ادب >> نوبل پرائز برائے ادب >> نوبل انعام 1971
ادب
پابلونرودا
(1904-1973ء)

1971میں ادب کا نوبل انعام چلی کے انقلابی شاعرپابلو نروداPablo Neruda کو ملا۔ چلی کا یہ نوبل انعام یافتہ شاعر اپنے ملک میں متعدد حیثیتوں کا مالک تھا ۔ شاعر ہونے کے علاوہ ایک سفارت کار ، چلی کی کیمونسٹ پارٹی کا چیئر مین اور اپنی مل کا صدارتی امیدوار بھی تھا ۔ جب 1973میں چلی کی فوج نے سی آئی اے کی مدد سے اپنے ملک کی صدر آلاندے کی منتخب سو شلسٹ حکومت کا تختہ الٹ دیا اور آلاندے کو گولی مار کر راتوں رات کسی گم نام جگہ مٹی میں دبا دیا، تو ان دنوں پابلو نر ودافرانس میں اپنے ملک کا سفیر تھا اور کینسر کے علاج کی غرض سے اپنے ملک آیا ہوا تھا۔ وہ سان تیاگو کے ایک ہسپتال میں داخل تھا ۔اپنے دوست آلاندے کی موت کے بارہ دن بعد وہ بھی فوت ہوگیا۔ مرنے سے تین دن پہلے اس نے اپنی یادداشتیں مکمل کیں، جسے اس کی بیوی متلد اچھپا کر چلی سے باہر لائی ۔
پابلو نرودا کی شاعری کی ان گنت جہتیں ہیں اور یہی اس کی شاعری کا کمال ہے ۔ اس کی نظموں میں ہر قسم کے ذائقے موجود ہیں ۔ چلی کا رنگ برنگا آسمان ، ہر آن متغیر سمندر ، جنگلوں اور چٹیل میدانوں سے بھری ہوئی زمین اور ان کے بدلتے ہوئے رنگ اور موسم انسانی دلوں کی گرمی اپنی محبوبہ اور بعد میں بیوی متلدا کے لیے بے پناہ محبت ،چلی کی تانبے کی کانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کا گہرا درد، کھیتوں میں پسینے سے شرابور نیم برہنہ کسانوں کی محرومیاں اور سپین میں جنرل فرانکو کی فوج کے خلاف لڑنے والے انٹر نیشنل بریگیڈ میں شامل سپاہی ادیب ، صحافی اور فن کار … یہ سب اس کی نظموں کے موضوع ہیں ۔ اس کی شاعری میں جانور، درندے ، پرندے ، درخت، پھول حتی کہ سیب ، پیاز ، آلو بھی مقامی لذت اور جذبے کی خبر دیتے ہیں ۔ وہ صحیح معنوں میں زمین کا وفادار بیٹا تھا ۔ اس نے بے حد سچائی اور ایمان داری سے انسانی اور روحانی اقدار کا تحفظ کیا کہ شاعر اور دانشور کا اولین فرض یہی بنتا ہے ۔
پابلو نیرودانے ایک جگہ شاعری کو ”انسان کے اندر کی گہرائی کا بلاوا“ کہا ہے۔انسان کے اندریہ گہرائی اپنے آپ پیدا نہیں ہوجاتی۔،اس کی محرک سردو گرمِ زمانہ کی چشیدگی ہے۔نیرودا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے اسلوب ِ شاعری نے عالمی سطح پر شعرا ء کو متاثر کیا ہے اور تیسری دنیا کے ممالک نے بطور خاص اثر لیا ہے۔برصغیر پاک و ہند سے نیرودا کا رابطہ ایک انقلابی شاعر کی حیثیت سے 1929ء میں ہوچکا تھا جب وہ انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کی کانفرنس میں شرکت کے لیے چلی سے کلکتے آیا تھا۔لیکن اس کا بھرپور تعارف اس وقت ہوا جب وہ 1950ء میں دوبارہ ہندوستان آیا۔اردو‘ ہندی اور بنگلہ دیشی ادبی حلقوں نے بھرپور اس کی پذیرائی کی اور ان زبانوں میں اس کی نظمیں ترجمہ ہوئیں ۔اردو،ہندی اور بنگلہ میں کئی شعراء نے نیرودا کے آفاقی لب و لہجہ کا اثر لیا ہے۔اردو میں فیض احمد فیض اور علی سردار جعفری کے ہاں اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔1971ء میں پابلو نیرودا کے لیے نوبل انعام کے اعلان ہونے تک اس کی زندگی میں38شعری مجموعے چھپ کر لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہو چکے تھے۔نیرودا کا گراں قدر کام چھ سو صفحات پر مشتمل ایک ایپک نظم General Poemہے۔
1973ء میں جب چلی میں آئندے(Auande) حکومت کا تختہ الٹا گیا اور اسے موت کے گھاٹ اتارا گیاتو اسی فساد و یورش کا فائدہ اٹھا کر ظلم کا خفیہ ہاتھ نے پابلو نیرودا کا کام بھی تمام کر دیا۔اس کے گھر اور اس کی کتابیں نذرِ آتش کر دی گئیں۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.