ادب >> پاکستان کے صوفی شعرا >> میاں محمد بخش
ادب
میاں محمد بخش (1824-1907)

راشد متین
میاں محمد بخش پنجاب میں عربی ، فارسی روایت کے آخری معروف ترین صوفی شاعر تھے۔ ان کی ولادت ۱۸۲۴ء میں میرپور کے علاقہ کھڑی شریف میں ہوئی۔ انہوں نے اس علاقے کی مشہور دینی درسگاہ سمر شریف میں تعلیم حاصل کی ۔ حافظ غلام حسین سے علم حدیث پڑھا۔حافظ ناصر سے دینی علوم کے علاوہ شعرو ادب کے رموز سے بھی آشنائی حاصل کی۔ جلد ہی عربی اور فارسی زبانوں میں عبور حاصل کر لیا۔ اس کے بعد پنجاب بھر کا سفر کیا اور علماء اور مشائخ سے ملاقاتیں کیں ۔واپس آخر ضلع میرپورہی میں سائیں غلام محمد کے مرید ہوئے۔ ان کی دانست میں مرشد کا مل کا اہم وصف محض صاحب کرامات ہونا ہی نہیں، بلکہ حسن واخلاق کی بلندی کو چھونا بھی ہے۔ میاں محمد بخش حاکمانِ وقت سے دور دور رہتے تھے۔ اکابرین کی سیرت نے ان کی زندگی میں روحانی انقلاب برپا کر دیا تھا۔ وہ موسیقی کے دقیق رموز پر بھی ماہرانی نظر رکھتے تھے۔ اسی لئے ان کی شاعری میں موسیقیت بدرجہ اتم رچی ہوئی ہے۔ انہوں نے متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ انہوں نے جس عہد میں آنکھ کھولی، وہ بڑا پر آشوب دور تھا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی، انگریزوں کا کشمیر کو سکھ مہاراجہ کے حوالے کرنا ، سکھوں کے پنجاب بھر میں مظالم انہی کے دور میں ہوئے۔
ان کی شاعری ، فکر اورمطالعے کے ڈانڈے قرآن وحدیث، فارسی شعراء عطار ، رومی ، جامی کے علاوہ منصور حلاج اور خواجہ حافظ سے لے کر پنجابی شعراء تک پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری میں تصوف ہندی اور ایرانی روایت کو جذب کر کے ذاتی اور اجتماعی سوز و گداز کے فیضان سے فکر انگیز اور دلکش پیرائے میں ڈھالا ہے۔ اور ابن عربی اور مولانا روم کی صوفیانہ روایت ، پنجابی شاعری کی روایت کے اثر سے دو آتشہ ہوگئی ہے۔ ان کی تخلیق کردہ مشہور داستان ”سفر عشق“ جو کہ قصہ سیف الملوک کے نام سے معروف ہے انہی افکاروتخیلات کا پر تو نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری کی تین خصوصیات ہیں، سوزوگداز، پندونصائح کے شائبے کے بغیر لطیف پیرا یہٴ اظہار اورتمثیلی انداز۔
ابن عربی کے فلسفہ وحدت الوجود کی وہ ایسی تعبیر کے حامی ہیں، جو ذرّے ذرّے میں جمالِ حقیقی سے روشناس کرواتی ہے۔ انسان کو تعصبات اور فخر وغرور سے بچاتی ہے۔ اسی رویے نے ان کی شاعری میں گہرائی اور گیرائی پیدا کی ہے اور فکر کو وسیع اور ہمہ گیر بتایا ہے۔ انہوں نے خارجی احوال وکوائف کی ترجمانی کے علاوہ من کی دنیا کی سیاحت بھی کی ہے۔ خارجی اور داخلی زندگی ان کی شاعری میں الگ الگ نہیں بلکہ باہم مربوط نظر آتی ہیں۔ ان کے مطابق جیتے جی مرجانا اور مر کر بھی جیتے رہنا ہی فقر ہے۔ عمل پر بہت زور دیتے ہیں، کیونکہ عمل کے بغیر کوئی بھی کام پورا نہیں ہوتا۔ ان کی تصنیف ”قصہ سیف الملوک “ کی ساری کی ساری فضا عمل پر ہی قائم کی گئی ہے۔
میاں محمد بخش کا انتقال ۱۹۰۷میں ہوا ۔
مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.