مجھے بے نظیر بھٹو کے پوسٹ مارٹم پر کوئی اعتراض نہیں تھا، اس بات کا پتہ چلا رہے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کو کس نے گاڑی سے باہر آنے کیلئے کہا تھا، صدر مشرف اور مسلم لیگ (ق) کیساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کا فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا انٹرویو:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔28جنوری۔2008ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مجھے بے نظیر بھٹو کے پوسٹ مارٹم پر کوئی اعتراض نہیں تھا، ریاست کو قانون کے تحت ازخود پوسٹ مارٹم کرنے کا اختیار حاصل ہے، ہم اس بات کا پتہ چلا رہے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کو کس نے گاڑی سے باہر آنے کیلئے کہا تھا، صدر پرویز مشرف اور مسلم لیگ (ق) کیساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کا فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا۔ پیر کو ایک انٹرویو میں آصف زرداری نے کہا کہ بے نظیر بھٹو انتہائی ذہین اور دلیر خاتون تھیں، ان کی وفات میرے لئے گہرا صدمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ کے ساتھ 20 سالہ ازدواجی رفاقت میں میرا زیادہ عرصہ جیل میں گزرا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عام انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لے گی، قومی اتفاق رائے کی حکومت کا فیصلہ آئندہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب میاں نوازشریف جیل گئے تو میں پہلا شخص تھا جس نے ان سے ہاتھ ملایا اگرچہ ہمارے زخم تب تک مندمل نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اپنی کمزوریوں کو طاقت میں تبدیل کیا ہے اور شخصیات پر مبنی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی دوسروں کے ساتھ ملکر کام کرنے کیئے تیار ہے اور ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر موقع دیا جائے تو ہم ہر کسی کے ساتھ کام کر سکتے ہیں، ہم قابل بھروسہ پارٹنرز اور اتحادی ہیں اور دوسروں سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ قابل بھروسہ ہوں کیونکہ ملک کو اس وقت سنگین خطرات لاحق ہیں اور موجودہ حکمرانوں کو صورتحال کی سنگینی کا ادراک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو گندم، پانی اور توانائی کی کمی کا سامنا ہے، مجھے یاد ہے کہ بے نظیر بھٹو نے ایک پاور پالیسی دی تھی لیکن سیاسی وجوہات کے باعث اس پر عملدرآمد نہیں ہوا جس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بے نیر بھٹو کے پوسٹ مارٹم پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور ریاست کو پوسٹ مارٹم کیلئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر سچ بولنے سے خوفزدہ ہیں لیکن ایک دن سچ بولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے بے نظیر بھٹو کے ایکسرے کئے لیکن سی ٹی سکین کی سہولت موجود ہونے کے باوجود ان کا سی ٹی سکین نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرے، یہ بیان ناپختہ ہے کہ خود کش حملے نہیں روکے جا سکتے اگر ضروری سیکورٹی فراہم کی جاتی تو بے نظیر بھٹو کے قتل کے سانحہ سے بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک اس نکتے پر سوچ رہے ہیں کہ کیا کسی نے بے نظیر بھٹو کو گاڑی کی سن روف سے باہر آنے پر ابھارا تھا یا نہیں کیونکہ ان کے ساتھ موجودہ تمام لوگ پارٹی کے سینئر کارکن تھے اور میرا خیال ہے کہ ان سب کو بعض شرپسندوں جو گاڑی کے آگے آ کر نعرے بازی کر رہے تھے، نے باہر آنے کیلئے راغب کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف اور مسلم لیگ (ق) کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کا فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا۔ فی الحال ہمارے زخم ہرے ہیں اور ابھی اس کا فیصلہ کرنے کا وقت نہیں۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے