2003ء میں امریکہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا ‘ بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کا انکشاف:
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔7فروری۔2010ء) معروف قانون دان بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے انکشاف کیا ہے کہ 2003ء میں امریکہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ‘ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس عالمی عدالت انصاف میں لے جانا ضروری ہے‘ حکومت پاکستان نے عدالتی احکامات کو نظر انداز کر کے عالمی عدالت انصاف کو خط نہیں لکھا‘ امریکہ میں نیگرو جج کیلئے انصاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ذہنی توازن درست نہیں ہے تو اس پر مقدمہ بھی نہیں چل سکتا‘ پاکستانی سفارتخانے نے نہایت کمزور وکیل مہنگی قیمت پر حاصل کئے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے جاوید اقبال جعفری نے کہا کہ حکومت نے جان بوجھ کر عدالتی ہدایت کے باوجود بین الاقوامی عدالت انصاف کو 2003ء میں خط نہیں لکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب سیکرٹری داخلہ کمال شاہ ڈاکٹر عافیہ کے اغواء کی ایف آئی آر درج نہیں کرتے تو میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار اسلم سے کہا کہ وہ ان کو ہدایت کریں مگر انکا کہنا تھا کہ میں مہلک بیماری کا شکار ہوں میں انکے ساتھ جھگڑا نہیں کر سکتا کیونکہ یہ میری بات نہیں مانتے۔ انہوں نے کہا کہ 2003ء میں امریکہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر اسلام آباد ہائیکورٹ میں میری درخواست دائر کرنے کے بعد امریکہ نے ایسا نہیں کیا اور اب تمام صورتحال کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانا بہت ضروری ہے۔


خبریں و تصاویر تلاش کیجئے




