھپنے کے لئے نہیں لکھی گئی تھیں۔ ان سے واقعات، حالات اور انسانوں کو پرکھنے میں مدد ملتی اور اس کی باریک بین فطرت اور تجزیاتی انداز کو ذریعہ اظہار کی تسکین میسر آتی۔ یہ نوٹ بہت سنبھل کر لکھے گئے ہیں اور شروع سے آخر تک ان میں ایک مسلسل ربطہ ہے۔
یہ بات نہیں بھولنا چاہیئے کہ نوٹ فرصت کے ان نادرلمحات میں لکھے گئے ہیں جو چی کو گوریلا جدوجہد کی اولین کٹھن منزلوں میں گوریلا سرد ار کی حیثیت سے دلیرانہ جسمانی مشقت کے دوران کبھی کبھی میسر آئے۔ ناقابل برداشت مادی مصائب میں اس کی طبیعت کا جوہر نکھرتا تھا۔ اور اس کا عزم آہنی اور انفرادی طریق کار نمایا ں ہوتا تھا۔
ڈائری میں روزانہ کے واقعات کاتفصیلی تجزیہ کیا گیاہے اور ایسی غلطیوں اور کوتا ہیوں پر تنقیدی نظر ڈالی گئی ہے جو ایک انقلابی گوریلا کے ارتقا میں ناگزیر ہیں۔
ایک گوریلا دستے میں ایسا محاسبہ ضروری ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب جماعت بہت مختصر لیکن کلیدی حیثیت کی حامل ہوا اور مسلسل سخت ترین دسوار حالات اور کثیر دشمنوں کوسامنا ہو۔ جب معمولی کوتاہی اور چھوٹی سی غلطی بھی موت کا پیغام بن سکتی ہے۔ اور سردار کو سخت گیر بھی ہونا پڑتا ہے اور شفیق استاد بھی تاکہ ان غلطیوں سے اس کے رفیق اور آئندہ آنے والے گوریلا سردار سبق حاصل کریں۔
گوریلادستے کی تشکیل ہر شخص کے ضمیر اور عزت نفس کے لئے ایک مسلسل پکارہے۔ چی جانتا تھا کہ انقلابیوں کے گہرے جذبات کے تاروں کو کیسے چھیڑا جاتا ہے۔ جب کئی دفعہ انتباہ کے بعد بار کوس کو خبردار کیا گیاکہ اسے گوریلا دستے سے بے عزتی کے ساتھ نکال دیا جائے گا تو اس نے کہا ”اس ذلت پر میں موت کو ترجیح دوں گا۔“ یہی مارکوس بعد میں دلیرانہ موت مرا۔ یہی حال کے باقی ساتھیوں کا تھا جن پراسے اعتماد بھی تھا۔ لیکن جدوجہد کے دوران بعض دفعہ انہیں ڈانٹنا بھی پڑتا تھا۔ وہ اخوت پسند اور خلیق سردار تھا۔ لیکن وہ سخت گیر اور بعض موقعوں پر متشدد بھی ہونا جانتا تھا۔ دوسروں کے ساتھ بھی اور ان سے بڑھ کر اپنے ساتھ!
چی نے گوریلا تنظیم اپنے رفیقوں کے اخلاق وضمیر اور اپنی بے پناہ مثالی قوت کی بنیادوں پر استوار کی۔
ڈائری میں لاتعداد اشارے انقلابی ادیب دیبر#ے کی طرف ہیں جسے چی نے یورپ میں ایک مشن سونپا تھا اور جس کی گرفتاری اور سزائے قید سے چی کے دل میں خیالات وجذبات کے طوفان اٹھے۔ حقیقت میں چی چاہتا تھا کہ دیبرے یورپ جانے کے بجائے گوریلادستے میں ہی رہے۔ اسی لئے وہ دیبرے کے اطوار کے تضادا ور کردار کے بارے میں اپنے شکوک کااظہار کرتا ہے۔
چی کے لئے یہ جاننا ممکن نہیں تھا کہ دیبرے نے ظالمانہ قوتوں کے پنجے میں کن دشواریوں کا سامنا کیا اور اپنے اذیت دینے والے صیادوں کے سامنے کس غیرمتزلزل جرأت کامظاہرہ کیا۔ تا ہم چی نے اس مقدمے کی غیر معمولی سیاسی اہمیت پر زور دیا ہے اور اپنی موت سے چھ دن قبل تین اکتوبر کو پر آشوب حالات کے دوران اس نے کہا۔ ”دیبرے سے ایک انٹرویو سنا، اس نے ایک طالب علم کی اشتعال انگیزی کے جواب میں نہایت جرأت کا ثبوت دیا۔“ اس ادیب کے بارے میں یہ اس کا آخری تذکرہ ہے۔
چونکہ اس ڈائری میں کیوبا کے انقلاب اور گوریلا تحریک سے اس کے تعلق کا بار بار ذکر آیا ہے اس لئے کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ اس ڈائری کو شائع کر کے ہم نے انقلاب کے دشمن امریکی سااجیوں اور ان کے حلقوں بگوش لاطینی امریکی جاگیرداروں کا منہ چڑایا ہے اور ان کو کیوبا کی ناکہ بندی اور اس کے خلاف استعمار پرسننی پرابھار ہے۔
جو لوگ اس انداز سے سوچتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ امریکی سامراجیت نے دنیا کے کسی حصے میں بھی اپنی طاغوتی طاقت پھیلانے کے لیے کسی جواز کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ کیوبا کے انقلاب کو ختم کرنے کی امریکی کوششیں اس وقت شروع ہوگئیں جب ہمارے ملک میں پہلا انقلابی قانون بنا۔ وجہ ظاہر ہے۔ سامراجیت خود کو دنیا کا فوجی حاکم سمجھتی ہے۔ انقلاب دشمن قوتوں کو منظم طور پر ابھارتی ہے اور دنیا میں سب سے پسماندہ اور غیر انسانی سماجی نظام کا تحفظ کرتی ہے۔
انقلابی تحریکوں سے وابستگی امریکی استعمال کے لئے بہانہ توبن سکتی ہے لیکن اصل وجہ کبھی نہیں ہوتی۔ بہانہ ختم کرنے کے لئے اس وابستگی کو ختم کرنا خود فریبی ہے۔ جس کا موجودہ سماجی انقلاب کے بین الاقوامی پہلو سے کوئی تعلق نہیں۔ انقلابی تحریکوں سے وابستگی ختم کرنے کا مطلب استعمار کے بہانوں کو ختم کرنا نہیں بلکہ امریکی سامراجیوں سے وابستگی کا ظہار ہے اور دنیا کو غلام بنانے کی پالیسی کی تصدیق۔
