1972 کا نوبل انعام یافتہ ادیب
ہنری بال
1917-1985
Heinrich Böll
ہینری بال جرمنی کے ایک فلاسفر اور مصنف تھے جن کا شمار عالمی جنگ کے بعد کے ابتدائی جرمن مصنّفین میں ہوتا ہے ۔ ہینری 1917ء میں جرمنی کے مشہور شہر کولون میں پیدا ہوئے اور 1985ء میں دنیا چھوڑ گئے ۔ 1924ء سے 1928ء تک ابتدائی تعلیم ایک سکول سے حاصل کی جس کے بعد 1937ء تک ایک کلاسیکل سرکاری سکول میں زیر تعلیم رہے۔ اسی سال ایک بک کمپنی کے بک سیلر بن گئے لیکن 1938ء میں اسے چھوڑ کر نیشنل لیبر سروس کرنے لگے جو یونیورسٹی میں داخلہ لینے کیلئے ایک سال تک کرنا ضروری تھی ۔ 1939ء میں ابھی یونیورسٹی میں داخل ہی ہو ئے تھے کہ ہٹلر نے پولینڈ پرحملہ کرکے دوسری عالمی جنگ کا آغاز کر دیا ۔ دوسری عالمی جنگ میں بھی شرکت کی اور مختلف محاذوں پر ڈیوٹی انجام دیتے رہے ۔ آخر میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور 1945ء میں رہا کیے گئے ۔اس کے بعد چند ہفتوں کیلئے بیلجئم کے انگلش کیمپ میں بھی زیر حراست رہے ۔ آخر دسمبر 1945ء میں اپنی بیوی اور کچھ عزیزوں کے ہمراہ واپس کولون آگئے اور برسوں اپنے تباہ شدہ مکان میں رہے مکان کی مرمت کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر لکھنے کا کام شروع کیا۔
ہینری بال نے 1946ء سے 1949ء تک شارٹ سٹوریز پر مبنی ایک کتاب شائع کی اور 1949ء میں ہی پہلا ناول تحریر کیا ۔ 1951ء میں گروپ 47 کی ایک میٹنگ میں جرمنی کے عالمی جنگ کے بعد کے مصنّفین سے ملاقات ہوئی اور ان سے دوستی ہوئی ۔ اس گروپ 47 نے جرمنی کے کئی مصنّفین اور مصنفات کو گوشہ گمنامی سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ بال نے 1942ء میں این میری سے شادی کی ۔ اپنی بیوی کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس نے نہ صرف میرے دکھ درد اور جنگ کے دوران ساتھ دیا بلکہ زبان پر اس کو جو عبورحاصل تھا میں نے اس کا بھی خوب فائدہ اٹھایا۔ ہنرچ بال کا پہلا بچہ زندہ نہ رہا ، پھر تین بیٹے پیدا ہوئے ۔ 1951ء کے بعد وہ فری لانسر رائٹر بن گئے ۔ اپنے ابتدائی ناولوں میں انہوں نے مایوس فوجیوں کی زندگیوں کا نقشہ کھینچا اور ا پنی نوجوانی کے دنوں میں ملٹری میں جو سختیاں ، مظالم اور مصائب دیکھے ان کا احاطہ کیا۔ ظلم کی یہ کہانیاں Train was on time 1947ء Traveller if you come to spa 1950ء اور Adam"where art thou 1951ء میں لکھیں ۔ ان میں نازیوں کے مظالم کا خوب ذکر کیا ۔
ان کا پہلا کامیاب ناول 1953ء میں And Never said a wordتھا ۔ اس میں میاں بیوی کی کہانی بیان کی ہے جن کی شادی غربت کی وجہ سے بحران کا شکار ہو جاتی ہے ۔اس کے علاوہ بھی بہت سارے یاد گار ناول لکھے جن میں Billiards at Half Past Nine 1959ء The clown 1963ء ، Group Portrait with a lady 1971ء The Mad dog 1977ء قابل ذکر ہیں ۔ وہ میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عتاب میں بھی رہے ۔ انہیں ہراساں کیا گیا اور گھر پر چھاپے مارے گئے ۔ ان کے مرنے کے بعد 2006ء میں سی آئی اے کے ایک رکن نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ ہنرچ بال سی آئی اے کیلئے کام کرتے رہے اور یہ امریکی ایجنسی 1960ء کے عشرے میں ان کے سفری اخراجات برداشت کرتی رہی ہے ۔