بے نظیر کو قتل کیا نہ ہی طارق عزیز الدین کو اغواء کیا،بیت اللہ محسود۔30سے 40حکومتی اہلکار ہماری قید میں ہیں،حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے تو امن قائم ہوسکتا ہے،نامعلوم مقام سے میڈیانمائندوں سے بات چیت:
جنوبی وزیرستان(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین24مئی2008 )تحریک طالبان پاکستان کے امیر بیت اللہ محسود نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی طارق عزیز الدین کو اغواء کیا خود کش حملوں کو اپنے دفاع کیلئے ایٹم بم سمجھتے ہیں حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے تو امن قائم ہوسکتا ہے 30سے 40حکومتی اہلکار ہماری قید میں ہیں تحریک طالبان کامقصد پورے ملک میں شریعت کا نفاذ ہے امریکہ اسلامی ملک افغانستان پر حملہ کیا ان پر حملوں سے باز نہیں آئیں گے امن معاہدے پر بات چیت جاری ہے ۔جنوبی وزیر ستان میں نامعلوم مقام پر ایک سر کاری سکول میں پشاور اور غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بیت اللہ محسود نے کہاکہ ہم حکومت پاکستان کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے یہ ملک اور عوام کے مفاد میں نہیں ہے اگر حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے تو علاقے میں امن قائم ہوسکتا ہے ۔امن معاہدے سے متعلق بیت اللہ محسود نے کہاکہ اس سلسلے میں بات چیت ہورہی ہے امید ہے امن معاہدہ ہو جائیگا قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت کے 30سے 40اہلکار ہماری قید میں ہیں۔افغانستان میں پاکستان کے سفیر طارق عزیز الدین نے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ طارق عزیز الدین کو تحریک طالبان نے اغواء نہیں کیا بلکہ طالبان کے کسی اورگروپ نے انہیں اغواء کیا اور ہم نے اپنے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ نہیں کیا تھا اسی کسی اور گروپ نے طارق عزیز الدین کی رہائی کے بدلے اپنے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور کچھ ساتھی رہا ہوئے ہیں ان میں کوئی بھی اہم ساتھی نہیں ہے بیت اللہ محسود نے کہاکہ ہم نے کوئی تاوان کا مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی کوئی رقم وصول کی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہمارا سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے جب بے نظیر بھٹو پاکستان آرہی تھیں تو اس وقت انہوں نے کچھ بیانات دیئے تھے اور خدشات کااظہار کیا تھا اگر حکومت کے پاس بے نظیر قتل کے حوالے سے کوئی ثبوت ہیں تو انہیں پیش کرے انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ حکومت کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں اور اسلسلے جو گرفتاریاں کی گئی ہیں اور جو بیانات دلوائے گئے ہیں وہ زبردستی دلوائے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ اگر ہم نے بے نظیر بھٹو کو قتل کیا ہے تو ان کے والد اور بھائیوں کو کس نے قتل کیا ہے ؟انہوں نے کہاکہ تحریک طالبان کامقصد پورے ملک میں شریعت کا نفاذ ہے اور ہم سوات سمیت دیگر علاقوں میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں ۔افغانستان میں حملوں سے متعلق بیت اللہ محسود نے کہاکہ افغانسان ایک اسلامی ملک ہے اور وہاں غیر ملکی اور امریکہ نے حملہ کیا ہے اور ہم افغانستان پر حملہ کرینگے اور اس سے باز نہیں آئیں گے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم فدائی حملوں کو اپنے دفاع کیلئے ایٹم بم سمجھتے ہیں جنوبی وزیرستان میں غیر ملکیوں کی موجودگی کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ اس وقت یہاں کوئی غیر ملکی نہیں ہے اس سے پہلے اسامہ بن لادن کا بہانہ بنا کر افغانستان پرحملہ کیا گیا اور اب وزیرستان میں غیر ملکیوں کا بہانہ پر حملہ کر نا چاہتے ہیں لہذا مریکی حملے بند کئے جائیں ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے