اگلا صفحہ

"لاہور پولیس پر ایک اور حملہ" پر مزید کوریج

اسلام آباد پولیس ریسکیو 15 پر خود کش حملہ ، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری،خود کش حملہ آور سمیت تین افراد ملوث تھے، نمازی نے حملہ آور کو دیکھ کر شور مچایا،فائر لگنے سے حملہ آور گر گیااور خود کو دھماکے سے اڑا لیا، ڈیوٹی پر موجود افسر کا بیان:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8جون ۔2009ء) اسلام آباد پولیس نے ریسکیو15 کے دفتر پر ہونیوالے خود کش حملے کی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ کارروائی میں خود کش حملہ آور سمیت ممکنہ طور پر تین افراد ملوث تھے ۔پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے کے وقت موقع پر موجود ڈیوٹی افسر نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا ہے کہ خود کش حملہ آور کمیٹی روم کے ایریا سے داخل ہو کر ریسکیو15 کے مرکزی دفتر میں پہنچنے کی کوشش میں تھا کہ دفتر میں واقع مسجد سے ایک نمازی نے مشکوک حملہ آور کو دیکھ کر شور مچایا،ڈیوٹی افسر کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے اپنے پستول سے فائر کیا جب کہ اسی دوران ڈیوٹی پر موجود دوسرے پولیس اہلکار اور دفتر کی چھت پرموجود سپاہی نے بھی فائر کھول دیا جس سے حملہ آور گر گیا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا ۔ حملہ آور کے دائیں بازو پر کالے رنگ کا ایک رومال بھی بندھا ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ڈیوٹی افسر اور ایک عینی شاہد کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ حملے میں ملوث دوسرے ملزمان کو سامنے آنے پر پہچان سکتے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ میں حملہ آور کی عمر16 سے17 برس اور قد5 فٹ6 انچ بتایا گیا ہے ۔ابتدائی رپورٹ پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ریسکیو15 کے قرب و جوار میں واقع رہائشی و کمرشل علاقے میں مقیم افراد اور ان کے پاس ٹھہرے ہوئے مہمانوں کی جانچ پڑتال اور کوائف کا پتا لگایا جا رہا ہے۔پولیس کے اعلیٰ افسران رپورٹ وفاقی وزارت داخلہ کو پیش کریں گے ۔

08/06/2009 21:59:24 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے