1948 کا نوبل انعام یافتہ شاعر و نقاد:
ٹی ایس ایلیٹ (1888-1965)
1948میں ادب کا نوبل انعام امریکہ کے انگریزی شاعرٹی ایس ایلیٹT.S. Eliot کو ملا۔ایلیٹ نئی شاعری کا موجد ہے۔جہاں وہ اپنے دَور کا بڑا شاعر ہے‘ وہاں نقاد کی حیثیت سے بھی جدید ادب پر اس کا اثر گہرا ہے ۔ بعض نقادوں نے اسے بیسویں صدی کا میتھیو آرنلڈ کہا ہے۔ اس کی تنقید میں ایک منفرد انداز ِفکر و نظر ملتا ہے۔ ایک طرف وہ نئی شاعری کا ممتاز نمائندہ ہے تو دوسری طرف وہ روایت کا بھی پابند ہے اور بار بار اپنے کلاسیکی ہونے کا اظہار کرتا ہے ۔ کولرج نے لفظ تخیل(Imagination) کو نئے معنی دے کر اسے رومانی تنقید کا بنیادی لفظ بنا دیا تھا۔مگر کولرج کے برعکس‘ٹی ایس ایلیٹ تخیل کی بجائے ادراک (Sensibility)کا لفظ استعمال کرتا ہے ۔ایلیٹ رومانیت کے خلاف ہے اور مابعد الطبیعاتی ادراک کو اصل شاعری کہتا ہے ۔ روایت کے سلسلے میں وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کے لیے بڑے ریاض کی ضرورت ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ تاریخی شعور کی بھی۔ جب ادیب لکھے تو اسے نہ صرف اپنی نسل کا احساس رہے بلکہ یہ احساس بھی رہے کہ یورپ کا سارا ادب ہومر #سے لے کر اب تک اور خود اس کے اپنے ملک کا سارا ادب ایک ساتھ زندہ ہے اور ایک ہی نظام میں مربوط ہے ۔ کوئی فن کارتن تنہا اپنی کوئی الگ مکمل حیثیت نہیں رکھتا ۔ اس کی اہمیت اور بڑائی اسی میں مضمر ہے کہ پچھلے شاعروں اور فنکاروں سے اس کا کیا رشتہ ہے ؟
ایلیٹ شاعری اور جذبات کے سلسلے میں بڑی اہم بحث اٹھاتا ہے اور لکھتا ہے کہ شاعر کا کام نئے جذبات کی تلاش کرنا نہیں بلکہ معمولی جذبات کا استعمال کرنا ہے۔ ایلیٹ کسی فن پارہ کو کوئی ا یسی الہامی چیز تسلیم نہیں کرتا، جو شدتِ جذبات کے ساتھ ایک خاص شکل اور ایک خاص لمحے میں خود بخود وجود میں آگئی ہو ۔ وہ فن پارے کو ایک شے کی طرح سمجھتا ہے جسے سوچ سمجھ کر،سلیقے اور محنت سے تعمیر کیا جاتا ہے اور جس کا مقصد ایک مخصوص اثر پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ اس کی اصل شہرت کا آغاز اس کی طویل نظم” دی ویسٹ لینڈ“(The Waste Land) سے ہوا ۔ یہی وہ نظم ہے جس کا مسودہ ایلیٹ نے ایزرا پاؤنڈ کو پیرس میں دیا تھا اور پاؤنڈ نے کاٹ چھانٹ کر نہ صرف اس کو آدھا کر دیا تھا بلکہ اس کی ہیئت بھی مقرر کر دی تھی ۔ یہ نظم 1922ء میں شائع ہوئی ۔
ٹی ایس ایلیٹ 1888ء میں مسوری ( امریکہ ) کے صنعتی شہرسینٹ لوئی میں پیدا ہوا ۔ اس نے اپنی خاندانی روایت کے مطابق ہاروَرڈ میں تعلیم پائی اور چار سال تک فلسفے کی تعلیم حاصل کرتا رہا ۔ 1910ء میں سورین یونیورسٹی (پیرس ) میں ادب و فلسفہ کی تعلیم کے لیے چلا گیا اور وہاں سے واپس آکر اعلیٰ تعلیم کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی آگیا ۔ 1914ء میں امریکہ سے انگلستان چلا آیا اور 1915ء سے یہاں مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ 1917ء میں اسے وہاں کی شہریت بھی مل گئی ۔ ایلیٹ نے اپنی زندگی کا آغاایک ٹیچر کی حیثیت سے کیا ۔ کچھ عرصے تک وہ ایک بنک میں کلرک کی حیثیت سے بھی کام کرتا رہا ۔ 1917ء سے 1919ء تک وہ امیجسٹ(Imagist) تحریک کے رسالے ” ایگواسٹ “ کے نائب مدیر کے فرائض بھی انجام دیتا رہا ۔ 1922ء میں ” کرائی ٹیرئین “ Criterionکے نام سے ایک رسالہ جاری کیا جو 1939ء تک پابندی سے نکلتا رہا ۔ اس رسالے کا اثر ان نئے لکھنے والوں پر گہرا پڑا جو آج مشہور ادیب و شاعر کی حیثیت سے انگریزی ادب کا نام روشن کر رہے ہیں ۔ 1917ء میں اس کا پہلا مجموعہٴ کلام Prufrock and other Observationsاور 1919ء میں Poemsشائع ہوا ۔ اس عرصے میں اس کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔Collected Poems کے نام سے 1936ء میں نظموں کا مجموعہ شائع ہوا‘جس میں وہ نظمیں بھی شامل تھیں جو 1925ء میں ” پوئمز “ کے نام سے شائع ہوئی تھیں اور ان کے علاوہ 1909ء سے1935ء تک لکھی جانے والی ساری منتخب نظمیں بھی ۔ 1943ء میں اس کی طویل نظم The Four Quarterنیو یارک سے شائع ہوئی ۔ 1932ء میں اس نے منظوم ڈراموں کو انگریزی ادب میں پھر سے مروّج کرنے کا آغاز کیا اور 1985ء تک چھ منظوم ڈرامے لکھے۔۔ تنقید میں اس کی کئی قابلِ ذکر تصانیف ہیں ۔ 1948ء میں اسے ادب کا نوبل پرائز اور انگلستان کا سب سے بڑا اعزاز ” آرڈر آف میرٹ “ ملا ۔ 1965ء میں اس نے وفات پائی۔