سینٹ جان پرس
(1887-1975)
تعارف وترجمہ:ڈاکٹر انیس ناگی
1960میں ادب کا نوبل انعام فرانسیسی شاعر سینٹ جان پرسSaint John Perse کو دیا گیا۔اسے شاعر وں کا شاعر کہاجاتا ہے۔ اس کی شاعری قارئین سے زیادہ شاعروں کی راہنمائی کا کام دے سکتی ہے۔ پرس کی نظمیں طویل ہیں لیکن تعداد کم ہیں۔ یہ بظاہر Odesکی ہیت میں لکھی گئی ہیں لیکن ان کی اپنی ایک خصوصی ہیئت ہے۔ اس کی شاعر ی نثری شاعری میں ایک انقلاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس نے نظم اور نثر کے درمیان ایک ایسا خطہ دریافت کیا ہے جو ہر دو سے زیادہ وقیع ہے۔
یہ غیر معمولی شاعر فرانسیسی حکومت کا سفارت کار تھاجس نے اپنے فرائض منصبی اور شاعری میں واضح تقسیم کی ہوئی تھی۔ سینٹ جان پرس کا اصل نام الیکسی لاژے (Alexis Lger) تھا جو جزائر اینٹیب(Guadeloupe Island) میں ایک فرانسیسی آباد کار گھر 1887ء میں پیدا ہوا۔ بچپن میں والد کی وفات کے بعد اس کے لواحقینِ خاندان سارا اثاثہ جمع کر کے فرانس منتقل ہو گئے ،جہاں الیکسی لاژے کی تعلیم و تربیت ہوئی۔ 1914 میں وزارتِ خارجہ کا سیکرٹری جنرل ہو گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جب نازی فوجوں نے فرانس پر قبضہ کر لیا تو پرس پیرس سے فرار ہو کر انگلستان چلا گیا۔ قبضے کے دوران نازی فوجیوں نے جہاں اس کی املاک کو نیست و نابود کر دیا وہاں انہوں نے اس کا پانچ طویل نظموں پر مشتمل شعری مجموعے کا مسودہ بھی جلا دیا تھا‘ جس پر وہ ایک مدت سے کام کرتا رہا تھا ۔1960ء میں اسے نوبل انعام برائے ادبیات دیا گیا۔ اس نے 1975 ء میں امریکہ میں وفات ہوئی۔
سینٹ جان پرس کی زندگی کا سب سے اہم کارنامہ اس کی معدودے چند نظمیں ہیں جو تعداد میں گیارہ اور ضخامت میں ڈیڑھ دو سو صفحات پر محیط ہیں جن کی اشاعت کا سلسلہ 1911ء میں شروع ہوا اور1963 میں انجام کو پہنچا۔بیسویں صدی کی مغربی شاعر ی میں اس کا نام غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ جب ایلیٹ نے اس کی شہرہ آفاق نظم ”انابس“ کا انگریزی ترجمہ کیا تو اس نے اس ترجمے کے دیباچے میں پرس کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف بڑے ادب سے کیا تھا۔ پرس کی نسبتاً کم شہرت کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ بیسویں صدی کے یورپ کی شعری تحریکوں سے اس طرح منسلک نہیں تھا جس طرح پاوٴنڈ تھا۔ یوں بھی وہ اپنے بارے میں اتنا ہی کم سخن تھا جتنا وہ اپنی شاعری میں فصیح تھا۔ وہ اپنی شاعری اور اپنے پیشے کو الگ الگ رکھتا تھا۔ وہ اپنے اصل نام سے نظمیں شائع کرنا نہیں چاہتا تھا۔ایک مدت کے بعد لوگوں کو معلوم ہوا کہ الیکسی لاژے اور سینٹ جان پرس ایک ہی شخص کے دو نام تھے۔ اس میں سارا قصور نقادوں اور قارئین کا ہی نہیں ‘اس میں پرس کا اسلوبِ شعر بھی برابر کا شریک ہے۔ البتہ 1960ء میں نوبل انعام برائے ادبیات پانے کے بعد اس کا شہرہ پسماندہ ملکوں میں پھیلنے لگا۔
