اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

بجلی کا بحران زیادہ سنگین اور تکلیف دہ صورت اختیار کر گیا ، نوازشریف:
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27مئی۔2010ء) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائدمحمد نوازشریف نے کہاہے کہ پاکستان کو درپیش مسائل سے نکلنے کیلئے ہمیں معاشی ،سماجی اور تعلیم کے میدانوں میں 28مئی کے عزم کو تازہ کرتے ہوئے انقلابی اقدامات اورمربوط و دورس اثرات کی حامل حکمتِ عملی اختیار کرناہوگی -28مئی یوم تکبیر کے موقع پر قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں نوازشریف نے کہاکہ 28مئی 1998ء کو جمہوری حکومت نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا یااور پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل ہوا-انہوں نے کہاکہ پاکستان کو ایٹمی طاقت کے طورپرسامنے لا کر پاکستانی عوام نے یہ ثابت کردیا تھاکہ وہ نہایت ہی پُر عزم اور باعمل قوم ہیں اور جب ہم کسی کام کو کرنے کا عزم کر لیں تو دُنیا کی کوئی طاقت اور بڑے سے بڑا دباؤ ہمیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتا-انہوں نے کہاکہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے مسائل کے مستقل حل اور پاکستان کو حقیقی فلاحی ریاست بنانے کیلئے معاشی خودمختاری کے حصول پر اپنی توجہ مرکوز کریں تاکہ غیر ملکی امداد اور قرضوں پر انحصار کم سے کم کیاجا سکے - اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کے سیاستدان ،سیاسی جماعتیں ،سماجی واقتصادی ماہرین اور اہل ِ فکرودانش سرجوڑ کر بیٹھیں اور پاکستان کو تمام میدانوں اور شعبہ زندگی میں ناقابل تسخیربنانے کی منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی طے کریں-انہوں نے کہاکہ پاکستان کوعظیم تر فلاحی مملکت بنانے کیلئے اپنی تمام تر کاوشوں ،وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زندگی کے تمام شعبوں خصوصاً معیشت اور تعلیم کے میدانوں میں انقلابی اقدامات اٹھانا ہونگے -نوازشریف نے کہاکہ پاکستانی قوم نہایت ہی جفاکش اور مضبوط ارادوں کی مالک ہے مگر بدقسمتی سے گذشتہ63سالوں کے دوران ملک میں سیاسی عدم استحکام اور بار بار پیش آنے والے فوجی آمریت کے شکنجوں کی وجہ سے ملک میں منصوبہ بندی کا شدید ترین فقدان رہااور پاکستان کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنے کی حکمتِ عملی بنانے کی جانب سرے سے توجہ ہی نہیں دی جا سکی-اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ آج 63سال کے بعد بھی ہم قوم کو بجلی اور پانی جیسی بنیادی ضروریات تک فراہم نہ کرسکے -آج بھی ملکی ضروریات اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ انفراسٹرکچر نظر نہیں آتا، بجلی کا بحران ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین اور نہایت ہی تکلیف دہ صورت اختیارکرچکاہے ،تعلیم اورتعلیمی معیار مسلسل پستی کا شکار ہے، دیگر شعبوں کی حالت بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں-لہذا ہمیں بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کرتے ہوئے اس بات کوذہن نشین کرناہوگا کہ مستقبل کی نقشہ گری میں زندہ ،باشعوراورباوقار قوم کے طورپر اپناشمار کرانے کیلئے ہمیں بہترین منصوبہ بندی اور معاشی حکمت عملی اپنا کر علم ،ثقافت ،معیشت اور بہترین نظامِ حکومت کے میدانوں میں اپنا لوہامنوانا ہوگا- ہمیں افراد کی بجائے اداروں کی مضبوطی اور سربلندی کیلئے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر قربان کرناہوگا-افراد کا آنااور جانامعمول کی بات ہے لیکن اداروں کی مضبوطی اور استحکام ملک کے استحکام اور بقاء کی ضمانت ہوا کرتا ہے-نوازشریف نے ملک کے اُن سینکڑوں انجینئروں اورمایہ نازسائنسدانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ قوم کے اِن سپوتوں کی شب و روز کی محنتوں اور بھرپورصلاحیتوں کی وجہ سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بن گیا-اب انہی صلاحیتوں اور جذبوں کوبروئے کارلاکر ہمیں پاکستان کی معیشت کوترقی اور استحکام کی جانب گامزن کرناہوگا،تاکہ ملک میں خوشحالی ، عوام کوتمام سہولیات اور باعزت رو زگار کی فراہمی اور غربت کاخاتمہ یقینی بنایاجاسکے-

27/05/2010 18:36:10 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے