ادب >> مشاعرے >> نعتیہ مشاعرہ جدہ
ادب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نعتیہ مشاعرہ ۔فروری ۲۰۰۸ءء
زیر اہتمام دائرہ ادب جدہ
مشاعرے میں ریڈیو پاکستان،پاکستان ٹیلی ویثرن اور پرائم ٹی وی کے
عالمی شہرت یافتہ قاری اور نعت خواں سید صداقت علی صاحب کی شرکت
رپورٹ : ام صارم جدہ
گذشتہ دنوں مورخہ ۱۴ فروری ۲۰۰۸ ءء بمطابق ۷ صفر ۱۴۲۹ء ھ بروز جمعرات دائرہ ادب جدہ کے زیر اہتمام دائرہ ادب کے صدر جناب محسن#علوی کے گھر ایک نہایت ہی پروقار نعتیہ مشاعرے کا اہتمام کیا گیا ۔ مشاعرے میں ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویثرن اور پرائم ٹیلی ویثرن کے عالمی شہرت یافتہ قاری اور نعت خواں سید صداقت علی صاحب نے بھی بحیثیت مہمان خصوصی شرکت فرمائی۔قاری صداقت علی کو پرائڈ آف پرفارمینس۔ گورنمنٹ آف پاکستان سے مل چکا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے مستقل قاری ہیں۔ اور بہت سے بین الاقوامی حسن قرات کے مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
ممتاز قاری صداقت علی جو بنگلہ دیش میں منعقدہ عالمی حسن قرات کے مقابلے میں اول آچکے ہیں انہوں نے انتہائی خوش الہانی کے ساتھ بے حد جذب میں تلاوت کلام پاک پیش کرتے ہوئے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا ۔ انکی خوبصورت خوش الہانی کے ساتھ ادائیگی نے ایک الگ سماں باندھ دیا۔ اور تمام سامعین نے تلاوت کے اس احسن طریقے اور عمدہ ادائیگی پر دل کھول کر داد دی۔
دائرہ ادب جدہ کے صدر محسن #علوی نے پروگرام کی نظامت کی۔


تلاوت کے بعدقاری صداقت علی صاحب نے صاحب خانہ محسن# علوی کا حمدیہ کلا م انتہائی خوش الہانی کے ساتھ سنایا۔
رب تیری مصلحت کے اشارے جدا جدا۔ الفت ہر ایک دل میں اتارے جدا جدا
ہر دل ترے حضور میں رطب اللسان ہے۔ ہر شخص تجھ کو دل سے پکارے جدا جدا
نور خدا بکھیر رہے ہیں جہان میں۔ شمس و قمر ،چراغ، ستارے جدا جدا

نعت خوانی میں جناب نواز جنجوعہ نے حضرت حفیظ تائب کا کلام پیش کیا۔
نبی ﷺ کے حسن سے ہستی کا ہر منظر چمکتا ہے۔انہی ﷺ کے نقش پا سے گنبد بے در چمکتا ہے
نبی ﷺ نے زندگی کی تیرہ شب کو دی ہے تابانی ۔ وہی ﷺ مہتاب ہے جو روح کے اندر چمکتا ہے

جناب اصغر نوید صاحب نے حافظ مظہر# الدین کا کلام پیش کیا:
اے خدائے حسن و خوبی اے خدائے مصطفےٰ ﷺ۔ مانگتا ہوں تجھ سے توفیق ثنائے مصطفےٰﷺ
میرے مالک دے مجھے حسان کا زور بیاں۔ میں بھی ہوں اک شاعر رنگیں نوائے مصطفےٰ ﷺ
دے مجھے وہ مرتبہ یارب برائے مصطفےٰ ﷺ ۔ شہر طیبہ میں پھروں بن کر گدائے مصطفٰے ﷺ

جناب غلام مجدد صاحب نے جناب اعظم چشتی مرحوم کا کلام پیش کیا:
مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے۔ بن کے سرکار ﷺ کا مہمان مدینے میں رہے
دور رہ کے بھی اٹھاتا ہوں حضوری کے مزے۔ میں یہاں اور مری جان مدینے میں رہے
چھوڑ آیا ہوں دل و جان یہ کہہ کر اعظم# ۔ لو میں آیا مرا سامان مدینے میں رہے