پر س جس اسلوب ِشعر کا موسس ہے وہ یورپ کی رائج الوقت شاعری سے مختلف ہے۔ اس کا نہایت ہی تجرباتی لسانی اسلوب اور مصرع سازی کا فن، جس میں مصرعوں کا صرف ونحوی سیاق و سباق نہایت ہی غیر رسمی ہے، ایک نئی ”بوطیقا“ کا دستور العمل مرتب کرتا ہے۔ گو اس قسم کی تجرباتی شکل راں بو اور ملارمے کی منظومات میں ملتی ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ جو موضوعاتی شکوہ اور شاعرانہ وسعت پرس کی شاعری کا خاصہ ہے ،وہ ان دو شعرا کی خالقانہ رینج سے باہر ہے۔
پرس کی جملہ منظومات ایک ہی شعری اسلوب کے سلسلہ وار مدارج ہیں، جس کا عروج ”ہوائیں“ ہے۔ پرس کی شعری زندگی کا آغاز اس وقت ہوا‘ جب یورپی شاعری میں امیجزم، سریلزم اور اس نوعیت کے ادبی رجحانات کا دور دورہ تھا اور نظم آزاد بھی کافی حد تک رواج پا چکی تھی۔ پرس نے ان اسالیبِ شعر کو برتنے کی بجائے نثری نظم کی ہیئت کو بھرپور طریقے سے از سرِ نو ایجاد کیا۔ نثری نظم کی ابتدائی شکلیں قدیم الہامی کتابوں میں ملتی ہیں جس میں بودلیر نے نثری نظم کے انداز میں چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھیں لیکن یہ تحریریں اپنے شعری اوصاف کے باوجود محدود معنویت کی حامل ہیں۔ فرانسیسی ادب میں نثری نظم کی بھرپور مثال راں بو کی نظم ”جہنم میں ایک موسم“ ہے جو اپنی بے حد جذباتی اور نفسیاتی شدت، تجربات کے انوکھے پن کی بدولت ایک ایسی تحریر ہے جس میں شاعر نے نظم اور نثر کے لوازمات کے امتزاج سے ایک ایسا لسانی پیرانہ تیار کیا ہے جو نظم اور نثر دونوں پر حاوی نظر آتا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ پرس کا سب سے اہم کار نامہ اس کی طویل نظم ”ہوائیں“ ہے جو عہد حاضر کا ایک مبسوط ایپک ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نظم امریکہ کی آباد کاری کے بارے میں ہے کیونکہ اس میں جن پہاڑوں، جانوروں اور نباتات کا ذکر کیا گیا ہے ،وہ امریکہ کے جغرافیے سے مختص ہیں۔ یہ مشاہدہ درست ہے مگر اپنے وسیع تر معانی میں ”ہوائیں“ وسیع تر انسانی آگاہی کا استعارہ ہیں۔ یہ انسان کے ماضی میں سفر کی علامت بھی ہو سکتی ہیں۔ پرس نے اس میں ہوائیں کو معنی کا بنیادی موقف بنا کر اس کے بہت سے سیاق و سباق خلق کئے ہیں۔ پرس نے اس میں جدید اور قدیم کو ایک دوسرے سے اس طرح متصل کیا ہے کہ ایک احساس دو سطح پر مصروفِ کار دکھائی دیتا ہے۔
فرانس اور امریکہ میں سینٹ جان کی کتابیں بڑے تزک احتشام سے بڑے فارمیٹ پر شائع ہوتی ہیں۔ ان نظموں کے آخر میں جید قسم کے نقادوں کے مضامین اور تشریحی نوٹ بھی شائع ہوتے ہیں تاکہ قارئین کو پرس کی شاعری کے مفاہیم سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔ پرس کی آخری نظم ”پرندے“ تھی جس کی تصاویر مشہور فرانسیسی مصور جارج براک نے بنائی تھیں۔