اگلا صفحہ پچھلا صفحہ

"بجلی کا بحران، عوام پریشان" پر مزید کوریج

لوڈشیڈنگ کیخلاف ملک بھر کی تاجر برادری اور عوام سڑکوں پر نکل آئے:
راولپنڈی+حیدر آباد+جہلم +دینہ+وہاڑی +ملتان +فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔17 اپریل ۔2010ء)ملک کے مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ طویل ہوناشروع ہوگیا ہے اور ہفتہ کو راولپنڈی، حیدر آباد، جہلم، ملتان، وہاڑی، فیصل آباد، نوشہرو فیروز اور دیگر شہروں میں تاجر برادری اور عوام سڑکوں پر نکل آئے مظاہرین نے ٹائر جلا کر کئی مقامات پر جی ٹی روڈ اور اہم چوک بلاک کر دیئے۔ واپڈا کے کئی دفاترکا گھیراؤ کیا املاک اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا جبکہ پولیس نے مختلف مقامات پر طاقت کا استعمال کر تے ہوئے ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس پھینکی جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے اور تین افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں جبکہ کئی مقامات پر متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا مظاہرین نے وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کے پتلے جلائے اور ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جبکہ کئی مقامات پر بجلی کے بل جلائے گئے اور مختلف سیاسی و تاجر رہنماؤں نے دھمکی دی کہ اگر لوڈ شیڈنگ پر فوری طورپر قابو نہ پایا گیا تو حکومت کو سول نافرمانی کی تحریک کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ہفتہ کو راولپنڈی کی تاجربرادری بھی لوڈشیڈنگ کے خلاف میدان میں نکل آئی انجمن تاجران راولپنڈی پراچہ گروپ کے زیر اہتمام ہفتہ کی دوپہر راجہ بازار  فوارہ چوک میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تاجروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے عوام نے بھی بھرپور ساتھ دیا روڈ پر ٹائر جلائے گئے اور وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کا پتلا نذر آتش کیا گیا لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کے ہاتھوں تنگ تاجر برادری اور عوام نے لوڈ شیڈنگ نا منظور  راجہ لوڈ شیڈنگ کو برطرف کر و اور مہنگائی کے خلاف نعرہ بازی کی مشعل مظاہرین نے پتلا نذر آتش کرنے سے قبل اسے لاٹھیاں ماریں جس پر راجہ پرویز اشرف کا نام تحریر تھا احتجاجی مظاہرہ کی قیادت ملک شاہد غفور پراچہ نے کی جبکہ مختلف کلاتھ مارکیٹوں اور دیگر بازاروں کی تنظیموں کے عہدیدار شیخ سلیم  ملک وحید پراچہ  نعیم شیخ عرف گڈو اور شہناز رفیق نے احتجاجی مظاہرین سے خطاب کیا ملک شاہد غفور پراچہ نے کہاکہ ہم حکومت کے خلاف نہیں اس ملک میں طویل عرصہ اور سیاسی جدوجہد کے بعد جمہوریت آئی ہے لوگوں کی سوچ تھی کہ اب مسائل سے چھٹکارا مل جائے گا مگر مسائل بڑھتے چلے گئے انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کی ایماء پر حکومت نے تاجروں اور عوام سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس وصولی کے منصوبہ پر کام شروع کر دیا ہے اسمبلیوں سے منظوری کے بعد اسے نافذ کر دیا جائیگا جس سے مہنگائی میں خوفناک اضافہ ہو گا انہوں نے کہاکہ لو ڈشیڈنگ کے دور انیہ میں مسلسل اضافہ نے عوام کی زندگی اجیرت اور کاروبار کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے حکومت توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے ٹھوس منصوبوں پر عمل کر نے کے بجائے تاجروں اور عوام کو محض لالی پاپ دینے پر تلی ہوئی ہے مگر اب تاجر اور عوام تنگ آ چکے ہیں حکومت کو چاہیے کہ تمام تر سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر کالا باغ ڈیم سمیت دیگر ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں پر کام شروع کیا جائے انہوں نے کہاکہ بعض مفاد پرست حکومت کی کاسہ لیسی میں تاجر برادری میں نفاق ڈالنے کی سازش کررہے ہیں ہم ان مفاد پر ست ٹولہ کے عزئم کو ناکام بنا دینگے ۔ تاجروں نے کہاکہ تاجر برادری کا مطالبہ ہے کہ وزیر پانی و بجلی کو برطرف کیا جائے ۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے پلیٹ فارم سے شہر وچھاوٴنی کی 250 کے قریب مرکزی و مقامی تاجر تنظیموں نے بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے تحت راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے تمام صنعت کار ، برآمد و درآمد کنندگان ، ہول سیلرز اور پرچون فروش مشترکہ احتجاجی ریلیاں اور جلوس نکالے ۔ جس کے بعد مرکزی وصوبائی تنظیموں اور تمام چیمبر کے اشتراک سے شٹر ڈاوٴن ہڑتال کی گئی ۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر کاشف شبیر نے ملک میں جاری لوڈ شیڈنگ کو حکومت کی ناقص حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 19 ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداواری استعداد موجود ہے جبکہ پاکستان میں بجلی کی کل ڈیمانڈ 15 ہزار میگا واٹ ہے ۔ اس کے باوجود حکومت رینٹل پاور پراجیکٹس پر زور دے کر ملک میں بجلی کو عام آدمی کی پہنچ سے دو رکرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی صورت میں گندم اور آٹے کے علاوہ ہر قسم کی اشیاء اور سروسز پر15 فیصد ہے ۔ مجو ز و ٹیکس کومہنگائی بم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں توانائی ، تجارتی ،زرعی اور معاشی پالیسی وضع کرنے میں ناکام ہو چکی ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت مجموعی خسارہ 107 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے ۔ ایکسپورٹ کی مد میں سالانہ 70 بلین روپے اور جی ڈی پی کی مد میں سالانہ 219 بلین روپے خسارے کا سامنا ہے ملک میں اس وقت بے روزگاری کی تعداد 4 لاکھ تک پہنچ چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت بجلی کا کوئی بحران نہیں بجلی کے مصنوعی بحران کے ذریعے مفاد پرست حکمران اور پالیسی ساز ملکی مفادات اور قومی ضروریات کو داوٴ پر لگا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مئی کے مہینے میں ملک میں سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کا اعلان بھی ملکی انڈسٹری کو تباہ کرنے کی سازش ہے حکومت آر پی پیز کو گیس کی سپلائی دینے کے لیے صنعتوں کو گیس کی سپلائی بند کی جا رہی ہے اسی طرح نیٹو فورسز کو پٹرول 40 روپے لٹر دے کر اپنی عوام کو وہی پٹرول 80 روپے لٹردیا جا رہاہے انہوں نے کہا کہ اگر حالات یہی رہے اور حکومت نے ا پنی پالیسیوں پر فوری نظر ثانی نہ کی تو ملک میں سول نافرمانی کی تحریک شروع ہو سکتی ہے ۔ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین نے احتجاج کے دوران حکومت کے خلاف نعرے لگا ے اور وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف سے مستعفی ہونیکا مطالبہ کیا ۔فیصل آباد میں روزانہ بارہ سے پندرہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کے خلاف مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا جس کے دور ان کئی مقامات پر مظاہرے کئے گئے اور مظاہرین نے جن میں تاجر اور صنعتکار شامل تھے ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں ۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ان رہنماؤں نے کہاکہ طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے نتیجے میں کروڑوں لوگ بے روز گار ہو چکے ہیں اور معیشت تباہ ہو چکی ہے ۔حکومت اگر اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتی تو اسے اقتدار پر قابض رہنے کا کوئی حق نہیں ۔اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے ۔ حیدر آباد کے بیش تر علاقوں میں بجلی کی عدم فراہمی پر لوگوں کا احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور لوگوں نے مظاہرے کر کے قومی شاہراہ کو کئی مقامات پر بلاک کر دیا ۔ دوسری جانب ملک میں بجلی کا شارٹ فال پانچ ہزار دس میگاواٹ پہنچ گیا ہے جس کے باعث بڑے شہروں میں دس سے بارہ اور چھوٹے شہروں اور دیہات میں اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ جہلم کے علاقے دینہ میں مشتعل مظاہرین نے لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ون فائیو کے دفتر کو آگ لگا دی۔پولیس نے مشتعل مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے جبکہ تین افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ مظاہرین نے جی ٹی وی روڈ پر قائم ون فائیو کے دفتر کا گھیراو کر کے پتھراؤ کر دیا اور کئی مقامات پر ٹائر جلا کر جی ٹی روڈ بلاک کر دی جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ۔پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو منتشر کر نے کیلئے پولیس کو لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ کر نے کا حکم دیا جس کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے لیکن وقفے وقفے سے پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جس میں کئی افراد زخمی ہوگئے جبکہ دس سے زائد افراد کو حراست میں لینے کی اطلاعات ملی ہیں ۔مظاہرے کی وجہ سے لاہور سے راولپنڈی آنے والی ٹریفک کئی گھنٹے تک معطل رہی اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا ۔ملتان میں تاجروں اور صنعتکاروں نے عوام کے ساتھ مل کر کچہری چوک  گھنٹہ گھر اور دیگر علاقوں میں مظاہرے کئے اور ٹائر جلا کر شہر کے اہم چوکوں کو بلاک کر دیا گیا جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے تاجر رہنماؤں نے کہاکہ طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پاورز لومز اور دیگر گھریلو سڑکیں مکمل طورپر بند ہو چکی ہیں جس سے ہزاروں گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں ۔موجودہ حکومت اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا تو ا سے مستعفی ہو جانا چاہیے ۔وہاڑی میں بھی تاجروں نے جلوس نکالا جس میں شریک لوگوں نے کتبے اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لوڈ شیڈنگ کے خلاف نعرے درج تھے ۔مظاہرین فوری طورپر لوڈشیڈنگ ختم کر نے کا مطالبہ کررہے تھے ۔نوشہرو فروز سمیت سندھ کے کئی شہروں سے بھی احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں جن میں لوگوں نے واپڈاکی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا اور کئی مقامات پر سڑکیں بلاک کر دیں ان کا مطالبہ تھا کہ لوڈشیڈنگ فوری طورپر ختم کی جائے ۔تاجر رہنماؤں نے کہاکہ اٹھارہ  اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی باوجود بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور واپڈا کے حکام اپنی نا اہلی چھپانے کیلئے عوام کو تختہ مشق بنا رہے ہیں ۔انہوں نے اعلیٰ حکام سے بلاجواز بلوں کا نوٹس لینے کابھی مطالبہ کیا ۔

17/04/2010 18:35:34 : وقت اشاعت
پچھلی خبر مركزی صفحہ اگلی خبر
تمام خبریں
یہ صفحہ اپنے احباب کو بھیجئیے
محفوظ کیجئے
پرنٹ کیجئے