بزمِ شعروسخن کی اقبال فرید میسوری کے اعزاز میں الوداعی تقریب،شال پوشی، اور سندِ پذیرائی
رپورٹ : ملک عدنان عادل
معروف شاعر، مصور اور خطاط جناب اقبال فرید میسوری ‘سعودی عرب منطقہ شر قیہ (دمام) میں تقریباً27سال کا طویل عرصہ گذارنے کے بعد مستقل طور پر اپنے وطن ہندوستان لوٹ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بزم شعروسخن نے ان کے اعزاز میں ایک الوداعی تقریب کا اہتمام کیا۔یہ تقریب اجاد انٹرنیشنل سکول کی پرنسپل ،بزم شعروسخن کی نائب صدر محترمہ فرح جعفری کے گھر(دمام) میں منعقد ہوئی۔
تقریب میں شعرائے کرام اور باذوق مرد و خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔منطقہ شرقیہ کے تقریباًسبھی قابل ِذکر شعراء تقریب میں موجود تھے۔تقریب کی صدارت دوشعری مجموعوں صدائے موسم گل اور بدلتی رتوں کی حیرت کے خالق جناب طارق بٹ نے کی۔
مہمان خصوصی اقبال فرید میسوری تھے جبکہ اعزازی مہمانوں میں شعری مجموعہ ‘روشنی گلابوں کی، کے خالق جناب سعید اشعر اور پاکستان فورم کے جنرل سیکرٹری معروف سماجی ادبی شخصیت جناب بشیر احمد بھٹی شامل تھے۔تقریب کی نظامت آنسہ کنول زہرہ نے کی۔
تقریب دو حصوں پرمشتمل تھی:
پہلا حصہ مقالات ،خاکے اور منظومات پر مبنی تھا جبکہ دوسرا حصہ محفل مشاعرہ کیلئے مخصوص تھا ۔
تقریب کا آغاز اللہ تعالیٰ کے بابرکت اور پاک نام سے کیا گیا۔ تلاوت کلام مجید کی سعادت جناب ایوب صابر نے حاصل کی۔ تلاوت کے بعد نعت رسولمقبول جناب سعید منتظر نے پیش کی۔بزم شعروسخن کے صدر جناب ناز مظفر آبادی نے خطبہ استقبالیہ میں تقریب کی غرض وغایت بیان کی۔ انہوں نے فرید میسوری کو عمدہ انسان اور اچھا فنکار قرار دیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کی آمد کا شکریہ ادا کیا ۔
پروگرام کے پہلے حصہ میں جناب ایوب صابر، جناب بشیر احمد بھٹی جناب سعید اشعر اور جناب طارق بٹ نے اپنے اپنے مقالات میں جناب اقبال فرید میسوری کی شخصیت اور فن پر بھر پور روشنی ڈالی، جبکہ جناب حکیم اسلم قمر، جناب سعید منتظر ،اور جناب سعید اشعر نے منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ جناب اقبال احمد قمر نے خاکہ پیش کیا۔ اجاد انٹر نیشنل سکول کے ہونہار طالب علم وسیم عباس نے مہمان خصوصی کو گلدستہ پیش کیا۔ بزم شعروسخن کے رابطہ سیکر یٹری جناب باقرعباس فائیز نے اقبال فرید میسوری کی رسم شال پوشی ادا کی۔ جناب ناز مظفر آبادی نے اقبال فرید میسوری کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں بزم شعروسخن اور ادارہ شعروسخن کی جانب سے سندِ پذیرائی پیش کی۔ اقبال فرید میسوری نے اپنے خطاب میں نہایت جذباتی انداز میں بزم شعروسخن کا شکریہ ادا کیا اور بزم کی ادبی کا وشوں کی بے حد تعریف کی۔ تقریب کے صدر جناب طارق بٹ نے صدارتی خطاب میں بزم شعروسخن کی اس تقریب کے حسن انتظام کو بے حد سراہا۔ انہوں نے مشاعرہ میں پیش کئے جانے والے کلام کی تعریف کی۔ بزم شعروسخن کو تقریب کی کا میابی پر مبارک باد بھی دی۔ علاوہ ازیں تقریب کی عمدہ نظامت پر انہوں نے کنول زہرہ کو مبارک باد دی۔
دوسرا حصہ جو محفل مشاعرہ کیلئے مختص تھا، اس میں شعرائے کرام نے اپنا اپنا کلام پیش کر کے دادحاصل کی، یہ خوبصورت تقریب اذان فجر تک جاری رہی۔ شرکائے محفل کیلئے ضیافت کا اعلیٰ انتظام کیا گیا تھا۔ مدینہ ریسٹورنٹ کے جناب افتخارحمد نے تقریب کے لئے مشروبات بھیج رکھے تھے جو مہمانوں کو کھانے کے ساتھ پیش کئے گئے۔ مشاعرے میں پیش کئے گئے شعراء کے کلام کا نمونہ…
کنول زہرہ:
خبر کیا تھی خبر یہ عام ہوگی
محبت اس طرح بدنام ہو گی
چلو غم دونوں مل کر بانٹ لیں گے
خوشی لیکن تمہارے نام ہو گی
ملک عدنان عادل:
پھر کسی کے بے سبب انکار پر
رکھ دیا ہے ہم نے جیون دھار پر
اتنا اپنی جیت پر وہ خوش نہ تھا
جتنا خوش ہے اب ہماری ہارپر
حفیظ آکولوی:
اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھو
ہے بساان میں کتنا ڈر دیکھو
سچ کو سچ کہنے کی سزایہ ملی
شعلوں میں لپٹا مرا تھر دیکھو
معراج انصاری:
میرے آنگن میں جو گئی ہو گی
چاند نی کانپ تو گئی ہو گی
شہر میں قہقہے چمک اٹھے
گاؤں میں شام ہو گئی ہو گی
افتخار حمد راہب:
بدل لی اس نے نظر ، میں نے راستہ بدلا
غلام تھا میں محبت کا زر خرید نہ تھا
بتاتا کون کسے راہ مستقیم بھلا
وہ کوئی پیر نہ تھا اور میں مرید نہ تھا
باقرعباس فائیز:
ہم نے ہر حال میں وفا کی ہے
یہ خطا ہے تو پھر خطا کی ہے
ایوب صابر:
نہ تھا معلوم کہ ساحر کوئی رستے میں بیٹھا ہے
وگرنہ آج موسیٰ سے عصا تبدیل کر لیتا
بدلتی رت پہ صابر کا اجارہ تو نہیں ہر گز
میں کیسے شہر کی آب وہوا تبدیل کر لینا
ڈاکٹر انیلا صفدر:
دل دریدہ میں چاہ باقی ہے
رو چکے پھر بھی آہ باقی ہے
موسم گل ہے اپنے جو بن پر
خوف اک خواہ مخواہ باقی ہے
شماع انور:
بھول جاتا ہوں تمہیں دیکھ کے ساری باتیں
تم سے تنہائی میں کرتا ہوں تمہاری باتیں
ذہن بن جاتا ہوں میں، اور وہ بن جاتا ہے دل
اپنی خاموشی سے یوں رہتی ہیں جاری باتیں
فرح جعفری:
مسائل اس طرح سلجھا رہا تھا
کہ باتوں میں فقط الجھا رہا تھا
محبت اس کے بس کا روگ کب تھی
تماشا شہر کو دکھلا رہا تھا
ناز مظفر آبادی:
عشق ، چاہت، دوستی سے اختلاف اس نے کیا
دل کے اک اک فیصلے سے انحراف اس نے کیا
زلف ، لب رخسار، آنکھیں قدروقامت ، چال ڈھال
اتحادی فوج کو میرے خلاف اس نے کیا
حکیم اسلم قمر:
بہاروں میں گلشن سجایا کرو گے
مگرہم نہ ہوں گے، مگر ہم نہ ہوں گے
چراغِ تمنا جلایا کرو گے
مگر ہم نہ ہوں گے مگر ہم نہ ہوں گے
سعید منتظر:
سوچا ہے کہ اب ظرف کو رسوانہ کر یں گے
ہم جرم محبت کا اعادہ نہ کر یں گے
ٹھانی ہے کہ اب تیری تمنانہ کر یں گے
ایسا نہ کر یں گے کبھی، ویسا نہ کر یں گے
اقبال احمد قمر:
مرایقین ہے کہ ہے فقط یہ حسنِ ظن مرا
کہ رائیگاں نہ جائے گا کبھی کوئی جتن مرا
قبول میں نے کیا کیا گزرتی عمر کا اثر
وہی ہیں کج کلاہیاں، وہی ہے بانکپن مرا
سعید اشعر:
زندگی سے میں بے خبر ہوں اب
سانس لیتا ہوں بے دھیانی میں
میں کہ تعبیر سے بھی واقف تھا
خواب بُنتاہوں بے دھیانی میں
اقبال فرید میسوری :
کیا پتا کل بھی یہ لمحات ہمارے ہوں گے
آؤ کچھ دیر ذرا بیٹھ کے ہنس کے رولیں
طارق بٹ:
پوریں زخمی ہو جاتی ہیں تار سے تار ملانے میں
گرہ لگاتے ریشم سے رشتوں کے تانے بانے میں
پوچھتے ہیں وہ تم کو کسی کا ساتھ نہیں اچھا لگتا
فرق نہ سمجھیں رشتوں کو اپنانے اور نبھانے میں