جناب احمد رضا ہاشمی نے خوش الہانی کے ساتھ ایک پنجابی نعت اور محسن#علوی کلام مدینے میں رمضان کا منظر پیش کیا اور :
شہر ِ رسولِ اکرم ﷺ ہے پھر یہ ماہ رمضان بھی ہے۔ذکر بھی ہے تسبیح بھی ہے ایمان بھی ہے قرآن بھی ہے
صبح و مسا اذکار و دعائیں اور الگ سا کیفِ سجود۔اشکِ طلب ہے ، رحمتِ رب ہے، ذکر کی اپنی شان بھی ہے
صلِ علٰی افطار سے پہلے بھوک اور پیاس میں سوچو تو۔پیٹ پہ پتھر باندھ لیا تھا ، ایسا کوئی انسان ﷺ بھی ہے


جناب قاری شریف صاحب نے حافظ مظہر الدین کا نعتیہ کلام پیش کا :
یاد محبوب ﷺ ہے اور عالم تنہائی ہے۔ اب تو خلوت میں بھی کیا انجمن آرائی ہے
دل وہی دل ہے جو سرکار ﷺ کا شیدائی ہے۔ جاں وہی جاں ہے جو طیبہ کی تمنائی ہے
کتنا خوش قسمت و خوش بخت ہے مظہر# جس نے ۔ شاہ ﷺ کے مدح سراؤں میں جگہ پائی ہے

نعت خوانی کے بعد جن شعرائے کرام نے اپنا کلام سنایا ان کے اشعار حسب ترتیب پیش ہیں۔

محسن#علوی ( بحیثیت ناظم اور میزبا ن مشاعرہ) نے تازہ نعت پیش کی ۔
نگاہوں میں مدینہ ہے یہ منظر کون بھولے گا۔جہاں رحمت برستی ہو تو وہ گھر کون بھولے گا
خدا کی ذات ہی سب سے بڑی ہے سارے عالم میں۔سبھی کو یاد ہے ” اللہ اکبر “ کون بھولے گا
محمد ﷺ ابتدا تا انتہا مخلوق میں برتر۔خدا کے بعد وہ ہیں سب سے برتر کون بھولے گا

محمد نواز جنجوعہ:
آقا ﷺکی زندگی کا ہے ہر اک نشاں دلیل ۔ پیغام مصطفےٰ ﷺ ہے سر دوجہاں دلیل
آقائے دوجہان ﷺکی عظمت کے واسطے ۔ ہے رب ذوالجلال کا حسن بیاں دلیل
صادق ﷺ امین ﷺ آپ ﷺ کو کفار نے کہا۔ اللہ نے بنا دی خود ان کی زباں دلیل

جناب زمرد خان سیفی# :
اسرار سے ” احد “ کے احمد ﷺ ہی آشنا ہیں ۔ خود اپنی ذات میں ہیں رازِ خدا محمد ﷺ
فہم و شعور کیا ہے ہم کیا کہیں گے یارب ۔ ادراک کی حدوں سے ہیں ماورا محمد ﷺ
دارِ فنا کی ساری بیماریوں سے کہہ دو ۔ دارالبقا محمد ﷺ دارلشفا محمد ﷺ




جناب محمد اسد خاں نے نعت پیش کی:
وہ جود و کرم وہ صبر و رضا سبحان اللہ سبحان اللہ۔ رہے عجز و کثر نفسی میں شاہوں کے شہ محبوب خدا ﷺ سبحان اللہ سبحان اللہ
بے چینی دل کو چین ملے پہنچوں جو روزہ اقدس پر ۔ کہہ اٹھیں آنسو صل علیٰ سبحان اللہ سبحان اللہ
میں ہوش میں بھی مدہوش رہوں چپ چاپ پھروں ان گلیوں میں۔ یوں عشق نبی ﷺ میں ڈوبا ہوا سبحان اللہ سبحان اللہ

جناب قاری صداقت علی صاحب نے نعتیں پیش کیں:
بڑی امید ہے سرکار ﷺ قدموں میں بلائیں گے ۔ کرم کی جب نظر ہوگی مدینے ہم بھی جائیں گے
اگر جانا مدینے میں ہوا ہم غم کے ماروں کا ۔ مکین گنبد خضراء کو حال دل سنائیں گے
گنہ گاروں میں خود آ آکے شامل پارسا ہوں گے۔ شفیع حشر ﷺ جب دامان رحمت میں چھپائیں گے