کیوبا ایک چھوٹااورپسماندہ ملک ہے جس طرح وہ تمام ممالک پسماندہ ہیں جنہیں سامراجیوں اور استعمار پرستوں نے غلام بناکر لوٹا۔ یہ امریکہ کے ساحل سے نوے میل کے فاصلے پر ہے۔ امریکی بحریہ کااڈہ ہمارے علاقے میں موجود ہے۔ ہمیں اپنی اقتصادی اور سماجی ترقی میں بہت سی دشواریوں کا سامنا ہے۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد ہمیں عظیم خطرات لاحق رہے۔ لیکن ان وجوہات سے ہم سامراج کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔ انقلابی راستے پر گامزن رہتے ہوئے ہمیں جو مشکلات درپیش آئیں گی۔ ہم ان کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کریں گے۔
انقلابی نقطہ نگاہ سے چی کی ڈائری کی اشاعت ضروری تھی دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔ چی کی ڈائری بیری انیٹو کے ہاتھ لگی جس نے اس کی کاپیاں امریکی ClAامریکی فوجی ہیڈکوارٹر اور امریکی حکومت کو روانہ کیں۔ جواخبار نویس ClAسے وابسطہ ہیں ان کی بولیویا میں اس دستاویزتک رسائی تھی اور انہوں نے اس وعدے پر اس کی فوٹو کاپیاں لیں کہ اس کو شائع نہیں کریں گے۔
بیری انیٹو کی حکومت اورا س کے فوجی سر براہ اس ڈائری کوشائع کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ڈائری ان کی فوج کی شدید نااہلیت پرمہر تصدیق ثبت کرتی ہے اور اس میں ان لاتعداد شکستوں کا ذکر ہے جوانہیں مٹھی بھر گوریلوں کے ہاتھوں اٹھانا پڑیں۔ اور جنہوں نے چند ہفتوں میں کوئی دو سو ہتھیار ان سے چھین لئے۔
چی نے ڈائری میں بیری انیٹو اور اس کی حکومت کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے جن کے وہ حقدار ہیں اورجو تاریخ کے صفحات کا جزو بن چکے ہیں۔
دوسری طرف سامراجیت بھی اس ڈائری کو شائع نہ کرنے پر مجبورہے۔ چی اور اس کی غیر معمولی مثال دنیا میں ایک قوت بن کر ابھر رہی ہے۔ اس کے خیالات اس کی شخصیت اس کا نام مظلوموں اور لٹے ہوئے انسانوں کی ظلم کے خلاف جنگ میں علم کی حیثیت رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں طالب علموں اور دانشوروں کو اس سے شدید جذباتی لگاؤ پیدا ہو چکا ہے۔
خود امریکہ میں روز افزوں حبشی تحریک اور ترقی پسند طالب علموں نے چی کواپنا لیا ہے۔ شہری حقوق کے جلسوں اورجنگ ویت نام کے خلاف مظاہروں میں چی کی تصویرعلم کی طرح بلند کی جاتی ہے۔ تاریخ میں بہت کم یاشاید کبھی بھی ایک نام، ایک شخصیت، ایک مثال کویہ عالمی اعزاز اور یہ جذباتی لگاؤ نصیب نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چی اس بین الاقوامی جذبے کاپاکیزہ ترین مظہر ہے جوآج کی دنیاکی خصوصیت ہے او ر کل کی امید۔
ایک ایسے برا عظم سے جسے نوآبادیاتی قوتوں نے ماضی میں اور امریکی سامراج نے حال میں اپنے جال میں جکڑ کر پسماندہ رکھا۔ یہ منفرد شخصیت ابھری اور نسیم سحر کی طرح انقلابی جدوجہد کے جسم میں اس کی سانس کی حرارت اور زندگی محسوس کی گئی۔
امریکی سامراجی اس مثال کی قوت اور اس کے نتائج سے ڈرتے ہیں۔ یہ اس ڈائری کی اصل قیمت ہے۔ ایک غیر معمولی شخصیت کی ابدی تصویر اور اظہار گوریلاجدوجہد کاسبق جوہر روز کی حرارت اور کشمکش میں تحریر ہوا۔ زندہ بارود اس حقیقت کااظہار کہ لاطینی امریکہ کے عوام کرائے کی فوجوں اور ستم گروں کی تلواروں سے نہیں ڈرتے۔ ان وجوہات سے اب تک یہ ڈائری شائع نہ ہوسکی۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جعلی انقلابی، موقعہ پر ست اور ہر قسم کے بہروپئے جوخود کومارکسی، اشتراکی اوردوسرے خطابات دیتے ہیں،اس ڈائری کی اشاعت کے خلاف ہوں۔ وہ چی کو غلط کا ر کہنے سے نہیں جھجھکتے۔ وہ اسے طالع آزما کہتے ہیں اور جب بہت مہربانی فرماتے ہیں تواسے آدرش پر ست کہتے ہیں جس کی موت لاطینی امریکہ میں انقلابی کشمکش کارومانی نغمہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچی جو ان تصورات کا بہترین مظہر اور منجھا ہوا گوریلاسپاہی تھا، وہ گوریلا جنگ میں مارا گیا اور اس کی تحریک بولیو یاکو آزاد نہ کر سکی تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس کا فلسفہ غلط تھا۔ ایسے ذلیل لوگ چی کی موت سے خوش ہوئے اور انہیں اس بات پر ذرا شرم نہیں آتی کہ ان کا استدلال رجعت پسند جاگیرداروں اور سامراجیوں کے انداز نظر سے کتنی مطابقت رکھتا ہے!
