اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

آئی ایم ایف معاہدہ،دوہزارنومیں بجلی پرسبسڈی ختم کی جائےگی:
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔3دسمبر 2008 ء)آئی ایم ایف نےقرضے کے حصول کیلئے پاکستان کا لیٹر آف انٹینٹ جاری کردیا ہے جس کے مطابق جون دو ہزار نو تک بجلی پر سبسڈی ختم کر دی جائے گی اور آئندہ ماہ کے اختتام پر ڈسکاؤنٹ ریٹ میں مزید اضافے پر غور ہوگا ۔چوبیس صفحات پر مشتمل مراسلے میں تئیس ماہ کے آئی ایم ایف پروگرام کے نکات شامل کئے گئے ہیں۔لیٹرآف انٹینٹ کے مطابق رواں مالی سال جی ڈی پی کا گروتھ کا ہدف تین سےساڑھےتین فیصد ہوگا ۔آئی ایم ایف سے طے پانے والے معاہدے کے تحت رواں مالی سال افراط زر کی شرح بیس فیصد تک لانےکا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انکم ٹیکس اور جنرل سیلز ٹیکس میں چھوٹ کی کمی کے لئے جون تک پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جائے گی۔ٹیکس ریونیوکی شرح میں اضافے کے لئے جنرل سیلز ٹیکس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ رواں سال حکومت اسٹیٹ بینک سے مزید کوئی رقم حاصل نہیں کر سکے گی۔اسٹیٹ بینک کے اختیارات میں اضافے کے لئے بینکنگ کمپنیز آرڈیننس جون تک پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔اس قانون کے ذریعے اسٹیٹ بینک کو کسی بھی بینک انتظامیہ کی تبدیلی، بینکوں کی ملکیت لینے ،بینکوں میں ایڈمنسٹریٹر کے تقرر اور بینکوں کی تشکیل نو کا اختیار حاصل ہوگا۔آئی ایم ایف پروگرام میں حکومت نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ ماہ کے اختتام پر ڈسکاؤنٹ ریٹ میں مزید اضافے پر غور ہوگا تاہم ضرورت پڑنے پر اس سے پہلے بھی ایسا کیا جا سکے گا۔اسٹیٹ بینک کے ذخائر کے تیل کی درآمد کے لئے استعمال بتدریج ختم کر دیا جائے گا ۔ یکم فروری دو ہزار نو سے فرنس آئل اور خام تیل جبکہ یکم اگست دو ہزار نو سے ڈیزل اور دیگر ریفائن اشیاء اسٹیٹ بینک کے ذخائر سے نہیں خریدی جائیں گی۔

03/12/2008 12:21:44 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے