پاکستان ایسوسی ایشن دوبئی میں پہلا طرحی مشاعرہ
رپورٹ سلیمان جاذب
مرزا غالب کی 139 برسی کے موقع پر پاکستان ایسوسی ایشن دوبئی نے مرزا غالب کی شخصیت کو خراج پیش کرنے کے لئے غالب ہی کے ایک مصرعہ ”دل ناداں تجھے ہوا کیا “پر ایک طرحی مشاعرہ منعقد کیا
اس مشاعرے کا اعلان تقریباً تین ہفتے پہلے کر دیا گیا تھا، پریس کے ذریعے اور براہ راست بھی ہر شاعر کو اس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ مشاعرہ اپنے انتظامات کے لحاظ سے بہت اچھا تھا اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ بعض شعراء جو خود اس مشاعرہ میں حاضر نہ ہو سکے ، انہوں نے اپنا کلام بھیج کر اس مشاعرے میں شمولیت کی۔
مشاعرہ میں موجود تمام شعراء طرحی غزلیں لکھ کر لائے تھے لیکن حسب معمول شعراء اور سامعین کی زیادہ تعداد اعلان کردہ وقت پر نہیں پہنچے جس کی وجہ سے مشاعرہ قدرے تاخیر سے شروع ہوا ، مشاعرے کی صدارت ، سینئر شاعر اور افسانہ نگار اسلام عظمی نے کی جبکہ مہمان خصوصی قادر الکلام شاعر اور معروف ادیب فضاء اعظمی تھے ۔ مشاعرہ کی نظامت سلیمان جاذب نے اپنے مخصوص انداز میں کی۔ مشاعرے کے مزاج اور ٹیمپو کو برقرار رکھنے کے لئے شعراء کو مناسب ترتیب سے پڑھایا گیا جو کہ تمام مشاعروں سے ذرا ہٹ کے تھی۔ اعجاز شاہین سے تلاوت کلام پاک فرمائی اور ہدیہ نعت بحضور سرور کونین ﷺ عبدالستار شیغتہ نے پیش کیا۔ استقبالیہ خطبہ پاکستان ایسوسی ایشن دوبئی کے صدر جناب ریاض فاروق ساہی نے پیش کیا۔ اور اس کے بعد مشاعرہ شروع ہوا اور بعض لوگوں کا خیال تھا کہ یو اے ای کا یہ پہلا طرحی مشاعرہ ہے۔
حیدر مشاعرہ اسلام عظمی ، مہمان خصوصی فضا اعظمی کے علاوہ اعجاز شاہین، ظفر امر ، سید صغیر جعفری ، متحرمہ صبیحہ صباء، مریم حیدر ، محترمہ فائزہ فزا ، ریاض منصف ، امجد اقبال امجد، شہریں درانی، عبدالستار شیغتہ ، بلال بابر ، یونس یعقوبی ، عبدالرزاق جہانگرا ، نوید جعفری ، خلیل خان اور سلیمان جاذب نے طرحی وغیرطرحی کلام پیش کیا۔ ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری عنائیت الرحمن کے شکریہ کے ساتھ یہ محفل احتتام کو پہنچی ، اس محفل کے انعقاد میں ظفر امر ، شیریں دورانی، ا سد اللہ نے بھر پور تعاون کیا۔ مشاعرہ میں پیش کیے گئے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔
اسلام عظمی
ہر نظر میں سوال سا کیا ہے
مہرتوں کا یہ سلسلہ کیا
آنکھ اور دل کا ماجرا ہے سب
خوشنما اور بد نما کیا ہے
فضا اعظمی
گھر پھونک دیا ہے آپ خود ہی
قدرت کا عذاب لکھ رہا ہوں
ہر سانس میں کوستا ہوں اس کو
اور خط میں جناب لکھ رہا ہوں
اعجاز شاہین،
آسماں تجھ پہ کتنے ٹوٹے ہیں
اے زمیں تیرا حوصلہ کیا ہے
سید صغیر جعفری
ایک بے چین کی ادا کیا ہے
میری دنیا کو اب ہوا کیا ہے
محترمہ صبیحہ صبا
اس کی ہی مسکراہٹیں ہوں گی
شاخ پر یہ کھلا کھلا کیا ہے
مریم حیدر
تلخیاں ہے تمہاری یادوں کی
اور اس دل میں اب رہا کیا ہے
محترمہ فائزہ فزاء
سانس لیتے ہوئے بھی خوف آئے
شیر یاراں میں یہ فضا کیا ہے
امجد اقبال امجد
وفا کے بدلے میں بے وفائی ہے
اور ہم نے تم سے لیا کیا ہے
ریاض منصف
تھل پر تیری پڑ گئے پتھر
دیکھ تو دل کو دیکھتا کیا ہے
شیریں درانی
کہیں پہ بم کہیں خود کش حملہ
آج دنیا میں ہو رہا کیا ہے
عبدالستار شیفتہ
تیرا فرمان سر بلند رہے
مجھ پہ بجلی گرے برا کیا ہے
بلال بابر
رتجگے بے قرار ہر لمحہ
دل کے بیوپار میں بچا کیا ہے
یونس یعقوبی
دل ناداں بھاڑ میں جائے
مجھ سے پوچھو مجھے ہوا کیا ہے
، عبدالرزاق جہانگرا
نہ بنو محتاج کسی کے
اللہ سے ہمیشہ مانگا کرو
نوید جعفری
عزم ہے جب دیئے جلانے کا
پھر ہواؤں سے پوچھنا کیا ہے
خلیل خان
زندگی تو تو اک حقیقت ہے
اس حقیقت میں اب رہا کیا ہے
سلیمان جاذب
ہم نے دریا کے دھارے موڑے ہیں
چڑھتے سورج کا پوجنا کیا ہے