بینظیر بھٹو کی شہادت کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا نشانہ بنانا اور پارٹی کو توڑنا تھا۔ پیپلز پارٹی:
واشنگٹن (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین 23. جنوری2008 )پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام کرائی جائیں۔واشنگٹن کے معروف تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن میں خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان اور سینیٹر جاوید لغاری نے کہا کہ اہم بات یہ معلوم کرنا نہیں ہے کہ بندوق کی لبلبی پر کس کی انگلیاں تھیں۔’یہ معلوم کرنا زیادہ اہم ہے کہ اس بہیمانہ قتل کے پیچھے کون سے ہاتھ کارفرما ہیں۔‘ شیری رحمان نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا نشانہ بنانا اور ان کی پارٹی کو توڑنا تھا لیکن 72 گھنٹوں میں پارٹی قیادت کی طرف سے نئی قیادت فراہم کرنے اور انتخابات کے لیے تیار ہوکر پیپلز پارٹی نے دونوں مذموم ارادوں کو ناکام بنا دیا۔شیری رحمان نے کہا کہ اگرچہ محترمہ کے قتل کے حوالے سے مختلف نظریے اور نقطہ ہائے نظر بیان کیے جارہے ہیں لیکن ان کی پارٹی کو اس بات پر شک ہے کہ القاعدہ یا اس طرح کی کوئی اور تنظیم اس قتل میں ملوث ہے۔شیری رحمان نے کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی کی گئی تو ان کی پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتیں بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ سینیٹر جاوید لغاری کا کہنا تھا کہ حکومت نے اب تک 18 اکتوبر کے سانحے کی بھی تحقیقات نہیں کی تو اس سے کس طرح توقع کی جائے کہ وہ محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل پر کچھ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ساکھ ختم ہوچکی ہے اور اس نے محترمہ کی طرف سے ان کے متوقع قاتلوں کے ناموں کی فہرست دیے جانے کے بعد ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی۔ امریکی دانش ور، سی آئی اے کے سابق افسر اور بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینیئر فیلو بروس رائڈل نے کہا کہ امریکی حکومتوں نے، چاہے وہ ڈیموکریٹ ہوں یا ری پبلکن، اکثریت نے ہمیشہ پاکستان میں آمرانہ حکومتوں کا ساتھ دیا ہے۔انہوں نے صدر مشرف کے اس بیان کو غلط قرار دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مغرب پر پاکستان میں جمہوریت کا بھوت سوار ہے۔ انہوں نے کہا ہمارے حکمرانوں نے پاکستان میں آمروں کو مضبوط اور جمہوریت کو کمزور کیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ جنرل مشرف کی حکومت کو 11 ارب ڈالر دینے کا کیا فائدہ ہوا ہے؟ انہوں نے کہا کہ آج بھی اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری اس علاقے میں دندناتے پھر رہے ہیں اور ہمارے خلاف منصوبے بنا رہے ہیں۔بروس رائڈل نے کہا کہ امریکی حکومت کو اس بات پر زور دینا چاہیے کہ 18 فروری کے انتخابات نہ صرف پروگرام کے مطابق منعقد ہوں بلکہ مشرف حکومت اس کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے کو یقینی بنائے۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے