اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

لاہور،وزیر اعظم کی طرف سے نوٹس لینے کے بعد لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں دو گھنٹے کی کمی کے احکامات جاری ‘ وزیر پانی و بجلی خود مانیٹرنگ کرینگے،بجلی کی آنکھ مچولی سے تنگ شہریوں کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے ‘ٹائر جلا کر جی ٹی روڈ بلاک کر دی گئی ،گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کے باوجود واپڈا کی طرف سے اضافی بل بھجوائے جارہے ہیں ‘ لوڈ شیڈنگ ختم نہ کی گئی تو بلوں کی ادائیگیاں بند کر دی جائینگی‘مظاہرین:
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11اپریل ۔2010ء)بد ترین لوڈ شیڈنگ کیخلاف تاجروں اور شہریوں کے مظاہروں کے بعد وزیر اعظم کی طرف سے نوٹس لینے کے بعد لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں دو گھنٹے کی کمی کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں تاہم چھٹی کے روز بھی بجلی کی آنکھ مچولی سے تنگ شہریوں نے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے اور حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی جبکہ شاہدرہ کے رہائشیوں نے راوی ٹول پلازہ کے قریب ٹائر وں کو آگ لگا کر اسلام آباد اور لاہور کے درمیان زمینی رابطہ منقطع کر دیا ۔ دوسری طرف بجلی کا شارٹ فال 4600میگاواٹ پر برقرار ہے جبکہ وفاقی وزیر پانی وبجلی نے آئندہ خودتمام شہروں کی لوڈ شیڈنگ مانیٹرکرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ کے دورے پر گئے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے تاجروں اور شہریوں کے لوڈ شیڈنگ کیخلاف احتجاج کا نوٹس لینے کے بعد وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویزاشرف نے پٹرولیم حکام اور تیل کمپنیوں سے ہنگامی مذاکرات کیے اورلاہورمیں لوڈشیڈنگ کادورانیہ دوگھنٹے کم کرکے 9گھنٹے اورنواحی دیہات میں 11گھنٹے کردیا تاہم شہر میں چھٹی کے روز مرمت کے نام پر کئی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی گئی ۔ ڈی جی انرجی مینجمنٹ محمد خالدکا کہنا ہے کہ 15اپریل تک حبکو اورکوٹ ادو سمیت متعدد بند پاور پلانٹس سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی ملنا شروع ہوجائے گی اورجون جولائی میں نئے پاور پلانٹس آنے سے شارٹ فال 2ہزار میگاواٹ رہ جائے گا جس سے لوڈشیڈنگ کادورانیہ کم ہوکر6سے 8گھنٹے رہ جائے گا۔ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں دس سے بارہ گھنٹے اور دیہی علاقوں میں سولہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔فیصل آباد کے شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ آٹھ گھنٹے سے زائد اور دیہی علاقوں میں دس گھنٹے سے تجاوز کرگیا ہے۔دوسری طرف چھٹی کے روز لوڈ شیڈنگ کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا جسکے خلاف شہریوں نے مختلف مقامات پر زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ۔ سبزہ زار ‘صدر ‘ بیگم پورہ ‘ مزنگ ‘ راوی روڈ سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع کے شہروں میں بھی شہریوں نے لوڈ شیڈنگ کے خلاف زبردست احتجاج کیا ۔ شاہدرہ کے رہائشیوں نے لوڈ شیڈنگ کے خلاف راوی ٹول پلازہ کے قریب ٹائر وں کو آگ لگا کر احتجاج کیا جس سے اسلام آباد اور لاہور کے درمیان زمینی راستہ منقطع ہو گیا جبکہ جی ٹی روڈ پر میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کے باوجود واپڈا کی طرف سے اضافی بل بھجوائے جارہے ہیں ‘ اگر حکومت نے لوڈ شیڈنگ ختم نہ کی تو واپڈا کو بلوں کی ادائیگیاں بند کر دی جائیں گی ۔ سولہ گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف فیصل آباد،گوجرانوالہ اور ملتان میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔مظاہرین نے ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کردی اور شدید نعرے بازی کی گئی۔پیپکو کے ڈائریکٹر جنرل محمد خالد نے کہا ہے کہ تین سو میگاواٹ کے چشمہ نیوکلیئر بجلی گھر کو مرمت کے لئے جون تک بند کردیا گیا ہے لیکن گدو بجلی گھر میں ایک سو اسی میگاواٹ کا بند یونٹ نے دوبارہ پیداوار شروع کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر پانی و بجلی کی ہدایت پر اتوار کے روز بھی دفاتر کھول کر لوڈ شیڈنگ کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے‘مارکیٹوں میں شام چھ بجے سے رات دس بجے تک لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد پیر سے ہونے کا امکان ہے۔


11/04/2010 20:31:24 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے