اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

جون 2009تک بجلی کے ٹیرف میں 62فیصد اضافہ کردیا جائیگا:
کراچی (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین30نومبر2008 ) حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک کو یقین دلایا ہے کہ جولائی 2008ء سے جون 2009ء تک بجلی کے ٹیرف میں 62 فیصد اضافہ کر دیا جائیگا۔ یہ یقین دھانی وزارت خزانہ کی جانب سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کورودارکے نام ایک خط میں کرئی گئی ہے۔اے ڈی بی سے 40 تا 50 کروڑ ڈالرکی چار قسطیں حاصل کر نے کیلئے وفاقی وزیر خزانہ نے اپنے خط میں بینک کو یقین دلایا ہے کہ مالی سال-08 2007 میں حکومت کو 114 ارب روپے کی جگہ 408 ارب روپے کی سبسڈی دینا پڑ گئی۔ جس کے باعث بجٹ کا خسارہ تقریباً دگنا ہو کر 7.4 فیصد ہوگیا۔ وزارت خزانہ نے خط میں لکھا ہے کہ جون 2009ء تک مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 4.7 فیصد کرنے کے وعدے پر قائم ہیں۔ جس کے لیے ہمیں سبسڈیز کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، دسمبر 2008ء سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر15روز بعد کرنے کی بجائے خود بخود عالمی قیمتوں کے مطابق ہونے لگے گا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ستمبر میں پاکستان میں گیسولین اور ہائی اوکٹین کی قیمت ان درآمدی مصنوعات سے 1.7 فیصد زیادہ تھی، خط کے مطابق حکومت پاکستان ان مصنوعات پرستمبر سے کسی طرح کی کوئی سبسڈی نہیں دے رہی۔ جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل پر سبسڈی کم کر دی گئی ہے اور ستمبر میں پاکستان میں مٹی کے تیل کی قیمت بیرون ملک سے درآمدہ قیمت سے 12فیصد اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 17فیصد کم تھی۔ انہوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک کو یقین دلایا کہ اس فرق کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔ بجلی کے پاور ٹیرف کے بارے میں انہوں نے لکھا کہ جون 2009ء تک 62فیصد اضافہ کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ پاکستانی عوام کو اس اضافے کی پہلی ”خوراک “ستمبر 2008ء میں دی گئی ہے، تاہم عوام کے دباوٴ پر اس میں تھوڑی بہت کمی ضرور کر دی گئی، لیکن ایشیائی ترقیاتی بینک سے کیے گئے وعدے کے مطابق بجلی کے ٹیرف میں اضافہ ناگزیر ہے۔

30/11/2008 12:18:00 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے