پیپلز پارٹی نے اقتدار سمیت سب کچھ حاصل کرنے کے باوجود بے نظیر قتل کیس کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی ، ممتاز علی بھٹو:
کراچی(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین22مئی2008 ) سندھ نیشنل فرنٹ کے چیئرمین سردار ممتاز علی بھٹو نے کہا ہے کہ الیکشن جیتنے کے بعد پی پی نے مرکز بلوچستان ‘ سندھ اور سرحد حکومت میں اپنے قدم جمالئے ہیں لیکن یہ سب کچھ حاصل کرنے کے باوجود انہوں نے بے نظیر قتل کیس کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی ہے اور اس کیس کو اس کی لاش کے ساتھ ہی دفنا دیا ہے لیکن سندھ نیشنل فرنٹ ایسا ہر گز نہیں ہونے دے گی ۔ اپنی کراچی کی رہائش گاہ پر مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے ممتاز بھٹو نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی ‘ کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تو اس پر عمل بھی کیا ۔ لیکن آج یہ نعرہ کھوکھلا ہوکر رہ گیا ہے کیونکہ تین مرتبہ اقتدار میں آنے والی پیپلز پارٹی اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہں کرسکی اور صرف عوام کو تسلیاں ہی دی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھ حکومت کی تمام تر توجہ حلقہ این اے 207کے ضمنی الیکشن پر ہے جہاں سے آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور امیدوار ہے اور ابھی سے اس کو جیتانے کے تمام انتظامات پورے ہیں لہذا عوام کا پیسہ ضائع کرنے کے بجائے سندھ حکومت فریال تالپور کی بلامقابلہ جیت کا اعلان کردے کیونکہ الیکشن پر لاکھوں خرچ کرنے کے بعد بھی یہی اعلان ہونا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو کے نام پر آصف زرداری نے بہت دولت کمائی ہے لہذا اب ان کو اپنے باپ دادا کا نام بھی استعمال کرکے دیکھ لینا چاہئے کہ وہ کتنے پانی میں ہیں ۔ لہذا وہ اس کی ابتدا نوڈیرو میں خان بہادر احمد خان بھٹو کی رہائش گاہ کو فوری طور پر خالی کرکے کردیں انہوں نے کہا کہ اگر زرداری کے پاس اپنا خاندانی پس منظر اور حلقہ احباب نہیں ہے تو بھٹو خاندان پر اس کا بوجھ نہ ڈالیں ۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر نے زرداری کو اپنے سے بہت دور رکھا ہوا تھا اور انہیں پارٹی اور سیاست میں بھی مداخلت سے سختی سے منع کیا ہوا تھا جبکہ وطن واپسی پر بھی ان پر سخت ترین پابندیاں عائد کررکھی تھیں ۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے