1996 کی نوبل انعام یافتہ شاعرہ:
وِسلاواسمبورسکا1923
تعارف وترجمہ: شاہد ماکلی
1996میں ادب کا نوبل انعام پولینڈ کی خاتون شاعر وِسلاواسمبورسکاWislawa Szymborska) ) کو ملا۔اس وقت اس کی عمر73سال تھی۔اس نے اپنی شاعری میں انسانی مستقبل کے بارے میں مایوسی اور قنوطیت کا اظہار کیا ہے۔شاعری میں روزمرہ کے محاورات اور ضرب الامثال کا کثرت کے ساتھ استعمال کیا ہے مگراپنی فنکارانہ چابکدستی سے ان میں ایک تازگی اور نئی معنویت پیدا کر دی ہے۔
سمبورسکا 2جولائی1923کو مغربی پولینڈمیں کورنک(Krnik)میں پیدا ہوئی۔1931سے وہ کراکو(Krakow)میں رہ رہی ہے جہاں1945-1948کے دوران اس نے جیجی لونین یونیورسٹی میں پولینڈ کے ادب اور عمرانیات میں تعلیم حاصل کی۔اس کی شہرت کا آغاز تب ہوا جب مارچ1945میں وہاں کے ایک روزنامہ اخبار میں اس کی نظم”اِک لفظ ڈھونڈتی ہوں“ شائع ہوئی۔
1953-1981کے دوران سمبورسکا نے ہفت روزہZycie Literackie میں مدیر شاعری اورکالم نگار کی حیثیت سے کام کیا۔اب تک اس کے16شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔نوبل پرائز کے علاوہ مدیر سمبورسکا کوگوئٹے پرائز(1991)،ہرڈر پرائز(1995) اور پالش پین کلب پرائز(1996) بھی مل چکے ہیں۔
نظم 1:
تین عجیب ترین لفظ
جب میں لفظ”مستقبل“ اپنی زبان سے ادا کرتی ہوں
تو اس کے تلفظ کے لیے بھی ویسی ہی آواز نکالنا پڑتی ہے
جیسے”ماضی“ کے لیے
جب میں لفظ”خاموشی“ اپنی زبان سے ادا کرتی ہوں
تو گویا خود ہی اسے توڑ دیتی ہوں
جب میں لفظ”فنا“ اپنی زبان سے ادا کرتی ہوں
تو لگتا ہے جیسے”فنا “پر قابو نہیں پایا جا سکتا
نظم 2: گھر جاتے ہوئے
وہ گھر آیا، اس نے کچھ نہ کہا
صاف لگتا تھا کہ کوئی گڑ بڑ تھی
وہ مکمل طور پر کپڑے پہنے لیٹ گیا
اس نے اپنے سر پرکمبل کھینچ کر
گھٹنوں تک ڈھانک لیا
اس کی عمر تقریباً چالیس سال ہے
لیکن اِس لمحے نہیں لگتا
اس کا وجود اس وقت ایسے ہے
جیسے وہ اپنی ماں کے پیٹ میں تھا
جلد کی سات دیواروں اور محفوظ تاریکی میں لپٹا ہوا
کل وہ ایک جگہ حیاتیات کے موضوع پر
ایک لیکچر دے گا
اگرچہ اس وقت خمیدہ حالت میں ‘
گہری نیند سو رہا ہے