انہوں نے حضرت حفیظ تائب کی مشہور نعت بھی پیش کی:
شوق و نیاز و عجز کے سانچے میں ڈھل کے آ ۔ یہ کوچہ حبیب ﷺ ہے پلکوں سے چل کے آ
امت کے اولیاء بھی ادب سے ہیں دم بخود ۔ یہ بارگاہ سرور دیں ﷺ ہے سنبھل کے آ
آتا ہے تو جو شہر رسالت مآب ﷺ میں ۔ حرص و ہوس کے دام سے باہر نکل کے آ
ماہ عرب کے سامنے تری بات کیا بنے ۔ اے ماہتاب روپ نہ ہر شب بدل کے آ

جناب ڈاکٹر محمود اقبال حیدر# نے پہلے حمد اور پھر نعت پیش کی :
حمد:
ہماری خواہشوں کی پاس داری کون کرتا ہے ۔ سدا پوری تمنائیں ہماری کون کرتا ہے
سکون قلب دیتا کون ہے ہر اک انساں کو ۔ دلوں سے دور سب کے بے قراری کون کرتا ہے
تصور میں دکھاتا کون ہے منظر حسیں اتنے ۔ دلوں کے شہر میں منظر نگاری کون کرتا ہے
نعت:
نعت نبی ﷺ نہیں تو تصور میں لو نہیں ۔ قندیل شاعری میں سخنور میں لو نہیں
ذکر نبی ﷺ سے گھر میں برستی ہیں رحمتیں ۔ یہ ذکر ہو نہ گھر میں تو اس گھر میں لو نہیں

جناب انور انصاری:
نگاہوں سے عقیدت لکھ رہا ہوں ۔ محمد ﷺ کو محبت لکھ رہا ہوں
ہمیشہ سے وہی ختم الرسل ﷺ ہیں ۔ میں احمد ﷺ کو نبوت لکھ رہا ہوں
وہی ﷺ خیر البشر ہیں تا قیامت ۔ وجود آدمیت لکھ رہا ہوں

عبد القیوم واثق:
روشن تصورات میں تصویر انجمن۔ وہ ﷺ صاحب کمال وہ ﷺ تنویر انجمن
تقلید کے لئے ہے رہ اسوہ رسول ﷺ ۔ مقصد ہے دین پاک کا تعمیر انجمن
وہ صبح گاہِ لطف وہ مسجد حضور ﷺ کی ۔ یادوں میں نقش ہو گئی تعبیر انجمن

نورین طلعت عروبہ#:
خاص منزل ہے نیا رخت سفر حاصل ہو۔ جذبہ شوق ملے دیدہ تر حاصل ہو
ساتویں عرش سے آگے تھے محمد ﷺ کے قدم ۔ اس بیاں کے لئے جبریل کا پر حاصل ہو
اور چاہیں گے بھی کیا عشقِ محمد ﷺ والے ۔ دامن سید ابرار ﷺ اگر حاصل ہو

محسن #علوی نے اپنی تازہ نعتوں میں سے ایک نعت اور سنائی:
وہ ﷺ ہیں محمد ﷺ مصطفی ﷺ لب پر انہی ﷺ کا نام ہے۔کیوں نہ معطر ہو دہن جب ذکر صبح و شام ہے
دل حاضری کو مضطرب رہتا یہ ہر ہر گام ہے۔اشکوں سے ہوں میں باوضو آنکھوں میں یہ پیغام ہے
جاتے فرشتے ہیں جہاں لے کر مرے الفاظ کو۔بھیجوں درود، ان ﷺ پر سلام ہر روز ہی یہ کام ہے
وہ ﷺ ہیں شفیع المذنبیں ﷺ وہ ﷺ رحمت اللعالمیں ﷺ۔گویا کہ رحمت اس طرح سب کے لئے اب عام ہے
جناب قاری صداقت علی صاحب نے ایک اور نعت پیش کی:
یہ کیفیت بھی بارہا مجھ پہ گزر گئی ۔ تھا جلوہ حضور ﷺ جہاں تک نظر گئی
پائے رسول ﷺ پر ہے مرا سر جھکا ہوا ۔ ایسے میں آ اجل تو کہاں جاکے مر گئی
آنکھوں نے خود میں اپنے مدینہ سمو لیا۔ چھوٹی سی چیز کتنا بڑا کام کرگئی

جناب نسیم سحر کی نعت( ان کے سعودی عرب سے باہر جانے کی وجہ سے) محسن علوی نے پیش کی:
کاش مجھ سے ہو سکے یہ التزام حاضری ۔ صبح صبح حاضری ہو شام شام حاضری
کاش یوں جاری رہے یہ حاضری کا سلسلہ۔ ہو نہ پائے کاش ہرگز اختتام حاضری
کیسی قسمت ہے کہ بیٹھا ہوں مدینے میں نسیم#۔ کررہا ہوں صدق دل سے اہتمام حاضری

