تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے لاہور حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ، اب واشنگٹن کی باری ہے، امریکا پر حملے سے دنیا کو حیران کردیں گے ،بیت اللہ محسود،فدائین اسلام کا ڈرون حملے اور فاٹا سے فوجی انخلا تک حملے جاری رکھنے کا اعلان۔ اپ ڈیٹ:
لندن (اْردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔31مارچ ۔2009ء ) کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے لاہور میں پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے کے علاوہ بنوں میں فوجی قافلے اور اسلام آباد میں سپیشل برانچ پر ہوئے تینوں حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔کسی نامعلوم مقام سے برطانوی خبر رساں ادارے سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بیت اللہ محسود نے کہاکہ ان کے گروپ کی کارروائیاں قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈرون حملوں کا بدلہ تھیں اور آئندہ چند روز میں مزید ایسے حملے کیے جائیں گے ۔دوسری جانب تحریک طالبان کے رکن اور خود کو فدائین الاسلام تنظیم کا ترجمان کہلانے والے عمر فاروق نے امریکی خبررساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ فاٹا سے فوج کے انخلاء ، امریکی ڈروں حملے بند اور لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کی رہائی تک حکومتی تنصیات اور اداروں پر حملے جاری رہیں گے ۔بیت اللہ محسود نے سکیورٹی فورسز کی جانب سے مناواں پولیس سینٹر کے قریب سے گرفتار کیئے گئے ایک افغان شخص ہجرت اللہ سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے کہیں اور سے گرفتار کرکے وہاں لایا گیا ہوگا۔چند روز قبل امریکی حکومت کی طرف سے بیت اللہ محسود کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے پچاس لاکھ ڈالر کی انعامی رقم کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس اعلان کے بعد یہ ان کا پہلا بیان ہے ۔بیت اللہ محسود نے کہاکہ جب تک جاسوس طیاروں کے حملے جاری رہیں گے اس وقت تک ہمارا انتقام بھی جاری رہے گا۔ اور اس کے آخر میں ایک ایسا حملہ ہوگا جو حکومت کے دل میں تیر ثابت ہوگا۔بیت اللہ محسود نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جمرورد کی ایک مسجد پر حملے سے لاتعلقی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مساجد کو نشانہ نہیں بناتے ۔ ’مسجدوں میں حملوں کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ہمارے علماء کی فکر کے مطابق مساجد میں فدائی حملے جائز نہیں ہیں۔لاہور میں ہی اس ماہ کے اوائل میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔امریکی جاسوس طیاروں کے حملے نہ روکے جانے کی صورت میں ان کا لائحہ عمل کیا ہوگا، اس بارے میں کالعدم تنظیم کے سربراہ نے دھمکی دی کہ آئندہ چند روز میں دو تین فدائی حملے اور بھی ہوں گے ۔تاہم انہوں نے ان حملوں کے مقامات یا وقت کے بارے میں مزید کچھ بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سرکاری سیکیورٹی اداروں کا امتحان ہوں گے ۔ایک سوال کے جواب میں کہ حملے تو امریکہ کر رہا ہے لیکن بدلہ عام پاکستانیوں سے کیوں لیا جا رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے امریکی صدر اوباما کی پالیسی کا خیرمقدم کیا ہے ۔ ’صدر زرداری کی پالیسی امریکہ کی پالیسی ہے ۔ وہ زبانی طور پر تو ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے ہیں لیکن خفیہ طور پر اس کی حمایت کرتے ہیں۔ان سے دریافت کیا کہ وہ خود بھی مبینہ جاسوسوں کو ہلاک کرنے کے باوجود زمینی خفیہ معلومات کے امریکی نظام کو ناکام نہیں بناسکے ہیں تو بیت اللہ کا کہنا تھا کہ یہ تو ہر وقت ہوتا ہے کہ مسلمان کمزور ہوتے ہیں ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے ہیں۔ ’یہ مسلمانوں کا امتحان ہوتا ہے اور آخری کامیابی انہیں کی ہوتی ہے ۔انہوں نے مناواں حملے میں ملوث افراد کے بارے میں کچھ بتانے سے انکار یہ کہتے ہوئے کیا کہ اس سے ان کے قبائل کے لیئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔امریکی کی جانب سے ان کی گرفتاری میں مدد پر پچاس لاکھ ڈالر کی انعامی رقم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے وہ خود نمٹیں گے ۔ ’ کچھ وقت لگے گا لیکن امریکہ کو میں خود سبق سکھاوں گا۔ انشا اللہ جب ہم انتقام لیں گے تو امریکہ کے اندر لیں گے ۔ تاہم فل الوقت بات امریکہ سے نہیں پاکستان سے بدلہ لینے کی ہے ۔ان کا دعوی تھا کہ انہوں نے امریکی انعام کے اعلان کے بعد اپنی نقل وحرکت میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے بلکہ اس میں اضافہ کر دیا ہے ۔ٹیلیفون پر انٹرویو کے دوران کہیں بھی بیت اللہ محسود کی آواز سے کسی دباوٴ کا کوئی تاثر نہیں ملا بلکہ بعض سوالات کے جواب میں تو وہ کھل کر بات کرتے رہے ۔۔لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں واقع پولیس کے تربیتی مرکز پر پیر کی صبح سات بجے کے قریب متعدد مسلح افراد نے حملہ کیا تھا اور پولیس کمانڈوز ساڑھے آٹھ گھنٹے کے آپریشن کے بعد دہشت گردوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے اور تربیتی سینٹر کی عمارت کو خالی کرا لیا گیا۔ اس آپریشن میں آٹھ پولیس اہلکار اور چار دہشت گرد ہلاک جبکہ سو کے قریب افراد زخمی ہوئے ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




