لاہور،ہر طرف قیامت کا سماں‘ چیخ وپکار‘ 4دہشت گردوں نے فائرنگ کی‘ عینی شاہدین،ہائی ایس وین کے ذریعے دھماکا کیا گیا‘ 10منٹ فائرنگ ہوتی رہی‘ ایک ہلکے دھماکے کے بعد زور دار دھماکہ:
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27مئی۔2009ء) دھماکے کے عینی شاہد عامر علی نے بتایا کہ میرا دفتر دھماکے کی جگہ سے تقریباً تیس چالیس گز کے فاصلے پر ہے۔ دس بجے کے قریب ایک ہلکے دھماکے کی آواز سنائی دی اور اس کے تھوڑی دیر بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ میرے دفتر کے شیشے ٹوٹ گئے اور میں معمولی زخمی ہوا۔ دھماکے فوری بعد علاقے میں دھوئیں کے بادل چھا گئے جبکہ ارگرد تمام عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور سامنے واقع بعض دکانوں کے دروازے تک ٹوٹے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ دھماکے کی جگہ کے سامنے گاڑیوں کے شو روم تھے جہاں کھڑی تمام گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے بعد امدادی ٹیمیں وہاں پہنچ گئیں اور لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنا شروع کر دیا۔ خفیہ ادارے کے اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ دس بجے کے قریب ہائی ایس ویگن کو ریسکیو ون فائیو کے دفتر اور حساس ادارے کے درمیان روکا گیا جس میں سوار چار افراد نے باہر نکل کر ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر فائرنگ شروع کی اور اس کے بعد عمارت کی جانب فائرنگ شروع کی۔ اسی دوران ہائی ایس وین ایک زور دار دھماکہ سے پھٹ گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد بھی فائرنگ کی آواز سنی گئی ہے۔ ایمرجنسی 15کی بلڈنگ میں ہونے والے دھماکے کے عینی شاہدین محمد اعجاز‘ شہزاد‘ نومی‘ فیصل نے بتایا کہ ایمرجنسی 15کی بلڈنگ کے قریب ایک سفید گاڑی تیزی سے آئی اور گاڑی میں سوار افراد نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے تھوڑی دیر بعد دہشتگردوں نے ہینڈ گرنیڈ پھینکا اور گاڑی کو بلڈنگ کے ساتھ ٹکرا دیا۔ بلڈنگ کے ساتھ جب گاڑی ٹکرائی تو ایسامحسوس ہوا کہ قیامت آگئی ہے۔ ہر طرف چیخ وپکار شروع ہو گئی اور بلڈنگوں کے شیشے دھماکوں کے بعد ٹوٹ گئے اور ہم لوگ دھماکے کے فوری بعد لیٹ گئے اور جب ہم نے دیکھا تو ہر طرف قیامت کا سماں تھا۔ دھماکے کے بعد دہشتگردوں اور پولیس جوانوں کے درمیان 10منٹ تک فائرنگ ہوتی رہی۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