اس انداز میں اوہ اپنے اعمال کا جواز پیش کرتے ہیں یاان لیڈروں کی صفائی پیش کرتے ہیں۔ جنہوں نے بعض موقعوں پر محض گوریلادستوں کو تباہ کرنے کے لئے مسلح جنگ کا کھیل کھیلا۔ ان کے اصل ارادوں کاراز جلد ہی کھل گیا۔ جب انہوں نے انقلابی جدوجہد کی راہ میں روڑے اٹکائے اور احمقانہ اور شرمناک سیاسی سودے بازی کی۔ کیونکہ دوسرا کوئی راستہ ان کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔
دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو عوام اور ان کی آزادی کے لئے لڑنا نہیں چاہتے نہ کبھی لڑیں گے انہوں نے انقلابی تصورات کومضحکہ خیز بنا کر خالی خولی تصوراتی افیون کے طور پر پیش کیا جس میں عوام کے لئے کوئی مثبت پیغام نہیں۔ ان لوگوں نے عوامی جدوجہد کی تنظیموں کو بیرونی اور اندرونی استحصال پسندوں اور عوامی مفاد کے خلاف کام کرنے والے سیاست دانوں سے صلح جوئی کا آلئہ کار بنایا۔
انقلابی جنگ میں چی اپنی موت کو فطری اور امکانی تصور کرتے ہوئے اپنی آخری تحریروں میں اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس حادثے سے لاطینی امریکہ میں انقلاب کی رفتار سست نہیں پڑنی چاہیئے۔ سہ براعظمی کا نفرنس کے لئے اپنے پیغام میں اس خیال کو چی نے یوں دہرایا ہے۔ ”ہمارا ہر عمل سامراجیت کے خلاف نعرہ جنگ ہے۔ موت سے جہاں بھی ہمارا سامنا ہو ہم اس کا استقبال کریں۔بشرطیکہ ہمارا یہ نعرہٴِ جنگ اثر پذیر کانوں تک پہنچ چکا ہو اور دوسرے ہاتھ ہمارے ہتھیاروں کواٹھا کر جنگ جاری رکھیں۔
وہ خود کو انقلاب کا سپاہی سمجھتا تھا اور انقلاب کے بعد جینے کی اسے کوئی ہوس نہیں تھی۔ وہ لوگ جو بولیویا میں انقلابی جنگ کے اس انجام کوچی کے تصورات ک انجام سمجھتے ہیں وہ اپنی سادہ لوحی میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان تمام انقلابی پیشروؤں، دانشوروں اور مارکسیت کے بانیوں کے تصورات اور جدوجہد بے کار تھی جو اپنا مشن اپنی زندگی میں پورا نہیں کر سکے۔ حالانکہ یہ لوگ انہیں عظیم انسانوں کی قربانیوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔
کیوبا میں جنگ آزادی میں مارٹی اور ماسیو# کی موت اور جنگ آزادی کے بعد امریکی مسلح مداخلت جس نے آزادی کے فوری مقاصد کو ناکام بنا دیا۔ انجام کاراس قافلہ آزادی کو روک نہ سکی جو سال پہلے گامزن ہوا تھا۔ نہ جو لیوانیٹو نیو میلّا جیسے اشتمالی انقلاب کے علمبرداروں کا سامراجی ایجنٹوں کے ہاتھوں قتل اس تاریخی عمل کی رکاوٹ بن سکا۔ ان رہنماؤں کے آدرش اور ان کے طرز عمل صحیح ہونے میں کسی کو شبہ تک نہیں گذرا نہ ان اٹل اصولوں کی سچائی پر کسی کو شک ہوا جو کیوبا کے انقلاب کی روح رواں رہے۔
چی کی ڈائری کے مندرجات سے واضح ہو جاتا ہے کہ فتح کے امکانات کتنے روشن تھے اور گوریلا قوت کتنی با اثر تھی۔ ایک موقعے پر بولیویا کی حکومت کی کمزوری اور بوسیدگی کے بارے میں وہ لکھتا ہے۔ ”گورنمنٹ کاشیرازہ تیزی سے منتشر ہو رہا ہے۔ افسوس تویہ ہے کہ ہمار پاس ا س وقت ایک سواور سپاہی نہیں۔“
چی کیوبا میں اپنے تجربات کی روشنی میں جانتا تھا کہ کتنی ہی دفعہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہمارا مختصر گوریلا دستہ نابود ہو جائے گا۔ یہ جنگ کے نشیب وفراز کا ایک لازمی جزو ہے لیکن اگر یہ حادثہ ہو جاتا تو کیا اس سے کسی کو یہ نتیجہ اخذ کرنے کا حق پہنچتا کہ ہمارا طرز عمل غلط ہے یاعوام کی فعال انقلابی جدوجہد بے سود ہے؟
26جولائی 1953کو ہم نے سانپیٹا گوڈی کیوبامیں منکاڈا کے علاقے پر حملہ کیا اور 5دسمبر 1956کو ہم جہاز ”گرانما“ سے اترے اس عرصہ کے دوران بہت سے لوگ جدید اور اسلحہ سے لیس فوج کے مقابلے میں کیوبا کے انقلابیوں کی جنگ کو مضحکہ خیز سمجھتے تھے۔ مٹھی بھر گوریلا انقلابیوں کی جنگ کو فریب خوردہ آدرش پرستوں کی عظیم غلطی اور احمقانہ بہادری تصور کیا جاتا تھا۔ غیر تجربہ کار گوریلا دستوں کی تین دسمبر 1956کی شکست اور مکمل انتشار سے ان یاس پرستوں کی بن آئی۔ لیکن صرف پچیس ماہ بعد ان گوریلا دستوں کے پسماندہ سپاہیوں نے اتنا تجربہ اور سازو سامان حاصل کرلیا کہ اس فوج کو شکست فاش دی۔
تمام زمانوں اور تمام حالات میں جنگ سے گریز کے لئے ہمیشہ ہی کافی بہانے ملیں گے لیکن جنگ سے گریز آزادی سے محرومی کی یقینی صورت ہے۔ چی کی زندگی اپنے خیالات سے طویل ترنہ تھی۔ لیکن اس نے اپنے خون سے ان کی پرورش کی ۔ یہ یقینی امر ہے کہ نمائشی انقلابی ناقدیں اپنی سیاسی بزدلی اور ابدی بے عملی کے ساتھ اپنی حماقتوں کانظارہ کرنے کے لئے اپنی حماقتوں سے طویل تر عمریں پائیں گے۔
یہ قابل غور بات ہے جیسا کہ ڈائری سے عیاں ہے کہ لاطینی امریکہ میں انقلابیوں کا ایک ایسا ہی نمونہ ماریو مونجے تھا جس کے نام کے ساتھ بولیویا کی اشتراکی کی جماعت کے سیکرٹری جنرل کے اعزاز کادم چھلابھی لگا تھا۔ اس نے انقلاب کی سیاسی اور فوجی قیادت کے بارے میں چی سے جھگڑا کیا اور جماعتی اعزاز سے مستعفی ہونے کی دھمکی دی۔ اس کے خیال میں انقلاب کی قیادت کے لئے جماعتی اعزاز ہی کافی سند تھی۔
مار یو مونجے کا گوریلاکی حیثیت سے کوئی تجربہ نہیں تھا۔ نہ ہی کبھی اس نے جنگ میں حصہ لیا تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ اپنے خانہ ساز اشتراکی تصورات کی بنا پر ہی اسے اپنی بیکار ہنگامہ آرائی کے جذبات سے نجات حاصل کر لینی چاہیئے تھی جن پر ہمارے آباواجد اد جنگ آزادی کے دوران ہی قابو پا چکے تھے۔
اس براعظم پر سامراج دشمن جدوجہد کی نوعیت کے بارے میں ان ”اشتراکی سرداروں“ کی حیثیت ان قبائلی سرداروں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں جنہیں یورپی جارحیت پسندوں نے غلام بنالیا۔
اسی لئے اشتراکی پارٹی کے اس سردار نے سوائے اس کے کچھ نہیں کیا کہ بغیر استحقاق کے شرم ناک اور احمقانہ طور پر اقتدار کے دعوے کر تا رہا۔ اس نے اس بات کا بھی لحاظ نہیں کیا کہ بولیویا اور اس کاتاریخی دارالخلافہ”سکرے“ دونوں کے نام آزادی کا تحفہ دینے والے اولین محسنوں کے نام پر رکھے گئے تھے جو وینی زولا کے رہنے والے تھے اور جن کی مکمل آزادی اس عظیم انقلابی سیاسی، فوجی اور تنظیمی تعاون کی مرہون منت تھی جس کے ذہن میں محدود اور عارضی ملکی حدبندیوں کا تصور تک بھی نہیں تھا۔
بولیو یا کی حدود سمندر تک نہیں اس لئے اسے دوسرے ممالک سے بھی زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کے ہمسایوں میں انقلاب کا میاب ہوتا کہ یہ خود بھی آزاد ہو سکے اور سامراجی اس کی ناکہ بندی نہ کر سکیں۔ چی وہ مرد تھا جو اپنی عزت، ہمت اور تجربے کے زور پر اس انقلابی عمل کو تیز تر کر سکتا تھا۔
بولیویا کی اشتراکی جماعت میں تفریق سے پیشتر ہی چی وہاں کے لیڈروں اور جانبازوں سے تعلقات استوار کر چکا تھا او اس نے ان سے جنوبی امریکہ میں انقلابی تحریک کی مدد کرنے کی درخواست کی تھی۔ کچھ جانباز اپنی جماعت کی رضامندی سے اس کے ساتھ مختلف مہموں میں کئی سال سے کام کر رہے تھے۔ پارٹی میں تفریق کے ساتھ ایک عجیب صورت حال پیدا ہوگئی کیونکہ چی کے ساتھ کام کرنے والے جانباز بھی ان گروہوں میں بٹ گئے۔ لیکن چی بولیو یا کی جنگ کو ایک منفرد واقعہ تصور نہیں کرتا تھا بلکہ اس انقلابی تحریک آزادی کا جزو سمجھتا تھا جو جلد ہی تمام جنوبی امریکہ کی ریاستوں میں پھیلنے والی تھی۔ وہ ایک ایسی ہمہ گیر تحریک کی تنظیم کرنا چاہتا تھا جس کی آغوش میں وہ تمام عناصر یکجا ہوسکیں جو بولیویا اور لاطینی امریکہ کی باقی تمام ریاستوں کی آزادی کے لئے سامراجیت سے نبرد آزما ہونا چاہتے تھے۔ گوریلا تنظیم کی تیاری کے اولیں مرحلے پر اس نے ان سمجھدار اور کار آمد عناصر پر ہی تکیہ کیا جو تفریق کے وقت مونجے کی پارٹی سے وابستہ رہے تھے۔ انہیں کی خاطر داری کے لئے اس نے مونجے کو سب سے پہلے گوریلا کیمپ میں آنے کی دعوت دی اگرچہ اسے چی سے کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ بعد ازاں اس نے موساگویرا کو دعوت دی جو کان کن مزدوروں کا رہنما اور سیاسی لیڈر تھا اور جس نے ایک اور تنظیم کی بنا ڈالنے کے لئے اپنی پارٹی سے کنارہ کشی کی اور بعد میں آسکر زا مور سے اختلافات کی بنا پر نئی پارٹی سے بھی علیٰحدہ ہو گیا۔ آسکرزا مور بھی مونجے کے گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے چی سے وعدہ کیا تھا کہ بولیویا میں مسلح گوریلا جنگ میں اس سے تعاون کرے گا۔ لیکن وہ بعد میں اپنے وعدوں سے پھر گیا اور عمل کے وقت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بزدلانہ طو رپر تماشا دیکھتا رہا۔ چی کی موت کے بعد مارکسزم لینن ازم کے نام پر وہ چی کے خلاف زہراگلنے لگا۔ موساگویرا کا قدم نہیں ڈگمگایا اور وہ چی سے منسلک رہاجیسا کہ اس نے بولیویا میں آنے سے بہت پہلے وعدہ کیا تھا۔ اس نے انقلاب کی خاطر مردانہ وار جان دے دی۔
