1956 کا نوبل انعام یافتہ شاعر :
خوان رامون خی مے نز(1881-1958)
1956میں ادب کا نوبل انعام سپین کے شاعرخوان رامون خی مے نزJuan Ramon Jimenyz کو دیا گیا۔اس کی شاعری لاطینی امریکہ کے دوسرے دو نوبل انعام یافتہ شاعروں پابلو نرودا اور اکتاوپاز کی شاعری سے بڑی مختلف نوعیت کی ہے۔نرودا اور پاز بطور انسان اپنا سارا وزن اپنی شاعری کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں۔اس کے برعکس خی مے نزکیلئے شعر کہنے کا عمل ایک الوہی واردات کا درجہ رکھتا ہے جس سے وہ روحانی لذت حاصل کرتا ہے۔وہ ممکن حد تک ہر لمحے میں زندہ رہنے کی کوشش کرتا ہے ۔نظم اس کے باطن سے ایک چنگاری کی طرح پھوٹتی ہے اور اس کی زندگی کو روشن کردیتی ہے۔وہ جو کچھ لکھتا ہے اس کے اندر الوہیت کا عنصر ہوتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ زندگی اس طرح گزارتا ہے کہ اس سے ممکن حد تک شاعری حاصل کر سکے۔اس کی شاعری یہ سوال اٹھاتی ہے کہ ہمیں کس قسم کی زندگی گزارانی چاہیے تاکہ اس میں شاعری کا روحانی مزہ محسوس کیا جا سکے۔وہ نہ تو اپنی ہی اور نہ دوسروں کی غلطیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔وہ تو تنہائی اور تنہائی کے تجربے سے لطف اندوز ہونے میں مصروف رہتا ہے۔اسے وہ برہنہ شاعری کانام دیتا ہے جو جذبے کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
اپنی ایک نظم میں وہ بتاتا ہے کہ شاعری شروع میں اس کی طرف ایک نوجوان مگر برہنہ لڑکی کے روپ میں آئی اور وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔پھر خود کو ملبوس اور زیورات سے آراستہ کرنے لگی اور وہ اس سے بددل ہونے لگا۔پھر شاعری نے ملبوس اور زیورات اتار دیے اور اپنی پہلی حالت میں اس کی طرف آ گئی۔وہ اس سے پہلی سی محبت کرنے لگا۔وہ تصنع سے پاک شاعری کا عاشق ہے۔
زنوبیا کمپوبی سے شادی کرنے کی خاطر خی مے نز 1916میں امریکہ میں آیا جو نیویارک سے شائع ہونے والے ہسپانوی زبان کے ایک اخبار کے مالک کی بہن تھی۔اپنی بیوی سے اس کی محبت لافانی نوعیت کی تھی۔ خی مے نزنے اس کے لئے بہت سی نظمیں لکھیں۔ اپنی بیوی کی شرکت میں اس نے رابندر ناتھ ٹیگور کی تصانیف کا ترجمہ کیا ۔ خی مے نز کی نظم اور نثر پر ٹیگور کا گہرا اثر دکھائی دیتا ہے ۔ جب اسپین میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو اس نے رضا کارانہ طورپر جلا وطنی اختیار کی ۔1956میں جب اسے نوبل انعام ملنے خبر ملی تو اس وقت اس کی بیوی بستر مرگ پر تھی۔اس نے اخباری نمائندوں سے معذرت چاہی اور ان سے چلے جانے کی درخواست کی۔اس نے سٹاک ہوم جانے اور انعام لینے سے بھی انکار کر دیا۔بیوی کی موت کے بعد اس سے کوئی نظم نہ لکھی گئی۔پھر وہ خود بھی1958میں اس دنیا سے چلا گیا۔
خی مے نز اسپین کا خالص غنائی شاعر ہے ۔ 1903اور1917میں شائع ہونے والی اس کی تصانیف کی اشاعت نے نہ صرف اس کو اسپین کا سب سے مقبول شاعر بنا دیا، بلکہ وہ نوبل انعام کا مستحق قرار پایا، لیکن خی مے نز کی شاعری میں اس کے بعد کا دور زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔ 1918اور1919میں شائع ہونے والی تصانیف میں ایک ایسا شاعر سامنے آتا ہے جس نے خیالات اور تصورات کو واشگاف آزاد تخیل کے سانچوں میں پیش کرنے کی غرض سے روایتی سانچوں کو ردّ کر دیا۔ اس کی خالص شاعری کی خصوصیات برقرارر ہیں، لیکن اس کی جگہ فکر کی گہرائی نے لے لی جس کا اظہار اس کی شاعری میں بھر پور انداز میں ہوتا ہے ۔خی مے نز کے آخری دَور کی نظموں میں موت اور اس کی حیوانی خاصیت شاعر کی فکر کا خاص موضوع بن گئی ۔ مابعد الطبیعاتی رُجحان میں بڑی قنوطیت اور شدید ایقان شامل ہو گیا ۔مگر اس کے باوجود بھی خی مے نزنے ہسپانوی شاعری کو بڑے عمدہ تحفے دیے ہیں۔اس نے اپنی شاعری میں مسرت کے حصول پر زور دیا ہے، ایک الوہی قسم کی مسرت! یہی ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی سمجھی جاتی ہے۔