1990 کا نوبل انعام یافتہ شاعر:
اوکتا ویوپاز(1914-1998)
1990میں ادب کا نوبل انعام میکسیکو کے سر ریلسٹ شاعر اوکتا ویوپازOctavio Pazکو ملا۔اوکتا ویوپاز ایک ایسا بین الاقوامی شاعر ہے‘ جسے بدلتے ہوئے تناظر کا احساس ہے اور جس کی غیر نظریاتی حیثیت پروہ اصرار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ شاعری دوسری آواز ہے ، یہ نہ تاریخ کی آواز ہے اور نہ تاریخ مخالف کوئی صدا ---یہ ایک ایسی آواز ہے جو تاریخ کے اندر ہمیشہ کوئی دوسری بات ہی کہہ رہی ہوتی ہے۔ پازکے تہذیبی لا شعور پرمیکسیکو کی روایات اور دیومالائی داستانوں کا گہرا اثر ہے۔لاطینی امریکہ کی تہذیبی روایت کے بعد ،اس کی شاعری پر سب سے گہرا اثر ہندی دیومالا کا ہے۔وہ ہندوستان میں1962سے1968تک بطور سفیر متعین رہا۔اپنے نشاطیہ مزاج کے سبب ہندی دیومالا کے نشاطیہ و جنسی پہلوؤں سے وہ بالخصوص متاثر ہوا۔اس کا شعری مجموعہEast Slopeاسی عہد کی یادگار ہے۔اس نے افغانستان کا سفر بھی اسی زمانہ میں کیا اور ”ہرات“ کے ایک صوفی کے مزار پر ایک نظم لکھی۔اس کی ایک خوبصورت نظم ”امیر خسرو“ پر بھی ہے۔جاپان میں قیام کے دوران وہ جاپانی تکنیک ” رینگا“ سے متاثر ہوا ۔ زین بدھ مت کی روایت نے بھی اس پر اثر چھوڑا ۔ اس زمانے کی یاد گار اس کی نظم ” باشو کی کٹیا“ ہے ۔ ہائیکو کا مشہور شاعر” باشو“ 1670ء میں کیوتر کے قریب ایک کمپکوجی کی ایک کٹیا میں کچھ وقت کے لئے ٹھہرا تھا ۔ یہ نظم اسی یاد کے بارے میں ہے ۔ایک وسیع ذہن کے بین الاقوامی شاعر کے طور پر اس نے دنیا کی تہذیبوں میں گہری دلچسپی لی ہے اور یہ اسی دلچسپی کا نتیجہ ہے کہ اس کی شاعری قدیم و جدید تقاضوں کی شاعری بن گئی ہے۔
اوکتا ویوپاز 1914ء میں میکسکو شہر میں پیدا ہوا ۔ وہ لاطینی امریکہ کے عظیم شعراء میں سے ایک ہے ۔ اس نے ابتدائی عمر ہی میں لکھنا شروع کر دیا تھا ۔ اس کی اولین نظمیں روایتی اسالیب میں کہی گئی تھیں جن میں کیوویڈو(Quevedo) گنگورا(Gongora) اور سرجوانا ڈیلا کروز جیسے شعرء ا کا اثر نمایاں ہے ۔ 1949ء میں اس نے اپنی نظموں کا پہلا اولین انتخاب Libertad bajo Palabraشائع کیا اور اس سے اگلے سال میکسیکو پر اپنا معروف مضمون (EI Laberinto De La Soledad) چھاپا جس کا ترجمہ یورپ کی تقریباً ہر زبان میں ہو چکا ہے ۔ اس کی ساری تخلیقات میں اس کا مجموعہ ”نثرو شعر “ سریلزم کے نہایت قریب ہے ۔ 1959ء میں اس کی عظیم نظموں میں سے ایک نظم Piedra de solمنظر عام پر آئی جس کا بڑے پیمانے پر ترجمہ ہوا ۔ 1964ء میں انڈیا کے لئے بطور سفیر اس کی تعیناتی ہوئی اور وہاں وہ اپنے قیام کے دوران اورینٹل آرٹ اور فلاسفی میں محو ہو گیا ۔ اس کے دو شعری مجموعے شائع ہوئے ۔ ایک (Salamandra) 1962ء میں اور دوسرا) (Ladera este 1969 میں۔ آخر الذکر مجموعہ اس کے مشرقی تجربات کا احاطہ کرتا ہے۔ دورانِ قیامِ ہند 1968 میں میکسیکو شہر میں طلبا کے قتل عام پر اس نے میکسیکو گورنمنٹ سے احتجاج کرتے ہوئے اپنے سفارتی منصب سے استعفیٰ دے دیا ۔ 1975ء میں اس کی عظیم نظموں میں سے ایک نظم Psado en claro شائع ہوئی اور 1976ء سے لے کر اب تک اس کی نظموں کے مجموعے Vuelta کے علاوہ اس کے مضامین کی بہت ساری کتابیں اشاعت پذیر ہوئیں ۔1976 ء میں حکومت کی دخل اندازی کے بعد پازاور Plural کے ایڈیٹوریل بورڈ نے استعفیٰ دے دیا اور ایک دوسرے ماہانہ رسالے Vueltaکی بنیاد رکھی جس نے اپنے پیشرو کا آغاز کیاہوا ثقافتی اور تنقیدی کام جاری رکھا ۔ آگسٹیو یوپاز ، چالس ٹام لنسن ، جیکر روباڈ اور ایڈو آرڈو سینگوینٹی نے مل کے نظموں کا ایک سلسلہ تصنیف کیا جو کسی مغربی زبان میں جاپانی Renga کی طرز پر پہلی دفعہ اختیار کیا گیا اور جو پینگوئنز (Penguines)اشاعتی ادارے سے بھی شائع کیا جا چکا ہے ۔
حیران کن حد تک متاثر کرنے والا اورپُر اضطراب تخلیق کار اوکتا ویوپاز جسے فرانس کی سرریلز م ،امریکہ کی شعریت ، جرمنی کی رومانیت اور مارکس کی جدلیات پر یکساں عبور ہے، اب مسلمہ طور پر لاطینی امریکہ کا ایک عظیم شاعر بن چکا ہے ۔ سپین کی خانہ جنگی کے زیرِ اثر اس کے فن میں بہت پہلے ہی پختگی پیدا ہو گئی ، اور دنیا بھر میں مختلف سفارتی مناصب پر تعیناتی نے اس پر متنوع ثقافتی اثرات کا رنگ چڑھایا ۔اپنی پیچیدہ شخصیت کی اکائی تشکیل کرنے کی کاوش اور عہد حاضر کے ساتھ اپنے ملک کا ماضی اور مستقبل ہم آہنگ کرنے کی مساعی ، اس کی شاعری کا غالب عنصر ہیں ۔ اس کے فن کا ایک اور غالب و خود اختیار کردہ عنصر ضمیر کا ہو بہو ، نازک اور سچا اظہار ہے جسے وہ حقیقت کلی کو مسلسل زیر بحث لا کر گرفت میں لیتا رہتا ہے ۔تیسری دنیا کے ممالک میں پاز کو اب تک ایک شاعر کبیر کے طور پر ہی تسلیم کیا جاتا ہے، اس طرح یہ ممالک ابھی تک پاز کی اس اہم علمی اور ثقافتی خدمت کو سمجھنے سے محروم رہے ہیں کہ جو خدمت اس نے لاطینی امریکہ کی ثقافت کی از سر نو تشریح و تعبیر کرکے انجام دی ہے ۔ چنانچہ یورپ کی جدید یت وجودیت اور سریلزم کے ساتھ ساتھ وہ لاطینی امریکہ کی اپنی پرانی جڑوں کی تلاش میں بھی سرگرداں رہا ۔پاز لاطینی امریکہ کی شاعری کو علاقائی جغرافیہ کی سرحدوں میں مقید نہیں کرتا ۔ اس کے نزدیک میکسیکو، ارجنٹینا ، پیرو یا چلی کی سیاسی اور جغرافیائی سرحدیں تو موجود ہیں مگر ان خطوں کی شاعری ان سرحدوں سے ماورا ہے ۔