بولیویا کے وہ گوریلاجنگجو جو اس وقت تک مونجے کے گروہ سے متعلق رہے تھے۔ انہوں نے بھی قدم پیچھے نہیں ہٹایا۔ انٹی# ااور کوکوپیریڈو#کی سرکردگی میں جنہوں نے اپنی جانبازی اور بہادری کی دھاک بٹھادی۔ ان رفیقوں نے چی کاساتھ دیا۔ مونجے اس صورت حالات سے مطمئن نہیں تھا اور اس نے تاریخ کی بیح بحنی شروع کردی۔ اس نے لایاز# میں ان تجربہ کار اشتراکی جانبازوں کوروک لیاجو گوریلا دستوں میں شامل ہونے جارہے تھے۔ ان حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ انقلابی تحریک میں رضاکارانہ طور پر لڑنے والوں کی کمی نہیں۔ لیکن ان کی نشوونما کو مجرمانہ طور پرنااہل اور نمائشی لیڈر برباد کر دیتے ہیں۔
چی وہ انسان تھا جو اعزازات، اقتدار اور مرتبوں کی ذرہ برابر پر واہ نہیں کرتا تھا اس کا ایمان تھا کہ لاطینی امریکہ کی تمام ریاستوں کے اقتصادی، سیاسی اور سماجی حالات کے پیش نظر لاطینی امریکہ کے عوام کو آزادکرانے کا واحد ذریعہ انقلابی گوریلا جنگ ہے اور گوریلادستوں کی فوجی اور سیاسی قیادت الگ الگ نہیں کی جاسکتی۔ اس خیال میں گوریلا جن کی رہنمائی شہر میں آرم دہ دفتروں میں بیٹھ کر نہیں بلکہ گوریلا کیمپ سے ہی کی جاسکتی تھی۔ اس معاملے میں وہ کسی رو رعایت کے لئے تیار نہیں تھا۔ نہ ہی اس اہم کلیدی گوریلادستے کی قیادت جس کے کاندھوں پر تمام لاطینی امریکہ کے انقلاب کا بوجھ بڑتا تھا کسی ناتجربہ کار پوچ مغز وطن پرست کے ہاتھوں دینے کو تیار تھا۔ چی سمجھتا تھا کہ وطن پرستی جو لاطینی امریکہ میں انقلابیوں کی صفوں میں بھی گھر کر رہی تھی، اس کامقابلہ کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ ایک احمقانہ رجعت پسندانہ جذبہ ہے۔ اس نے سہ براعظی کا نفرنس کو اپنے پیغام میں کہا” ہمیں ایک سچا بین الاقوامی جذبہ پیدا کرنا چاہیئے۔ وہ علم جس کے نیچے ہم مصروف جہاد ہیں اسی میں انسانیت کی نجات ہے۔ کسی امریکی، ایشیائی، افریقی، یورپی کے لئے ویت نام، وینزولا گاٹے مالا، لاؤس، گنی، کولمبیا، بولیویا کے جھنڈ ے تلے مرنے کی تمنا باعث فخر ہے کیونکہ ان مقامات پرانسانیت کی بقا کی جنگ لڑی جارہی ہے۔ خون کاہر وہ قطرہ جوایسے ملک کے علم کے نیچے گرے جہاں آپ پید انہیں ہوئے ایک ایسا پیغام ہے جوپسماند گان کو قوت بخشتا ہے اور انجام کا ر آپ کے وطن کی آزادی کا ذریعہ بنتا ہے۔ہر قوم کی آزادی آپ کے وطن کی جنگ آزادی کی ایک منزل ہے۔“
اسی طرح چی کاخیال تھا کہ مختلف لاطینی امریکی ریاستوں کے جانبازوں کوایک ہی گوریلا دستے میں شامل ہونا چاہیئے اور بولیویا کا گوریلا دستہ وہ دبستان ہو جہاں انقلابی جنگی تجربوں میں تربیت پائیں اور پر وان چڑہیں۔ وہ جانتا تھاکہ اسے اس کا م میں مدد دینے کے لئے بولیویاکے گوریلوں کے علاوہ اس کے ہمراہ ان تجربہ کار گوریلاجنگجوؤں کاکلیدی گروہ بھی رہے جوسب کے سب کیوباکی انقلابی جنگ میں سیرامیترا پر اس کے کے رفیق رہے تھے اور جن کی ہمت، حوصلے اور جذبہ قربانی کاوہ معترف تھا۔ ان جانبازوں میں سے ہر ایک نے اس کی آوازپرلبیک کہا۔ کسی نے اس کا ساتھ نہیں چھوڑا اور کسی نے جنگ سے منہ نہیں موڑا ۔
بولیویاکی جنگ میں چی نے انتہا لگن، جرات، پامروی اورمثالی کردار کا مظاہرہ کیا۔ یوں سمجھئے کہ اس مشن کی اہمیت کے احساس سے جو اس نے اپنے ذمہ لیا تھا وہ ہر وقت احساس ذمہ داری سے سرشار رہا۔ جب بھی گوریلا جانبازوں کو اس نے بے پر واہ پایا۔ اس نے ان کا محاسبہ کیا اور اس واقعی کوڈائری میں درج کیا۔
اسے ناقابل یقین حد تک دشواریوں کاسامنا رہا۔ گوریلوں کا ایک گروہ جس میں بہت کام کے آدمی تھے۔ دشوار راستوں میں رسل ورسائل کا سلسلہ منقطع ہونے کی وجہ سے دستے سے بچھڑ گیا۔ اس گروہ میں زخمی بھی تھے، بیمار بھی۔ چی کوان کی تلاش میں کئی مہینے لگے۔ اس دوران میں اس کا دمہ جسے ایک معمولی دوائی سے آرام آجاتا کرتا بہت شدید صورت اختیار کر گیا۔ گوریلوں کی دوائیوں کاذخیرہ دشمن کے ہاتھ لگا اس لئے یہ بیماری چی کے لئے ایک مستقل عذاب بن گئی۔ اگست میں دستے سے بچھڑے ہوئے گروہ کا دشمن نے صفایاکر دیا۔ ان حادثات نے حالات کوبہت حد تک اثر پذیر کیا۔ لیکن اس نے اپنی آہنی قوت ارادی سے اپنے جسمانی عارضے پر قابو پایا اور نہ اس کی ہمت میں کوئی کمی آئی نہ عمل میں!
کسانوں کے ساتھ چی نے رابط رکھا۔ ان کے کردار میں بے اعتمادی اور شبہ کے عناصر سے اسے کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ وہ ان کی افتاد طبع سے واقف تھا۔ کئی موقعوں پر ان سے میل جول نے اس پر بات واضح کر دی تھی کہ مستقل مزاجی صبر اور لگاتا ر محنت سے ان کے دل جیتے جا سکتے ہیں۔ اسے انجام کار اپنی کامیابی میں کبھی شبہ نہیں ہوا۔ اگر واقعات کے تسلسل کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اپنی موت سے چند ہفتے قبل ستمبر میں اس کے اعتماد والے ساتھیوں کی تعداد بہت ہی کم رہ گئی تھی۔ اس وقت بھی گوریلادستے کی نشوونما میں کسی طرح کی کمی نہیں آئی اور بولیویا کے گوریلے مثلاً انٹی اور کوکوپیر# یڈو قیادت کے شاندار جوہر دکھانے لگے تھے۔
ہیگورا کے مقام پر دشمن کے شب خون نے ان کے لئے انتہائی مشکلات پیدا کیں۔ چی کے گوریلا دستے کے خلاف دشمن کی یہ پہلی اور آخری کامیابی تھی۔ چی کا دستہ دن میں کسانوں کے ایک ایسے علاقے کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں سیاسی بیداری مقابلتاً زیادہ تھی(یہ مقصد ڈائری میں تحریر نہیں لیکن پسماند گان کو اس کا علم تھا) دشمن نے ہراول گوریلا دستے کاصفایا کر دیا اور بہت سے دوسرے سپاہی بھی زخمی ہوئے۔ دن کی روشنی میں اسی راستے پر گامزن رہتا جس پر وہ کئی روز سے چل رہے تھے اور لامحالہ اس علاقے کے لوگوں سے واسط رکھنا پڑتا تھا۔ بلاشبہ خطرے کی با ت تھی۔یہ امریقینی تھا کہ سرکاری فوج کسی وقت بھی ان کاراستہ روک لے گی۔اس احساس کے باوجود چی نے یہ خطرہ مول لیا کیونکہ وہ اس ڈاکٹر کی مدد کرنا چاہتا تھاجس کی حالت غیر تھی۔
جھڑپ سے ایک دن پہلے وہ لکھتا ہے۔ ”ہم پوجو# پہنچے۔ وہاں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے ہمیں ایک دن پہلے نشیب میں دیکھا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے بارے میں ”ریڈیوبمبا“ (کیوبا میں زبانی خبریں پہنچانے کو ریڈیو بمباکہا جاتا ہے) کے ذریعے اطلاعات پہلے ہی پہنچ چکی تھیں۔خچروں کے ساتھ یہ سفر خطر ناک ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر اچھے راستے سفر کرے کیونکہ وہ بہت کمزور ہو چکا ہے۔“
اگلے روز کی ڈائری میں لکھا ہے۔ ”13 ہراول دستے نے جاگوئی# پہنچنے کی کوشش کی تا کہ وہاں پہنچ کر ڈاکٹر اور خچروں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے۔“ اس سے ظاہر ہے کہ چی بیمار ڈاکٹر کے تحفظ کے بعد ہی اس خطر ناک راستے کوچھوڑنے اور ضروری حفاظتی اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن اسی دو پہرہراول دستے کے جاگوئی پہنچنے سے پیشتر ہی دشمن نے گھات سے حملہ کیا جس نے گوریلا دستے کوناقابل براداشت مشکلات میں ڈال دیا۔
چند دن بعد کیوبر اڈاڈبل بورو کے مقام پر گھرے ہوئے اس نے آخری جنگ لڑی۔
ان مٹھی بھر انقلابیوں کی ہمت اور قوت برداشت حیرت انگیز ہے۔ اکیلے دشمنوں میں گھرے ہوئے لڑنا شجاعت کی لاثانی مثال ہے۔ تاریخ میں اس قبل اتنے کم لوگوں نے اتنا بڑا کارنامہ سرانجا م نہیں دیا۔ یہ اٹل یقین کہ لا طینی امریکہ کے عوام کی عظیم انقلابی اہلیت اور قوت کو بیدار کیا جاسکتا ہے اور وہ خود اعتمادی اور عزم جس سے وہ اس مشن میں مگن رہے۔ان انسانوں کی عظمت کے صحیح پیمانے ہیں!
ایک روز چی نے بولیویا کے گوریلا جانبازوں سے کہا ”اس قسم کی جنگ ہمیں انقلابی بننے کے مواقع بہم پہنچاتی ہے جو انسانیت کااعلی ترین مقام ہے۔ یہ ہمیں مردانگی کی سند عطا کرتی ہے جولوگ ان دو مقامات میں سے کسی ایک پر پہنچنے کے اہل نہیں انہیں چاہیئے کہ اعتراف کرتے ہوئے ہم سے علیٰحدہ ہو جائیں۔
جو رفیق اس کے ہمراہ آخری دم تک لڑے وہ ایسے ہی مراتب کے اہل ہیں۔ وہ ان انقلابیوں اور جوانمردوں کے مظہر ہیں جنہیں تاریخ ایک دشوار معر کے لئے پکار رہی ہے لاطینی امریکہ کی انقلابی تبدیلی کے لئے ؟
ہمارے اباواجداد کی اولین جنگ آزادی میں مقابلے پر بوسیدہ نو آبادیاتی طاقتیں تھیں۔ آج انقلابی قوتوں کو جس دشمن کا سامنا ہے وہ سامراجیوں میں سب میں سے زیادہ طاقتور اور نٹی تکنیکی ایجادات اور صنعتوں سے لیس ہے۔ عوام نے بولیویا کی فوجی استعماری قوتوں کو تباہ کر دیاتھا۔ اس دشمن نے نہ صرف بولیویا فوج کو سازو سامان سے لیس کیا اور گوریلوں کے خلاف ہتھیاروں کی ترسیل اور فوجی مدد جاری رکھی۔ بلکہ اس براعظم پر تمام رجعت پسند عوام دشمن حکومتوں کو اس قسم کی مدد کی پیش کش کی۔ اور جب ان حربوں سے بھی نہیں بنتا تو یہ فوجیں لے کر چڑھ دوڑے ہیں جیسا کہ انہوں نے سانٹوڈو مینگو میں کیا۔
اس دشمن سے لڑنے کے لئے اس قسم کے انقلابیوں اورجوانمردوں کی ضرورت ہے جن کا ذکر چی نے کیا۔ اس قسم کے انقلابی جوانمردہی امریکی سامراج کے مقابلے میں جس کے فوجی، تکنیکی اور اقتصادی ذرائع کا دنیا میں شہرہ ہے، اس براعظم کے عوام کو آزادی دلا سکتے ہیں۔ انہوں نے رضا کارانہ طور پر جو کچھ کیا، دشواریوں کا جس ہمت سے مقابلہ کیا، جس یقین اور ناقابل شکست عوامی قوتوں میں اعتماد کامظاہرہ کیا وہ لائق صد تحسین ہے۔
شمالی امریکہ کے لوگوں کو بھی اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ ان کے ملک کا سیاسی ڈھانچہ اس خواب کی تعبیر نہیں ہے جو ان کے آباو اجداد نے دو سو برس پہلے بورژوا جمہوریت کی بنیاد رکھتے وقت دیکھا تھا۔ یہ مجنونانہ ظالم اور غیر انسانی نظام اپنی استعماری جنگوں، سیاسی جرائم اور نسلی منافرت امریکی عوام کو زبوں بنائے ہوئے ہے۔ موجودہ دور میں جہاں 75فیصد لوگ بھوکے اور پسماندہ ہیں یہ اقتصادی نظام انسانی اور سائنسی وسائل کے بے رحمی سے سفاک فوجی قوت کی تعمیر پر خرچ کر رہا ہے۔
لاطینی امریکہ تبدیلیاں امریکہ کے عوام کو اپنے سامراج سے نبٹنے میں مدددیں گی جس امریکی عوام کی سامراج دشمن جدوجہد امریکہ کے انقلاب کی مدد گار ہو گی۔
اگر لاطینی امریکہ انقلابی تبدیلیاں جلد ہی رونما ہوتیں تو وہ فرق کبھی نہ مٹ سکے گا۔ جو اس صدی کے آغاز میں امریکہ کی تیز صنعتی ترقی اور منتشر جنوبی امریکہ کی پسماندہ جاگیر دارانہ ریاستوں میں نمودار ہوا۔ صرف یہی نہیں بلکہ امریکی سامراج اور استحصال کی پالیسیوں کی بدولت آئندہ بیس برس میں فرق اور عدم توازن اس قدر بڑھ جائے گا کہ تصور سے ہی ہول آتا ہے۔
اس طرح ہم غریب تر کمزور تر ہوتے جائیں گے اور سامراج کا سہارا اور غلامی ہمارا مقدر ہوگی۔ افریقہ اور ایشیا کی پسماندہ اقوام کا بھی یہی حشر ہوگا۔
اگر یورپ کی ترقی یافتہ صنعتی قومیں اپنی مشترکہ منڈیوں اور مشترکہ سائنسی اداروں کے باوجود پیچھے پر جانے کے امکان سے نڈھال اور امریکہ کی اقتصادی نوآبادی بن جانے کے خیال سے فکر مند ہیں تو لاطینی امریکہ کے عوام کا مستقبل کیا ہو گا؟
ان حقیقی اور ناقابل تردید حقائق کے پیش نظر جو ہمارے عوام کی تقدیر پر براہ راست اثر انداز ہیں۔ چی نے مسلح انقلابی جدوجہد کا راستہ اپنایا۔ اگر کوئی عمل بیزار لبرل یا بورژوااصلاح پسند یانمائشی انقلابی اس صورت حال کا کوئی دوسرا حل پیش کر سکتا ہے جس سے اس علاقے کی تمام اخلاقی، مادی اور انسانی قوتیں یکجا کر کے ایسی جد وجہد شروع کی جاسکے کہ صدیوں کی اقتصادی اور سائنسی تکنیکی پس ماندگی سے نجات ملے۔ صنعتی ترقی کے میدان میں امریکہ اور دوسری اقوام کے درمیان تفریق کی وسیع خلیج کو پاٹا جا سکے۔ اور یہ کام اس تیزی سے کیا جا سکے جس کے حالات مقتضی ہیں تو اسے چی کے مقابلے میں بات کرنے کا حق حاصل ہے۔ لاطینی امریکہ کے تیس کروڑ انسانوں کے لئے (جو 25برس میں 60کروڑ ہو جائیں گے)نجات کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں۔ یہ غریب عوام بھی زندگی اور انسانی مسرتوں کے حق دار ہیں۔ ان کا بھی حق ہے کہ تہذیب وتمدن سے بہرہ ور ہوں۔ انصاف اور خلوص کا یہی تقاضا ہے کہ چی کے خیالات کے روبرو ادب اور خاموشی اختیار کی جائے کیونکہ اس منزل پر پہنچنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ا س برصغیر کے عوام کو نجات دلانے کی لگن اور ان مٹھی بھر جانبازوں کے کارنامے اس بات کا درخشاں ثبوت ہیں کہ قوت ارادی، جانبازی اور انسانی عظمت سے کن بلندیوں کو چھوا جا سکتا ہے۔ ان کی مثال سے ضمیر روشن ہوں گے اور لاطینی امریکہ کے عوام اسی راستے سے اپنے منزل پر پہنچیں گے۔ چی کی دلیرانہ پکار مظلوموں اور غیریبوں کے منتظر کانوں تک پہنچے گی جن کی خاطر اس نے اپنی زندگی قربان کر دی اور آزادی حاصل کرنے کے لئے بہت سے ہاتھ پیر ماریں گے تا کہ ان جانبازوں کے ہتھیار اٹھا کر آگے بڑھیں۔ چی کی آخری تحریر 7اکتوبر کی ہے۔ اس کے اگلے روز ایک بجے دوپہرایک تنگ گھائی میں جہاں وگیر ے نکلنے کے لئے رات تک انتظار کرنا چاہتا تھا، دشمن کی کثیر فوج ان پر ٹوٹ پڑی۔ گوریلا دستے کے بچے کھچے سپاہیوں نے اپنی اپنی کمین گاہوں سے حملہ ااور فوج کاجانبازی سے شام تک مقابلہ کیا۔چی کے قریب لڑنے والے جانثاروں میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچا۔ اس کے پاس ہی ڈاکٹر تھا جس کی علالت کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ ایک پیرو# کا گوریلا تھا جس کی حالت بھی خراب تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود زخمی ہونے تک چی ان رفیقوں کو بحفاظت محفوظ مقام پر پہنچانے کی کوشش کرتا رہا۔ڈاکٹر اس جھڑپ میں نہیں مرا بلکہ کچھ روز کیوبر یڈادبل بارو کے قریب ہی ایک اور مقام پر جان بحق ہوا۔ پہاڑی نشیب وفراز کی وجہ سے گوریلا ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ گھائی کے دوسرے سرے پر چی سے کئی میل دور لڑنے والے گروہ نے جس میں انٹی اور کوکو پیریڈو بھی تھے فوج کو شام تک رو کے رکھا اور رات کے اندھیرے میں فرار ہو کر پہلے سے طے شدہ مقام ملاقات پر جاپہنچے۔
یہ ثابت ہو چکا ہے کہ زخمی ہونے کے باوجود چی لڑتا رہایہاں تک کہ اس کی M-2رائفل کی نالی ایک گولے سے بالکل بے کار ہوگئی۔ اس کے پستول میں گولیاں نہیں تھیں۔اس بے بسی میں اسے زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ اس کی ٹانگوں میں اتنے زخم تھے کہ وہ بغیر سہارے چل بھی نہیں سکتا تھا۔
اسے ہگوراز کے مقام پر لے جایا گیا جہاں وہ 24گھنٹے زندہ رہا۔اس نے اپنے صیادوں سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ ایک شرابی افسر نے جب اسے تنگ کیا تو منہ پر تھپڑ کھایا۔
لاپاز میں بیری انٹو__اودانڈواور دوسرے اعلیٰ فوجی افسروں نے اسے قتل کرنے کافیصلہ کیا۔ ہگوراز کے ایک سکول میں اس فیصلے پر عملدر آمد کی تفصیلات سب کو معلوم ہیں یانکی (امریکی) تربیت یافتہ میجرایورااورکرنل سل نش ماریو ٹران کو حکم دیا کہ گولی چلائے۔ٹران نشے میں مد ہوش تھا وہ سامنے اگر گولی چلانے سے جھجھکا۔ چی جس نے ایک بولیویا اور ایک پیرو کے گوریلا پر چلائی جانے والی گولیوں کی آواز سنی تھی۔ ٹران سے کہنے لگا۔ ”ڈرو مت، گولی چلاؤ۔“ ٹرِان چی کے سامنے سے ہٹ گیا۔ افسران نے پھر حکم دہرایا۔ ٹران نے مشین گن سے گولیاں چلائیں جو کمر سے نیچے لگیں۔ یہ افواہ پہلے ہی پھیلا دی گئی تھی کہ چی جنگ کے کچھ گھنٹے بعد مر گیا۔ اس لئے اس کے قاتلوں کو یہ حکم تھا کہ سریا سینے پر ایسے زخم نہ لگائے جائیں جن نے یکلخت موت واقع ہو جائے۔ اس سے چی کی جانکنی کی کیفیت طویل ہوگئی۔ یہاں تک کہ ایک اور مدہوش سارجنٹ نے اس کے بائیں طرف پستول کی گولی مار کر اس کاکام تمام کیا۔یہ ظالمانہ برتاؤ اس شخص سے کیا گیا جس نے بولیو یا کی فوج کے اَن گنت افسروں اور جوانوں کوقیدی بنانے کے بعد ان سے نہایت انسانی سلوک کیا تھا۔
اپنے ذلیل دشمنوں کی قید میں زندگی کے آخری لمحات چی کے لئے سوہان روح ہوں گے لیکن اس امتحان سے گزرنے کے لئے بھی چی سے بہتر کوئی آدمی تیار نہیں ہو سکتا۔
اس کی ڈائری ہمارے ہاتھ کیسے لگی اس کا ابھی انکشاف نہیں کیا جاسکتا۔ یہی کہنا کافی ہے کہ اسے خریدا نہیں گیا۔ اس میں 7نومبر1967سے لے جب چی نانکااہازو پہنچا7اکتوبر 1967تک جب یارو کی گھاٹی میں معرکہ ہواتمام واقعات درج ہیں۔ اس میں صرف چند لمحے غائب ہیں لیکن یہ وہ تاریخیں تھیں جب کوئی قابل ذکر واقعات نہیں ہوئے۔ اس لئے ان کے نہ ہونے سے ڈائری کی مجموعی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
اگر چہ ڈائری کے مستند ہونے میں کوئی شبہ نہیں تھا پھر بھی اس کی تمام فوٹو کاپیوں کا سخت تجزیہ کیا گیا کہ اس میں کہیں کوئی چھوٹی سے چھوٹی بھی تبدیلی کاامکان بھی نہ رہے۔ اس کے علاوہ اس کا ایک اور گوریلا کی ڈائری سے موازنہ کیا گیا۔دونوں دستاویزیں ہر لحاظ سے مماثل پائی گئیں۔ باقی ماندہ گوریلوں کے چشم دید زبانی بیانات سے بیانات سے بھی تمام واقعات کی تصدیق ہوئی۔ ان تمام ذریعوں سے ہم اس قطعی نتیجے پر پہنچے کہ تمام فوٹو کاپیاں چی کی ڈائری کا صحیح چربہ ہیں۔
اس مہین اور مشکل تحریر کو پڑھنا بہت محنت طلب تھا۔ اس میں چی کی بیوی اور رفیق الیدا مارچ ڈی گویرانے بہت مدد دی۔انقلاب زندہ باد!
|
|