عالمی مشاعرے ثقافتی رشتوں کو مضبوط بنا رہے ہیں، صفوان اللہ
سابق وفاقی وزیر صفوان اللہ نے کہا ہے کہ حالات کو مثبت سمت کی طرف لے جانے اور باہمی میل جول کو بڑھانے میں عالمی مشاعرے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے ایسی ادبی تقریبات اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ”ساکنان شہر قائد“ گزشتہ کئی برس سے عالمی مشاعرے تسلسل کے ساتھ منعقد کیے جا رہے ہیں جو ادبی اور ثقافتی رشتوں کو مزید مستحکم بنا رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”ساکنان شہر قائد“ کے زیر اہتمام 30 اپریل کو وفاقی اردو یونیورسٹی گلشن اقبال کے گراؤنڈ میں ہونے والے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کے سلسلے میں کراچی جیم خانہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر عبدالحسیب خان، اعجاز محمود، اظہر عباس ہاشمی، ایس ایم منیر، عمر اقبال، فرحان الرحمن اور دیگر نے بھی خطاب کیا، اجلاس میں ممتاز تاجر میاں زاہد حسین، مسعود نقی، عمر قاسم، سابق صوبائی مشیر، صلاح الدین حیدر، افضال صدیقی، ڈاکٹر ہما میر، ڈاکٹر ریحانہ محمد علی شاہ، حسن امام صدیقی، رعنا اقبال، حاجی ناصر خان ترک، عزیز منصور اور دیگر نے شرکت کی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالحسیب خان نے کہا کہ عالمی مشاعرے کے انعقاد سے کراچی کی شکل مزید نکھر جائے گی، اعجاز محمود نے کہا کہ عالمی مشاعروں کے انعقاد سے ادب کو فروغ حاصل ہوگا، اظہر عباس ہاشمی نے کہا کہ کراچی کے سامعین بہت باذوق اور مہذب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ساکنان شہر قائد“ کے تحت ٹرسٹ کا بھی قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے تحت شاعروں کے مجموعہ کلام شائع کیے جا رہے ہیں، ایس ایم منیر نے کہا کہ ایسی ادبی تقریبات کا تلسل جاری رہنا چاہئے، فرحان الرحمن نے کہا کہ ادب اور سائنس کا آپس میں گہرا تعلق ہے، سائنس بم ایجاد کر سکتی ہے تو ادب اس کا طریقہ استعمال بتا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشاعرے ہمارے تعلقات کو مستحکم کرتے ہیں اور عالمی مشاعرے کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، سابق صدر کراچی جیم خانہ عمر اقبال نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”جھیل پارک“ پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں نو تعمیر شدہ پارک کا نام ممتاز سائنسدان ”ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی“ کے نام سے منسوب کردیا جائے قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