بینظیربھٹوکے قتل کی ذمہ دار مشرف حکومت ہے۔نوازشریف۔۔۔ تحقیقات کیلئے آزادکمیٹی قائم کی جائے،جرمن اخبار کوانٹرویو:
برلن(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین 30. دسمبر2007 )سابق وزیراعظم پاکستان اور مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ بینظیربھٹو کے قتل کی ذمہ دار براہ راست مشرف حکومت ہے، سیکورٹی کے انتہائی ناقص انتظامات کاپول کھل چکا ہے ،محترمہ میرے لئے حقیقی بہن کی طرح تھیں، ایک جرمن اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہاکہ حکومت محترمہ بینظیر بھٹو کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طورپرناکام رہی ہے اور بے نظیربھٹو کے قتل کی صدر مشرف کی جانب سے کرائی گئی تحقیقات کو کوئی قبو ل نہیں کرے گا،انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں اورمحترمہ ماضی میں سیاسی حریف رہے ہیں لیکن ہم دونوں کے منشور میں بہت سے مشترک تھے ہم دونوں لمبے عرصہ تک ملک بدررہے اور دو دومرتبہ وزیراعظم بھی رہے، اسی لئے ہم نے ماضی کی تلخیوں کو ملا کر ایک نیا اتحاد بنانے کی کوشش کی ، ہم دونوں نے آمریت کیخلاف جدوجہد کی جس کیلئے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے، انہوں نے کہاکہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے روز وہ بھی راولپنڈی میں انتخابی مہم چلارہے تھے کہ اطلاع آئی کے محترمہ زخمی ہیں تو میں اپنی انتخابی مہم چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گیاتاہم اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔انہوں نے کہاکہ ملک کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار صدر پرویز مشرف ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقتدار سے الگ ہوجائیں، انہوں نے کہاکہ محترمہ کا قتل صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں کیخلاف انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہے اوراسی دن مسلم لیگ (ن) کے جلسے پر بھی فائرنگ ہوئی اور ہمارے چار کارکن جاں بحق ہوگئے ، نوازشریف نے کہا کہ وہ محترمہ کے قتل میں القاعدہ کے ملوث ہونے کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دینا چاہتے، محترمہ کے قتل کی تحقیقات کیلئے آزادانہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے لیکن صدر مشرف کے ہوتے ہوئے ایسا ممکن نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ اگر صدر مشرف بھی کمیٹی میں شامل ہوجائیں تو بھی نتائج کے ایک لفظ پر کوئی یقین کرے گا، انہوں نے کہاکہ بے نظیر بھٹو ہمیشہ سے سوجھ بوجھ والی خاتون رہی ہیں اور وہ میری حقیقی بہن کی طرح تھیں ، میاں نوازشریف نے کہاکہ شہادت سے دو روز قبل میری سالگرہ پرمحترمہ نے پھولوں کا گلدستہ بھیجا اور فون کرکے مبارکباد دی، جس میں ہم نے جلد ملاقات کا فیصلہ کیا،انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بینظیربھٹو جمہوریت کی بحالی کیلئے کوششیں کررہی تھیں اور وہ مشرف جیسے آمر کے ہاتھ مضبوط نہ کرنے والی خاتون تھیں تاہم محترمہ نے میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے کے باوجود اپنی طرف سے چند فیصلے کئے تاہم ہمیں ان پر مکمل بھروسہ تھا، بینظیر کی شہادت کے بعد وزیراعظم کے عہدے کیلئے مضبوط امیدوار کے سوال پر انہوں نے کہاکہ وہ فی الحال ایسا کچھ نہیں سوچ رہے کیونکہ مسلم لیگ(ن) اور پوری پاکستانی قوم اس وقت محترمہ کی شہادت کے غم میں ڈوبی ہوئی ہے، انہوں نے کہاکہ بینظیربھٹو کی موت ناقابل برداشت دکھ ہے، مشرف کی آمریت کیخلاف پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان قریبی رابطے ہیں، انتہاپسندی اوردہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ملک کو سب سے پہلی ضرورت جمہوریت کی ہے اس کے بعد باقی معاملات کے حوالے سے فیصلے کئے جائیں گے، صدر پرویز مشرف جانتے تھے کہ میرے اور بے نظیر کے الیکشن مہم شروع کرنے کے بعد ہمیں انتہاپسندی کا نشانہ بنایا جاسکتا تھا اس لئے وہ محترمہ کو راولپنڈی میں جلسہ کرنے سے روک سکتے تھے یا پھر ان کیلئے مناسب سیکورٹی کا بندوبست کیاجاتا لیکن صدر مشرف ایسا کرنے میں پوری طرح ناکام رہے ہیں۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے