اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

ملک بھر میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے حکومت نے سرکاری دفاتر میں ہفتے وار دو روز کی تعطیل کا اعلان کر دیا، تمام دکانیں رات آٹھ بجے بند کر دی جائیں گی،وزیراعظم گیلانی کا توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے116ارب روپے کے پیکج کا اعلان، سہ روزہ کانفرنس میں دی گئی تجاویز پر عملدرآمد کا ہر پندرہ روز بعد جائزہ لیا جائے گا:
اسلام آبا د (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔22 اپریل ۔2010ء)وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ایک سو سولہ ارب روپے کے پیکج کا اعلان کر دیا ۔ سہ روزہ کانفرنس میں دی گئی تجاویز پر عملدرآمد کا ہر پندرہ روز بعد جائزہ لیا جائے گا ۔ اسلام آباد میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے منعقد ہ سہ روزہ کانفرنس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بجلی کی پیداوار کے لئے فوری ، قلیل مدتی ، طویل مدتی اور بچت کے منصوبے شامل ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ قلیل مدتی منصوبوں کے سلسلے میں دس آئی پی پیز پائپ لائن میں ہیں ان سے تین سو میگاواٹ فوری طور پر اور سال کے اختتام تک ساڑھے تیرہ سو میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی ۔ طویل مدتی منصوبوں میں رینٹل پاور کے ذریعے ساڑھے پانچ سو میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی اور اس کے علاوہ نیوکلیئر ، ہوا اور کوئلے سے توانائی کا حصول ممکن بنایا جائےگا ۔ بچت کے ذریعے پانچ سو میگاواٹ بجلی بچائی جائے گی جس کے لئے چاروں صوبوں میں ایریا وائز پروگرام کا اعلان ہو گا ۔ مڈ ٹرم منصوبوں کی مد میں ایک سو سولہ ارب روپے فوری طور پر پاور سیکٹر میں خرچ کیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ توانائی کا بحران فوری پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کا ایک پس منظر ہے اوریہ ہمیں ورثے میں ملا ۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ حکومت پاس وسائل ہونے کے باوجود بجلی فراہم نہیں کی جا رہی ، کوئی حکومت ایسی نہیں کہ وہ اپنی معیشت کو تباہ کرنا چاہتی ہو ، کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے معیشت کا مضبوط ہونا ضروری ہے ۔ ہم نے اس کے لئے اقوام متحدہ اور احباب پاکستان سمیت تمام فورمز پر اس مسئلے کو اٹھایا ہے ۔ سیاسی قیادت نے مفاہمت کے ذریعے اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی سمیت دیگر مسائل پر عوام کو مایوس نہیں کیا اور اس بحران پربھی قابو پا لیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وزراءاعلیٰ کا شکرگزار ہوں جنہوں نے بجلی کے بحران پر قابوپانے کے لئے وقت دیا۔
ملک بھر میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے حکومت نے سرکاری دفاتر میں ہفتے وار دو روز کی تعطیل کا اعلان کر دیا جبکہ تمام دکانیں رات آٹھ بجے بند کر دی جائیں گی ۔ اسلام آباد میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے منعقدہ سہ روزہ کانفرنس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ سرکاری دفاتر میں میں پچاس فیصد بجلی استعمال کی جائے گی اور20 گریڈ سے نیچے کا افسر ائیرکنڈ یشنڈ استعمال نہیں کر سکے گا جبکہ وزیراعظم ہاﺅس سمیت تمام سرکاری اداروں میں اے سی دن گیارہ بجے کے بعد استعمال کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صنعتی ادارے ہفتے میں متبادل چھٹی کریں گے اور تمام بل بورڈز کی بجلی کاٹ دی جائے گی ۔ شادی ہال صرف تین گھنٹے کا فنکشن کر سکیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ کے ای ایس سی کے ذمے 41 ارب روپے واجب الادا ہیں ، پیپکو کی جانب سے کراچی میں تین سو میگاواٹ بجلی کم کر دی جائے گی اور اب کراچی کو 650 میگاواٹ کے بجائے 350 میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے گی ۔ وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ ملک بھر سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا اور ان اقدامات سے اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں 33 فیصد کمی آئے گی ۔ دوہزار سترہ میں 36 ہزار میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے ۔

22/04/2010 16:11:34 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے