اسلام آباد میں اخوت اکادمی کے زیر اہتمام نعتیہ مشاعرہ
رپورٹ: مرتضی عباس
ربیع الاول کے بابرکت مہینے کی مناسبت سےاسلام آباد میں اخوت اکادمی کے زیر اہتمام نعتیہ مشاعرہ کاانعقاد ہوا۔اس مقدس تقریب کی صدارت اکادمی ادبیات کے چیئر مین افتخارعارف نے کی جبکہ ڈاکٹر توصیف تبسم اور بشیر حسین ناظم مہمانان خصوصی تھے۔نظامت کے فرائض محبوب ظفر نے ادا کیے۔
تقریب میں پیش کی گئی نعتوں میں سے منتخب اشعار نذر قارئین ہیں:
محبوب ظفر:
کیا کروں گا ساری دنیا دیکھ کر
دیکھنے کو بس مدینہ چاہیے
ثاقب اکبر:
جس کے طفیل قرب الہی نصیب ہو
ہدیہ کچھ ایسا پیش کروں آنجناب کو
ظفر اقبال انجم:
خدایا کر عطا مجھ کو تو اپنے فضل سے اتنا
کہ سب سے بڑھ کر ان کے گیت گانا چاہتا ہوں میں
فرح دیبا:
محسوس یہ ہوتا ہے کہ پہنچی ہوں مدینے
جب نام عقیدت سے ترا آیا زباں پر
جاوید رضا:
شفاعت کے لیے کیوں جھانکتا پھرتا ہے در در پر
در احمدکا سائل ہو تو بیڑاپار ہو جائے
حسین وارث:
جانے کہاں کہاں ترے قدموں کی خاک ہو
کرتا ہوں اس لحاظ سے تعظیم کا ئنات
سیدہ تنویر:
میری سب مشکلیں ہوئیں آسان
میں نے جب بھی لیا حضور کا نام
اختر رضا سلیمی:
جسے نسیم سحر آج لوگ کہتے ہیں
وہ گرم لو تھی ترے لمس نے صبا کی ہے
اختر عثمان:
کھڑے رہ جائیں کلف دار لباسوں والے
بوذر چاک ردا چن کے مجھے لے جائیں
جلیل عالی:
جو اس سے صبر و رضا اکتساب کرتے ہیں
ہر امتحاں سے نکلتے ہیں سر خرو ہو کر
بشیر حسین ناظم:
اس دل پہ تصدق ہوں امانی کے خزانے
جس دل میں زر عشق محمد کی رمق ہے
ڈاکٹر توصیف تبسم:
قدم اب خاک پر پڑتے نہیں ہیں
دماغوں میں مدینے کی ہوا ہے
افتخار عارف:
رب کعبہ کی طرف اذن و عنایت سے گیا
شکر نعمت کو گیا قصد زیارت کو گیا
سارے اسباب تو پہلے سے بہم ہو چکے تھے
حکم کی دیر تھی حکم آیا تو عجلت سے گیا
میں غلاموں کی قطاروں میں کھڑا آخری شخص
باب رحمت کی طرف باب امانت سے گیا
چین دیتا ہے بہت دل کو قیام حرمین
دل کو آرام کی حاجت تھی ضرورت سے گیا
وہ مدینے میں جو دو باغ ہیں جنت کے، ادھر
بیعت سلسلہ نور کی نیت سے گیا
وادی شہر مکرم سے مدینے کی طرف
والی شہر مدینہ کی اجازت سے گیا
سجدہ ریزی کی مری مشق پرانی تھی سو میں
سجدے کرتا ہوا ہر منزل طاعت سے گیا
کہیں گریہ کیا پیہم ادب آداب کے ساتھ
کہیں وارفتگی شوق کی شدت سے گیا
کتنے دشوار مراحل تھے وہ جب گزرے تھے
میں بہت سہل اسی جادہ ہجرت سے گیا
ایسا میں کون سا شاعر ہوں مگر میرے نصیب
مدحت سرور کونین کی نسبت سے گیا