جناب حبیب# صدیقی:
کل مجھے خواب میں جامی نے دیا آکے پیام ۔ صرف ہوتا ہے مسائل پہ ترا زور کلام
تجھ کو لازم تھا کہ اللہ کی تعریف کے بعد ۔ بھیجتا ذات رسالت ﷺ پہ عقیدت سے سلام
میں کہاں اور کہاں ذات نبی ﷺ کی توصیف۔ نطق عاجز ہے مرا اور تخیل ناکام
جناب قمر حیدر قمر# :
آسماں سرنگوں رفعتیں زیرِپا میں مدینہ میں ہوں ۔ میری ہستی کا سب سے بڑا واقعہ میں مدینے میں ہوں
میرے تلوؤں سے لپٹی ہوئی خاک بھی نور ہی نور ہے ۔ کہکشاں تجھ سے میرا تقابل ہی کیا میں مدینے میں
عشق نے فاصلوں کی حقیقت کو یوں بے اثر کردیا ۔ میں کہیں بھی رہوں گھر ہو یا راستہ میں مدینے میں ہوں

جناب نور محمد جرال (سابق صدر دائرہ ادب جدہ ) نے امریکہ سے بذریعہ ٹیلی فون پروگرام میں شرکت کی اور دو نعتیں سنائیں
ترے ﷺ ہی نور سے روشن نجوم و شمس و قمر ۔ ہر ایک شے میں ضیاء بار ہے دیا تیرا
درود پڑھتی ہوئی آنکھ میں اترتی ہے۔ پیام دیتی ہے ہر دل کو یوں صبا تیرا
ازل سے تا بہ ابد تو ﷺ ہے مخبر صادق ۔ ہر ایک عہد میں پورا ہوا کہا تیرا
جناب قاری صداقت علی صاحب نے میاں محمد بخش کا کلام پڑھ کر محفل کو گرمادیا۔
صاحب خانہ محسن # علوی کی طرف سے اور تصور چودہری تصور صاحب کے جانب سے ڈاکٹر یوسف رضا صدیقی نے قاری صداقت علی کو تحائف پیش کئے۔محسن # علوی نے حج کے حوالے سے مشتمل اپنے تاثرات پر اپنی طویل نظم پیش کی چند بند ملاحظہ ہوں:
حج پر ہوا ہے قُدرتِ اظہار کا یہ حال
کھولا جو دل کا در بنے عنواں ترے خیال
لبیک ہر قدم پہ زباں پر یہی سوال
سارے گناہ بخش دے اے ربِ ذولجلال

پھر اس یقیں کے ساتھ کہ حاجت روا ہے تو
تو ذاتِ لا شریک ہے واحد خدا ہے تو

پھر دل میں لے کے تجھ سے تمنائے روشنی
مکہ میں ہر کسی کو تو دکھلائے روشنی
موسٰی وہ طور اور تماشائے روشنی
ہم کو بھی تیرے نور سے مل جائے روشنی

پھر تیرے اذن ہی سے سخن باکمال ہو
ہر لمحہء حیات پہ تیرا خیال ہو

تُو ذات ہی الگ ہے تری شان ہے الگ
تیرے عظیم بندوں کی پہچان ہے الگ
وہ روح بھی الگ ہے وہ ایمان ہے الگ
تجھ سے قریب ہونے کا سامان ہے الگ

دورِ نبی ﷺ سا ہم کو بھی ایمان بخش دے
ہم کو نبی ﷺ کی سیرت و قرآ ن بخش دے

دوران نظامت محسن# علوی مختلف اساتذہ کی نعتوں کے چنیدہ اشعار گاہے بہ گاہے سناتے رہے ۔ آخر میں مکہ المکرمہ سے تشریف لائے ہوئے ممتاز سعودی دانشورجناب ڈاکٹر یوسف رضا صدیقی صاحب نے خصوصی طور پر دعا فرمائی ۔ ممتاز شاعرطاہر# جمیل کی صحتیابی کے لئے بھی دعا کی گئی ۔اور تمام حاضرین اور تمام امت مسلمہ کے لئے دعاؤں پر جدہ میں ہونے والے مشاعروں میں اس انتہائی یادگار اور پُر نور شاندار نعتیہ مشاعرے کا اختتام ہوا۔


پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2008. All rights reserved.