ایوان بالا میں عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے قرارداد منظور:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22فروری۔2010ء)ایوان بالا نے امریکہ میں زیر حراست پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے متفقہ قرارداد منظور کر لی۔ پیر کو جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر طلحہ محمود نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بے گناہ ہے، اسے غیر قانونی طور پر کراچی سے اغواء کر کے افغانستان اور پھر امریکہ لے جایا گیا اور امریکہ میں انصاف کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ ڈاکٹر عافیہ کو سزا سے امریکہ کا اپنا تشخص مجروح ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم امریکہ کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہی ہے اور اس کا صلہ یہ دیا جا رہا ہے کہ ہمارے ہی بے گناہ شہریوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا جا رہا ہے اور امریکہ میں ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ قومی غیرت کا مسئلہ ہے۔ امریکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا نہیں کرتا تو خارجہ پالیسی اور امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی کی جائے۔ حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر قانون و انصاف و پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی سے متعلق قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے اقدامات کر رہی ہے، ان کے بیٹے کو بازیاب کرا لیا گیا ہے، ڈاکٹر عافیہ کے خلاف کیس کمزور ہے، کمزور شہادتوں اور شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ملتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کے خلاف ابھی کورٹ کا فیصلہ نہیں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقاتوں میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں اس قرارداد کی حمایت کرتی ہیں۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ حکومت عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے اور ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے سارا ایوان اس قرارداد کی حمایت کرے۔ سینٹ میں قائد ایوان سید نیئر حسین بخاری نے قائد حزب اختلاف وسیم سجاد، قرارداد پیش کرنے والے سینیٹر طلحہ محمود کی مشاورت سے قرارداد کا متن تبدیل کرتے ہوئے نئی قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ سینٹ آف پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو دی جانے والی سزا پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے بچوں کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔ایوان نے اس قرارداد کی متفقہ طور پر منظوری دیدی۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




